*شبِ برات:*
*لوحِ محفوظ سے اترتی تقدیروں کی داستان*
شعبان کی چودہویں شام جب رخصت ہوتی ہے اور افق پر پندرہویں شب کا چاند پوری آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوتا ہے ، تو کائنات کا رنگ ڈھنگ ہی بدل جاتا ہے۔ فضا میں ایک ان کہی داستان رقم ہو رہی ہوتی ہے۔ ہوائیں بھی گویا مؤدب ہو کر چلتی ہیں۔ یہ کوئی عام رات نہیں؛ یہ ستاروں کی چھاؤں میں فیصلوں کی رات ہے۔ یہ وہ گھڑی تھی جب آسمانِ دنیا کے دروازے وا کر دیے جاتے ہیں۔
جیسے ہی نصف شعبان کی رات آئی، آسمانِ دنیا پر ایک خاص تجلی کا ظہور ہوا۔
ربِ کائنات، جس کی شان بیان کرنے سے زبانیں قاصر ہیں، اپنی رحمت کے ساتھ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے۔
یہ منظر ایک عام معافی کے اعلان ہوتا ہے۔ نور کی بارش ہر اس شخص پر ہو رہی تھی جو سانس لے رہا تھا، ہر وہ روح جو اپنے رب کو پہچانتی ہے۔
*: شادی کی شہنائی اور موت کا پروانہ*
زمین پر زندگی اپنے پورے شور و غل کے ساتھ جاری تھی۔ کسی گھر میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں، دلہا سہرا سجائے مسکرا رہا تھا، لوگ مبارکبادیں دے رہے تھے۔ دوسرے گھر میں ایک نوزائیدہ بچے کی کلکاریاں گونج رہی تھیں، باپ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔
لیکن ٹھیک اسی لمحے، عالمِ بالا میں شعبان سے شعبان تک کے فیصلے ہو رہے تھے۔ وہ شخص جو زمین پر شادی رچا رہا ہے، آسمان پر اس کا نام "زندوں" کی فہرست سے کاٹ کر "مردوں" کی فہرست میں آچکا ہوتا ہے۔ اسے خبر بھی نہ تھی کہ جس زندگی کے وہ منصوبے بنا رہا ہے، اس کی مہلت ختم ہو چکی ہے۔، اور فیصلے اٹل ہو چکے۔
: *شاہی دربار اور انتظامی سپردگی۔*
یہ رات یعنی نصف شعبان، وہ وقت ہے جب کائنات کے بادشاہ نے تمام احکامات صادر فرما دیے۔ کون کتنا رزق پائے گا؟ کون کس آفت کا شکار ہوگا؟ کس ملک میں امن ہوگا اور کہاں جنگ؟ تمام فیصلے اس رات طے پا گئے۔
گویا فائلوں پر مہر لگ گئی۔ اب یہ فائلیں بند کر کے رکھ دی گئیں، تاکہ جب "لیلۃ القدر" آئے، تو یہ احکامات متعلقہ محکموں کےارباب کے حوالے کر دیے جائیں۔ شبِ برات "حکم صادر ہونے کی رات" ہے تو شبِ قدر "حکم ملنے اور نافذ ہونے کی رات"۔ کائنات کا نظام ایک نظم و ضبط کے تحت چل رہا ہے۔
*غروبِ آفتاب کی پکار اور سوالی کی تلاش*
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت کے مطابق، یہ انتظار کی رات نہیں بلکہ "عمل" کی رات ہے ۔ حکم ہے کہ اس کی رات جاگو اور دن کو روزہ رکھو۔
کیونکہ جوں ہی سورج ڈوبا، ربِ کائنات کی طرف سے ندا آتی ہے : "کیا ہے کوئی؟"
یہ آواز کسی غضب والے حاکم کی نہیں، بلکہ ایک دینے والے سخی کی ہوتی ہے۔
"ہے کوئی مغفرت کا طلبگار کہ میں اسے پاک کر دوں؟"
"ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اس کی جھولی بھر دوں؟"
"ہے کوئی بیماری اور مصیبت کا مارا کہ میں اسے عافیت دوں؟"
یہ صدائیں مسلسل گونجتی رہیں، یہاں تک کہ فجر کی سفیدی نمودار ہو جائے۔ یہ ایک کھلی دعوت کا منظر ہے جہاں میزبان خود مہمانوں کو بلا رہا، مگر شرط یہ تھی کہ مہمان جاگ کر مانگنے کی زحمت تو کرے۔
*بقیع کا سناٹا اور بھیڑوں کا ریوڑ*
۔ مدینہ منورہ کی تاریک گلیوں میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایک اضطراب کے عالم میں چل رہی ہیں۔ نبی کریم ﷺ بستر پر نہیں ہیں۔ شک اور خوف کا سایہ دل پر منڈلا رہا تھا۔
جب "جنت البقیع" پہنچیں، تو دیکھا کہ نبی مہربان ﷺ آسمان کی طرف سر اٹھائے، تنہا، امت کے غم میں کھڑے ہیں۔
جب نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ کو دیکھا تو فرمایا: "کیا تجھے خوف تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر زیادتی کریں گے؟"
نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تسلی دی کہ اللہ اور اس کا رسول ناانصافی نہیں کرتے۔
اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے اللہ کی رحمت کی وسعت کو سمجھانے کے لیے عرب کے صحرا کا نقشہ کھینچا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس رات "قبیلہ بنو کلب کی بھیڑوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے۔"
عرب میں بنو کلب وہ قبیلہ تھا جس کے پاس سب سے زیادہ بھیڑ بکریاں تھیں۔ ایک بھیڑ کے جسم پر بالوں کی تعداد کا شمار ناممکن ہے، چہ جائیکہ پورے قبیلے کے ریوڑ کے بال! یہ تشبیہ بتاتی ہے کہ گناہوں کے انبار جتنے بھی اونچے ہوں، رحمت کا سمندر اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہے۔ آج کی رات اللہ تعالیٰ کی رحمت بہانہ ڈھونڈتی ہے کہ کس طرح اپنے بندے کو جہنم سے آزاد کر دے۔
بنو کلب کی ہزاروں بھیڑیں، اور ان کے جسم پر موجود کروڑوں بال—...
