*شب برات میں شیعہ کی خباثت*
*سوال* :-شب برات میں حلوہ پکانے اور آتش بازی کا شریعت میں کوئی ثبوت ہے؟بیّنو اتوجروا۔
*الجواب باسم ملھم الصواب*
اس رات کا نام *شب برات* کسی حدیث سے ثابت نہیں، اس شب میں استغفار و توبہ اور مغفرت اور عذاب جہنم سے نجات کے بارے میں ضعیف روایات ہیں؛ شاید اسی وجہ سے اس کا نام *شب برات* مشہور ہو گیا ہو، *براءت بمعنی نجات*۔
بعض کا خیال ہے کہ نام شیعہ نے رکھا ہے، وہ اس میں حضرات صحابہ کرامؓ پر تبراء کرتے ہیں، اس لیے اسے شب برات کہتے ہیں یعنی *تبرّاءکی رات* مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے تبراء کی جگہ اس کا ہم معنی لفظ *براءت* لگا کر مسلمانوں میں پھیلا دیا۔
یہ خیال کچھ بعید نہیں بلکہ قرینِ قیاس ہے، اس لیے کی حقیقت کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ شیعہ نے بذریعہ تقیہ اور مکروفریب اپنے مذہب کے بہت سے عقائد مسلمانوں کی قلوب کی گہرائیوں میں اس طرح اتار دیے ہیں اور راسخ کر دیے ہیں کہ مسلمان ان کو بلاشبہ عقائد اسلام سمجھ رہے ہیں اور بے شمار باتیں نہایت مکاری و عیاری سے مسلمانوں میں اس طرح عام پھیلا دی ہے کہ ان کو اس کا کوئی شعور نہیں،ان میں سے صرف چند مثالیں رسالہ *منکرات محرم* میں ہیں۔
شیعہ کا خیال ہے کہ نصف شعبان کی شب میں ان کے امام مہدی کی ولادت ہوئی ہے اور اس لیے وہ اس رات اور دن کو بہت مبارک سمجھتے ہیں،
*ولادت امام* کی خوشی میں *حلوہ خوری اور آتش بازی* کرتے ہیں،پٹاخے چھوڑتے ہیں اور امام مہدی کے خلیفہ سوم *حسین بن رَوح* کے نام پرچوں میں اپنی حاجات لکھ کر کنویں میں یا دریا میں ڈالتے ہیں تاکہ وہ ان کی درخواستیں امام مہدی کے ہاں پیش کرے۔
نصف شعبان کے بارے میں ان کا یہ عقیدہ و عمل بہت مشہور اور شیعہ کی کتابوں میں مذکور ہے، جن میں سے ایک کتاب *تحفۃ العوام* اس زمانے میں بہت مشہور و مقبول ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ *ولادت مہدی* کا خیال ہی سرے سے باطل اور ان کا *من گھڑت* فسانہ ہے،چہ جائیکہ اس کی نصف شعبان کی طرف نسبت،مذہب شیعہ میں تیسرے امام *حسین* کے سوا ہر امام کا امامِ سابق کی اولاد میں ہونا ضروری ہے،اور *اصول کافی* وغیرہ کی تصریح کے مطابق *گیارھواں امام حسن عسکری لاولد تھا*،حکومت نے پوری تقسیم اور مکمل تحقیق کے بعد اس کو لاوارث قرار دے کر اس کے بھائی کو میراث دلائی۔
شیعہ کو اپنے اس عقیدہ کے مطابق *حسن عسکری* کی اولاد سے بارہواں امام ثابت کرنے کی مشکل پیش آئی تو اس کو حل کرنے کے لیے یہ افسانہ گھڑا کہ حسن عسکری کے انتقال سے چار یا پانچ سال پہلے اس کے گھر امام مہدی پیدا ہوا جو عوام کو نظر نہیں آتا تھا اور حسن عسکری کے انتقال سے *دس روز پہلے صرف چار پانچ سال کا یہ بچہ چالیس سال ہاتھ لمبا اور اونٹ کی ران جتنا موٹا قرآن اور تمام انبیاء سابقین علیہم السلام پر نازل شدہ کتابیں اوروہ سارا سامان جوہر امام کے پاس رہتا تھاسب اٹھا کر *غار سر من رایٰ میں غائب ہو گیا*
یہ پوری تفصیل اصول کافی میں کئی مختلف ابواب میں ہے۔
بزعمِ شیعہ مہدی کی غیبتِ صغریٰ کی ابتداء غیبت کبریٰ تک اس کے چار نائب علی الترتیب گزرے ہیں جن کو مہدی کے مقام رہائش کا علم تھا:
🔸1:- *ابو عمر عثمان بن سعید*
🔸2:- *محمد بن عثمان بن سعید*
🔸3:- *حسین بن روح*
🔸4:- *علی بن محمد*
*حاجت براری کے لیے پہلے دو کو غالباً اس لیے پسند نہیں کیا کہ اول کا نام عثمان ہے اور اس نے اپنے ایک بیٹے کا نام عمر رکھا۔*
دوسرے غائب کو اس لیے چھوڑا کے نائب اول *عثمان* کا بیٹا ہے۔
شیعہ ولادتِ مہدی کی خوشی میں اس رات حلوہ خوری کرتے ہیں ۔
*مسلمانوں کو یوں دھوکا دیا:-*
" *اس تاریخ میں حضور اکرمﷺ کا دانت مبارک شہید ہوا تھا اس لئے حلوا کھاؤ "*
حالانکہ وہ غزوہ احد کا واقعہ ہے جو شوال میں ہوا ہے،
*پھر یہ بھی عجیب عشق ہے :*
*محبوب ﷺکا دانت شہید ہوا تم حلوا کھاؤ*
ہم فراق یار میں گُھل گُھل کے ہاتھی ہو گئے
اتنے گھُلے اتنے گھُلے رُستم کے ساتھی ہو گئے
*واللہ العاصم من جمیع الفتن*
12 شعبان 1411ھجری
**احسن الفتاویٰ جلد: 8*
*باب ردالبدعات*
*مفتی اعظم مفتی رشیدؒ*
#💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #Deen ki Baten #💚__الحمدللہ..