مدینۃُ المنورہ کی فضاؤں میں جب رمضان المبارک کی شام چھا جاتی ہے تو ہر طرف ایک الگ ہی روحانیت محسوس ہوتی ہے۔
مسجد نبوی کے صحن میں بچھے ہوئے دسترخوان، قطار در قطار بیٹھے روزہ دار، اور اذانِ مغرب کے انتظار میں اٹھتے ہوئے ہاتھ—یہ منظر دلوں میں ایمان کی تازگی اور روح میں سکون بیدار کر دیتا ہے۔
سفید چھتریوں کے نیچے افطار کے لیے رکھی کھجوریں اور زمزم کے پانی کی بوتلیں دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے جنت کی خوشبو زمین پر اتر آئی ہو۔ ہر زبان پر درود و دعا، ہر آنکھ میں شکر کے آنسو، اور ہر دل میں حضور ﷺ کی محبت کی لہر دوڑ رہی ہو۔
یہ افطار صرف کھانے کا وقت نہیں بلکہ محبت، بھائی چارہ اور اخوت کا عملی مظاہرہ ہے۔ امیر ہو یا غریب، کسی ملک سے آیا ہوا ہو یا کسی اور سرزمین سے، سب کے لیے دسترخوان ایک، صف ایک اور دل ایک ہیں۔ یہی رمضان کا اصل پیغام ہے: صبر، شکر اور بھائی چارہ۔
جب مؤذن کی آواز گونجتی ہے اور روزہ دار کھجور سے افطار کرتے ہیں، تو یہ سنت کی پیروی کے ساتھ عاجزی، محبت اور قربتِ الٰہی کا لمحہ ہوتا ہے۔ اس کیفیت کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں—یہ دل و جان کی راحت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی مدینے کی ان بابرکت ساعتوں کی قدر کرنے،
#ماشاءاللہ 😍 #❤❤بیشک شوبہان اللہ❤❤ #🤲آمین ثم آمین یارب العالمین 🤲 #رمضان