یہ سب اللہ کی رحمت کے سامنے کچھ نہ تھے۔ قبرستان کا وہ منظر گواہی دے رہا تھا کہ آج کی رات زندوں کے ساتھ ساتھ دنیا سے چلے جانے والوں کے لیے بھی تحفہ ہے۔
یہ منظر اللہ کی رحمت کی لا محدود وسعت کا منہ بولتا ثبوت نہیں تو اور کیا ہے؟........
اصبہانی کی روایت میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلي الله عليه وسلم سے سن کر ایک ایسی بشارت سناتے ہیں جو دلوں میں یقین کی شمع روشن کر دیتی ہے۔
فرماتے ہیں ﷺ :جو پانچ راتوں میں شب بیداری کرے اس کے لیے جنت واجب ہے، ذی الحجہ کی آٹھویں ، نویں ، دسویں راتیں اور عیدالفطر کی رات اور شعبان کی پندرھویں رات یعنی شب براء ت۔‘‘
سوچیے! یہ کیسا سودا ہے؟ چند گھنٹوں کی جاگنا اور بدلے میں ابدی بادشاہت!
ان پانچ راتوں کا قافلہ ذوالحجہ کے مہینے سے گزرتا ہے۔
آٹھویں ذوالحجہ کی رات ۔جب حجاج کرام منیٰ جانے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔
نویں ذوالحجہ کی رات، یعنی شبِ عرفہ۔ وہ رات جو سب سے بڑے دن کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔
دسویں ذوالحجہ کی رات۔
عید الفطر کی رات۔
اور پھر... ان سب کے درمیان، ایک اور ستارہ چمکتا ہے، اور وہ ہے "شعبان کی پندرھویں رات" یعنی شبِ براءت۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ شبِ برات تنہا نہیں، بلکہ یہ ان پانچ منتخب راتوں کے اس ایلیٹ گروپ کا حصہ ہے جنہیں "جنت کی کنجی" کہا گیا ہے۔ اس رات جاگنے والا دراصل اپنی نیند دے کر جنت خرید رہا ہوتا ہے۔ تھوڑی سی مشقت کے بدلے جنت واجب ہو رہی ہے، لہٰذا وہ یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔
لیکن، اس موسلادھار روحانی بارش میں بھی کچھ چٹانیں ایسی تھیں جو خشک رہ گئیں۔
مسند احمد اور ابنِ ماجہ کی روایات ایک لرزہ خیز حقیقت بیان کرتی ہیں ۔ جہاں اللہ رب العزت اپنی تمام مخلوق پر نظرِ رحمت ڈال رہا تھا، وہیں اس کی نظر دو طرح کے لوگوں سے پھر گئی تھی۔
پہلا وہ جس کے دل میں "شحناء" یعنی کینہ اور دشمنی تھی۔
وہ شخص جو اپنے مسلمان بھائی سے دل میں بغض پالے بیٹھا تھا، بات چیت بند کیے ہوئے تھا۔
اور دوسرا وہ جس نے کسی جان کو ناحق قتل کیا۔
یہ منظر بتاتا ہے کہ حقوق العباد کا معاملہ کتنا نازک ہے۔....................
*اختتامیہ*
جب الفاظ ختم ہو جائیں اور احساسات کی روانی دلوں پر دستک دینے لگے، تو صرف ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے—عاجزی کا راستہ۔ شبِ برات کے ان لرزہ خیز اور روح پرور مناظر کے بعد، آئیے اپنے رب کے حضور دامن پھیلا دیں، کیونکہ توفیق اسی کے دست قدرت میں ہے۔
اے دلوں کے راز جاننے والے!
ہماری پیشانیوں کو اپنی بارگاہ میں جھکنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ان غافل لوگوں میں شامل نہ کر جو رحمت کی موسلادھار بارش میں بھی اپنی چھتیں بند رکھتے ہیں۔
ہمیں وہ بیدار دل عطا کر جو ستاروں کی چھاؤں میں تیرے حضور آنسو بہا سکے، ہمیں وہ تڑپ دے جو تیری رحمت کو جوش میں لے آئے۔
آج کی رات جب فیصلے آسمانوں سے اتریں، اور جب زندگی و موت کی فہرستیں ترتیب دی جائیں، تو ہمارے نام ان خوش نصیبوں میں لکھ دینا جن پر تو راضی ہو گیا۔
اگر ہمارے نامہ اعمال میں محرومی لکھی ہے، تو اسے اپنے فضل سے خوش بختی میں بدل دے۔انك علي كل شئ قدير.
، ہمارے سینوں کو "کینہ" اور "بغض" کی غلاظت سے پاک فرما دے۔ ہمارے دلوں کو آئینے کی طرح شفاف کر دے۔
ہمیں اس مبارک رات کی گھڑیوں کو سمیٹنے، سجدوں میں سر رکھنے اور آنسوؤں سے اپنے گناہ دھونے کی بہترین توفیق عطا فرما۔
آمین، یا رب العلمین! بجاه النبي الكريم صلي الله عليه وسلم.
#🕌 نعت شریف🎧 #ماہ شعبان کے چند ایام