*ماہ رمضان کی مبارک باد دینا*
ماہ رمضان المبارک کی خوشخبری اور مبارک باد دینا نہ صرف جائز بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: *قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ* : " قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ ".
(مسند أحمد |مُسْنَدُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. رقم الحديث ٨٩٩١)
یعنی *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ماہ رمضان کی آمد پر خوشخبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا* : یقینًا تمہارے پاس مبارک مہینہ رمضان آگیا ہے۔ الحدیث
اس حدیث کے تحت علامہ ابن رجب حنبلی علیہ الرحمہ (المتوفي ٧٩٥) فرماتے ہیں:قال بعض العلماء: *هذا الحديث أصل في تهنئة الناس بعضهم بعضا بشهر رمضان۔*
یعنی بعض علماء فرماتےہیں: یہ حدیث لوگوں کا ایک دوسرے کو رمضان کی مبارک باد دینے پر دلیل ہے۔
(لطائف المعارف ٢٧٩ دار ابن كثير دمشق بيروت)
امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ (المتوفي ٩١١) نے اپنی کتاب "وصول الأمانى بأصول التهانى" میں باقاعدہ عنوان قائم فرمایا ہے؛ *"التهنئة بشهر رمضان"* یعنی ماہ رمضان کی مبارک باد دینا۔ اس عنوان کے تحت آپ علیہ الرحمہ نے یہ حدیث مبارکہ نقل فرمائی: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان المعظم کے آخری دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: *يا أيها الناس، قد أظلكم شهر عظيم، شهر مبارك، شهر فيه ليلة خير من ألف شهر۔*
مفہوم: اے لوگوں! تمہارے پاس ایک ایسا مہینہ آیا ہے جو نہایت عظمت والا، برکت والا ہے۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔۔۔ الحدیث۔ اس کے بعد فرمایا: قال ابن رجب؛ *هذا الحديث اصل فى التهنئة بشهر رمضان.*
کہ امام ابن رجب حنبلی علیہ الرحمہ (المتوفي ٧٩٥) نے فرمایا: یعنی یہ حدیث ماہ رمضان کی مبارک باد دینے کی اصل و ثبوت ہے۔
(وصول الأمانى. الحاوي للفتاوي ١/٨٠ دار الكتب العلمية بيروت)
علامہ قسطلانی علیہ الرحمہ (المتوفى ٩٢٣) مسند احمد کی مذکور حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: قال بعض العلماء: *هذا الحديث أصل في تهنئة الناس بعضهم بعضا بشهر رمضان*.
(المواهب اللدنية ٤/٣٢٩ المكتب الإسلامي)
یعنی یہ حدیث، ایک دوسرے کو ماہ رمضان کی مبارک باد دینے کی اصل و دلیل ہے۔
علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ (المتوفي ١١٣٧) اسی حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: قال بعض العلماء: *هذا الحديث أصل في تهنئة الناس بعضهم بعضا بشهر رمضان.*
(تفسير روح البيان ١/٣٣٩ دار الفكر)
یعنی یہ حدیث، ایک دوسرے کو ماہ رمضان کی مبارک باد دینے کی اصل و دلیل ہے۔
ان احادیث مبارکہ اور اقوال محدثین سے ثابت ہوا کہ ماہ رمضان المبارک کی مبارک باد دینا بالکل جائز بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
نوٹ: آمد رمضان کے متعلق جو روایت بیان کی جا رہی ہے کہ "جس نے سب سے پہلے کسی کو رمضان کی مبارک باد دی، اس پر جنت واجب ہو جائے گی" ، تو ایسی کوئی روایت نظر سے نہیں گزری، نہ علماء سے سنی، بلکہ ایسی باتیں عموماً من گھڑت ہوا کرتی ہیں اور یاد رہے! من گھڑت بات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قصداً منسوب کرنا حرام و گناہ ہے۔
#🕋رمضان المبارک شریف اسپشل🤲 🤲
واللہ اعلم بالصواب
ابو الحسن محمد شعيب خان
١٩ مارچ ٢٠٢٣