رمضان کے مہینے میں مجھے ہمیشہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کائنات کی ساری گھڑیاں کچھ دیر کے لئے دھیمی ہو گئی ہوں...
اور روح کو موقع دیا گیا ہو کہ وہ اپنے اصل گھر کی طرف پلٹ سکے، رمضان آ کر بتاتا ہے کہ اصل بھوک تو سکون کی تھی ...اور اصل پیاس تو قرب کی تھی ـ روزہ دراصل جسم کو نہیں غرور کو کمزور کرتا ہے ـ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ محتاج ہے اور جس کے در پر و جھکتا ہے وہ بےنیاز ہے ۔ اللہ کی ذات کتنی رحمٰن اور رحیم ہے... وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا ، مگر معاف کرنے میں دیر نہیں کرتا ۔ ہم انسان ایک خطا پر برسوں دل میں گرہ باندھ لیتے ہیں وہ ایک آنسو پر گناہ دھو دیتا ہے ۔ ہم دلیل مانگتے ہیں وہ نیت دیکھتا ہے ۔ ہم ظاہر تولتے ہیں اور وہ دل کی دھڑکن سن لیتا ہے ۔ عبادت صرف سجدہ نہیں بلکہ اپنے اندر کے شور کو خاموش کرنا بھی ہے ۔ کم بولنا بھی عبادت ہے، کم شکایت کرنا بھی عبادت ہے ۔ اور سب سے بڑی عبادت دل کو نرم کر لینا ہے ...کیونکہ شخت دلوں پر ہدایت نہیں اترتی ۔ جیسے بارش پتّھر پر ٹھہر نہیں سکتی۔ ویسے ہی رحمت اس دل میں قیام نہیں کرتی جو خود کو کافی سمجھنے لگے ۔ اور اس مہینے کے بعد ہمارا لہذا نرم نہ ہو ،دل کشادہ نا ہو ، معاف کرنا آسان نہ ہو ۔ تو شاید ہم نے بھوک برداشت کی ہے لیکن رمضان نہیں جیا ____🌙✨🌷
#♡ω♡