*محبوبہ مصطفیﷺ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا*
✍🏻 سید فضل احمد مدنی
*#سیرت_صالحین* (5)
*تعارفِ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا*
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ، صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی، علم و فضل کا پیکر، اور اسلامی تاریخ کی ایک عظیم المرتبت ہستی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کا لقب "صدیقہ" اور "حبیبۂ رسول ﷺ" ہے۔ آپ کا شمار ان صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے زیادہ احادیث روایت کیں، اور آپ کی فقاہت و دانش کو تمام امت نے تسلیم کیا۔
*سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سخاوت*
آپ کی سخاوت کا عالم یہ تھا کہ دنیاوی مال و دولت کو کبھی دل سے نہ لگایا، بلکہ جو کچھ ملتا، اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتیں۔
*حضرت محمد بن منکدر رحمہ اللہ حضرت ام درہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں* :
"ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک لاکھ اسی ہزار درہم بھیجے۔ آپ نے ایک تھال منگوایا اور درہم لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیے۔ شام ہوئی تو اپنی خادمہ سے فرمایا: ’افطاری لاؤ۔‘ خادمہ روٹی اور زیتون لے آئی۔ عرض کیا: ’اگر ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں تو ہم اس سے افطاری کر لیتے۔‘ آپ نے فرمایا: ’اگر تم مجھے یاد دلا دیتیں تو میں ایسا کر لیتی۔‘"
(احیاء العلوم، جلد 3، ص 826)
*رسولِ اکرم ﷺ کی محبت اور سیدہ عائشہ کی عظمت*
نبی کریم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سوال کیا:
"یارسول اللہ! لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟
ارشاد فرمایا: عائشہ۔"
(بخاری، حدیث 3662)
*آپ ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رضا اور ناراضی کو بھی محسوس کر لیتے تھے* ۔
چنانچہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا:
"عائشہ! میں تمہاری خوشی اور ناراضی کو پہچان لیتا ہوں۔"
عرض کیا: "کیسے یا رسول اللہ؟"
فرمایا: "جب تم راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: 'محمد ﷺ کے رب کی قسم!' اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: 'ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم!' "
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرائیں اور عرض کیا: "یارسول اللہ! میں صرف آپ کا نام بدلتی ہوں، مگر محبت وہی رہتی ہے۔"
(احیاء العلوم، جلد 2، ص 253)
*سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا طرزِ عمل*
آپ کی حکمت و دانائی کا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے:
"ایک مرتبہ سفر کے دوران ایک سائل آیا تو آپ نے فرمایا: ’اسے کھانے میں سے ایک روٹی دے دو۔‘ پھر ایک امیر آدمی آیا تو فرمایا: ’اسے کھانے کی دعوت دو۔‘ عرض کی گئی: ’مسکین کو ایک روٹی دی اور امیر کو کھانے کی دعوت دی؟‘ فرمایا: ’مسکین تو ایک روٹی پر راضی ہے، مگر ایک امیر آدمی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اسے صرف ایک روٹی دے دی جائے۔‘"
(احیاء العلوم، جلد 4، ص 813)
*خوفِ خدا اور عبادت*
آپ اللہ کے خوف سے لرزاں و ترساں رہا کرتی تھیں۔ حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"میری عادت تھی کہ صبح اٹھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتا۔ ایک دن دیکھا کہ آپ چاشت کی نماز میں مشغول ہیں اور بار بار یہ آیت پڑھ رہی ہیں:
"فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَوَقٰنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ"
(الطور: 27)
"اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیا۔"
"میں نے دیکھا کہ آپ مسلسل اسی آیت کو پڑھتی جا رہی ہیں اور زار و قطار رو رہی ہیں۔ پھر میں بازار گیا، واپسی پر بھی وہی منظر تھا۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
(احیاء العلوم، جلد 5، ص 440)
*یومِ وصال*
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا وصال 17 رمضان المبارک 58 ہجری کو ہوا۔ آپ نے وصیت فرمائی کہ مجھے جنت البقیع میں دفن کیا جائے
✍🏻سید فضل احمد مدنی
6مارچ2026
#یوم وصال حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہ