Beiman
2.2K views
2 days ago
#lailatul qadr ki fazilat #shabe qadar (lailatul qadar) mubarak ho....... #Lailatul Qadr ki Dua #🤲क़ुरान शरीफ़📗 #अल्लाहु अकबर 📜`شب قدر کی اہمیت اور فضیلت` *انسان 83 سال چار مہینے عبادت کرتا رہے لیکن اگر اس کے مقابلے میں اسے ایک رات شب قدر یعنی لیلۃ القدر کی مل جائے تو 83 سال چار مہینے کی عبادت سے بھی زیادہ اجر و ثواب اللہ جل شانہ عطا فرما دیتے ہیں۔* `ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:` *اللہ تعالی نے پورے کا پورا قرآن لوح محفوظ سے اسمانی دنیا پر بیت العزت بنایا،۔ پھر اسی طرح رفۃ رفتہ دن اور رات 23 سالوں میں اپنے پیغمبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قران کو مکمل کیا.* `اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:` *اِنَّـآ اَنْزَلْنَاهُ فِىْ لَيْلَـةِ الْقَدْرِ* *بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں اتارا ہے۔* *وَمَآ اَدْرَاكَ مَا لَيْلَـةُ الْقَدْرِ.* *اور آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے۔* *لَيْلَـةُ الْقَدْرِ خَيْـرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ.* *شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔* *تَنَزَّلُ الْمَلَآئِكَـةُ وَالرُّوْحُ فِيْـهَا بِاِذْنِ رَبِّـهِـمْ مِّنْ كُلِّ اَمْرٍ.* *اس میں فرشتے اور روح نازل ہوتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام پر۔* *سَلَامٌ هِىَ حَتّـٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ.* *وہ صبح روشن ہونے تک سلامتی کی رات ہے۔* `حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی روشنی میں اس رات کی ایک فضیلت اور بیان کی ہے:` *یہ ایک ایسی رات ہے اس میں ہر ایک چیز کا فیصلہ کیا جاتا ہے,* *لیلۃ القدر ہر سال کے بعد ایک رات اتی ہے اور یہ مبارک رات ہے جس میں پوری سال کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔اللہ تعالی زندگی کے فیصلے، امیدوں کی فیصلے بھی کرتے ہیں، رزق کے فیصلے بھی کرتے ہیں اور اس طرح کے دیگر فیصلے بھی کرتے ہیں وہ اسی رات میں ہوتے ہیں۔* `ابو مالک رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں:` *اس سال سے لے کر اگلے سال تک کے جتنے فیصلے ہیں وہ اسی رات میں سنائے جائیں گے۔*اس دن سے، اس رات سے اگلی سال، اس رات تک جتنے لوگ پیدا ہوں گے، جتنے لوگوں کو رزق ملے گا اور جتنے لوگوں کو موت ائے گی اور جتنے لوگوں پر مصیبت آئے گی سارے فیصلے اللہ جل شانہ اس رات میں فرما دیتے ہیں،* *تو یہیں برکت والی رات ہے, یہی لیلۃ القدر ہے، یہی رمضان میں اتی ہے، اس میں ہی سارے سال کے فیصلے کیے جاتے ہیں، اس لیے اس رات کا اہتمام انسان کو کرنا چاہیے* *لیلۃ القدرۃ تو ہزار مہینوں سے افضل ہے اور 83 سال چار مہینے اگر کوئی عبادت کرے تو اس سے بھی افضل عبادت کا اجر وثواب اسکو ایک رات عبادت کرکے میں مل سکتا ہے* `رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:` *اس رات سے جو محروم کر دیا گیا وہ بہت بڑی خیر سے محروم کر دیا گیا.* *کتنی بڑی بات کہہ دی اللہ کے رسول نے کہ اس رات کی خیر سے وہ ہی شخص اپنے آپ کو محروم رکھتا ہے جو واقعتا رب کی رحمت سے محروم ہوتا ہے۔