Beiman
721 views
#🕋Quran Aur Hadees ( قرآن اور حدیث ) 🕋 #قرآن کریم #, اردو ترجمہ #💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 #Deen ki Baten #अल्लाहु अकबर *✴️ قرآنی تحریری کورس۔۔* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *سبق: حضرت نوح علیہ السلام —* *پہلا دن* *موضوع: بعثتِ نوح، دعوتِ توحید اور قوم کی فکری و اعتقادی گمراہی* ‎ حضرت نوح علیہ السلام انسانیت کے پہلے رسول ہیں جنہیں ایک ایسی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا جو ابتدا میں توحید پر تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ صالحین کی حد سے بڑھی ہوئی تعظیم کو عبادت میں بدل بیٹھی، اور یہی فکری انحراف بعد میں کھلے شرک کی صورت اختیار کر گیا۔ ‎ *﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ﴾* ترجمہ: ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ ‎ یہ آیت بعثتِ نوح کی اصل حقیقت واضح کرتی ہے کہ وہ ایک حقیقی اصلاحی مشن کے ساتھ بھیجے گئے، نہ کہ محض نصیحت یا روایت کی تجدید کے لیے۔ ‎ *﴿أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ﴾* ترجمہ: کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ ‎ دعوتِ نوح کا آغاز کسی فلسفے یا سماجی اصلاح سے نہیں بلکہ سیدھی توحید سے ہوا، کیونکہ انسان کی اصل گمراہی یہی ہوتی ہے۔ ‎ *﴿إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾* ترجمہ: میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ ‎ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دعوتِ ایمان صرف خوش خبری نہیں بلکہ انجام کی سنجیدہ یاد دہانی بھی ہے۔ ‎ *﴿قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾* ترجمہ: اس کی قوم کے سرداروں نے کہا: ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔ ‎ یہاں واضح ہوتا ہے کہ حق کی مخالفت سب سے پہلے بااثر طبقہ کرتا ہے، کیونکہ حق ان کے مفادات کو چیلنج کرتا ہے۔ ‎ *﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ﴾* ترجمہ: نوح نے کہا: اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں۔ ‎ داعی کا جواب الزام تراشی نہیں بلکہ وقار، اعتماد اور دلیل پر مبنی ہونا چاہیے۔ ‎ *﴿وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾* ترجمہ: بلکہ میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔ ‎ یہ جملہ بتاتا ہے کہ دعوت کی اصل طاقت داعی کی ذات نہیں بلکہ رب کی طرف سے ہونے میں ہے۔ ‎ *﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ﴾* ترجمہ: میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں۔ ‎ یہ آیت دعوت کے دو بنیادی اصول طے کرتی ہے: امانت داری اور خالص خیرخواہی۔ ‎ *﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾* ترجمہ: اور میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ‎ وحی اور انسانی قیاس کے فرق کو سمجھنا ایمان کی بنیاد ہے۔ ‎ *﴿وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾* ترجمہ: اور انہوں نے کہا: اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا، نہ ودّ کو، نہ سواع کو، نہ یغوث کو، نہ یعوق کو اور نہ نسر کو۔ ‎ یہ قومِ نوح کے مشہور بت تھے، جو دراصل صالح انسانوں کے نام پر بنائے گئے، پھر وقت کے ساتھ عبادت کا مرکز بن گئے، اور یہی شرک کی اصل جڑ بنی۔ ‎ *﴿فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا﴾* ترجمہ: تو وہ ان میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے۔ ‎ یہ آیت بتاتی ہے کہ دعوتِ ایمان وقتی جوش کا کام نہیں بلکہ عمر بھر کی استقامت اور قربانی کا راستہ ہے۔ ‎ غور و فکر و عمل کے جامع نکات ‎ 1) قومِ نوح کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ شرک اکثر صالحین کی حد سے بڑھی ہوئی تعظیم سے شروع ہوتا ہے، اس لیے توحید کی حفاظت ضروری ہے۔ ‎ 2) حق کا انکار اکثر علمی کمی نہیں بلکہ تکبر، روایت پرستی اور مفاد پرستی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ‎ 3) دعوتِ ایمان میں اصل قوت پیغامِ حق کی ہوتی ہے، نہ داعی کے مقام یا تعداد کی۔ ‎ 4) طویل صبر، مسلسل محنت اور ہر اسلوب میں دعوت دینا انبیاء علیہم السلام کا ثابت شدہ منہج ہے۔ ‎ 5) یہ سبق ہر دل کو دعوت دیتا ہے کہ وہ انجام پر سنجیدگی سے غور کرے، توحید کو خالص رکھے اور اپنے رب سے مضبوط تعلق قائم کرے۔ *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*