* *اس سے بڑا کوئی محروم نہیں کہ جس کو `اللہ رب العزت کریم` نے اتنا مختصر موقع دیا کہ وہ `زندگیاں، عبادتوں، ریاضتوں` میں لگانے والے کو اتنا مقام نہیں ملتا جتنا اللہ تعالی ایک رات عبادت کرنے والوں کو اتنا مقام عطا کر دیتے ہیں* *سبحان اللہ*💓 `حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرما کا فرمان ہے:` *کہ اس رات اللہ عزوجل کی رحمتوں کا نزول تو ہوتا ہے، کتنے فرشتے ہیں جو ہیں وہ اس رات اسمان سے زمین پر اترتے ہیں،* `سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے:` *زمین میں اتنی کنکریاں نہیں، اتنے ذرات نہیں جتنے رب تعالی کے نورانی فرشتے اس رات کو اسمان سے زمین پر اترتے ہیں* `حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:` *کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں 21, 23, 25, 27, 29 میں اس رات یعنی لیلۃ القدر کو تلاش کروں۔* `لیلۃ القدر` *میں عبادت کیسے کریں، کیا اس رات کی کوئی خاص عبادت، خاص نوافل ہیں؟ آئیں حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں* `سوال۔` `شب قدر کے لیے مخصوص عبادات، شبِ قدر کے لیے کوئی خاص قسم کی عبادت کرنا۔؟` `جواب` *شب قدر کے اعمال کے بارے میں نوافل کی کسی خاص تعداد یا خاص طریقے یا نوافل کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا شرعاً منقول نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص طریقہ سے عبادت کرنا ثابت ہے۔ انفرادی طور پر جتنی عبادت یا نوافل ادا کیے جائیں، قرآن پاک کی تلاوت کی جائے، تسبیحات، اور انفرادی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے اس کا بڑ ا اجر وثواب ہے۔* *اس لیے رمضان المبارک کے پورے مہینے میں راتوں کو عبادت کی کوشش کرنی چاہیے، بالخصوص آخری عشرہ اور پھر اس میں بھی طاق راتوں میں زیادہ اہتمام کرنا چاہیے، اگر پوری رات مشکل ہوتو کچھ وقت ، ورنہ عشاء کی نماز جماعت سے پڑھ کر تراویح اور وتر باجماعت پڑھے اور اس کے بعد دو، چار رکعت پڑھ کر سو جائے، یا سحری میں بیدار ہوکر دو چار رکعات تہجد پڑھ لے اور صبح فجر کی نماز جماعت سے پڑھ لے تو اسے ان شاء اللہ شبِ قدر مل جائے گی۔* *نیز اس بارے میں* `حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا` *نے `حضور صلی اللہ علیہ و سلم` سے پوچھا کہ `یا رسول اللہ !` اگر مجھے شب قدر کا پتا چل جائے تو کیا دعا مانگوں؟* `حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہو :` *« اَللّٰهم إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ » [ترمذی ، مشکاۃ] ’’اے اللہ! تو بے شک معاف کرنے والا ہے اور پسند کرتا ہے معاف کرنے کو‘ پس معاف فرما دے مجھے بھی‘‘[ترمذی‘ مشکاۃ]* *یہ نہایت جامع دعا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے آخرت کے مطالبہ سے معاف فر ما دیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے.۔* *اس رات میں صدقے کا اہتمام کیا جائے* `سوال۔ ہمیں کیسے یقین ہو کہ ہم نے لیلۃ القدر پا لی ہے؟` `جواب` *جس نے ان طاق راتوں 21 ,23 ,25 ,27 ,29 میں عبادت کر لی سمجھو اس نے لیلۃ القدر پا لی۔* *جس دن لیلۃ القدر ہوتی ہے، مغرب سے صبح صادق تک لیلۃ القدر ہوتی ہے، اس لیے مغرب سے ہی عبادت مشغول ہو جائیں۔* *اللہ تعالی سے دعا ہے ہمیں اس رات کی نعمت سے نوازے اور اللہ رب العالمین ہمیں اس کو پانی کی توفیق بھی عطا فرمائے* *آمین ثم آمین* *تمام ساتھیوں سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ شُکریہ جزاک اللہ خیرا🫀*