Beiman
529 views
#Deen ki Baten #mah-e-ramazan ki fazilat #अल्लाहु अकबर #💖💖islamic post💖💖 #Ramazan mubarak 🌙🌹*❤️‍🩹 ماہِ رمضان المبارک تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ*✨ *قسط نمبر 9.* *(۴) "استغفار کی کثرت.."* چوتھا کام یہ کرنا ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنی ہے، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی مشہور حدیث شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کی پہلی، دوسری اور تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے ”آمین“ فرمایا، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل امین علیہ الصلاة والسلام میرے سامنے آئے تھے اور جب میں نے منبر کے پہلے زینے پر قدم رکھا تو انھوں نے کہا: ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی، میں نے کہا آمین، الیٰ آخر الحدیث (مستدرک حاکم ۴/۱۷۰، کتاب البر والصلة، الترغیب والترہیب ۲/۵۶) ظاہر ہے کہ اس شخص کی ہلاکت میں کیا شبہ ہے جس کے لیے حضرت جبرئیل علیہ السلام بددعا کریں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہیں، اس لیے اس مبارک مہینے میں نہایت کثرت کے ساتھ گڑگڑا کر اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔ *(۵) "دعا کا اہتمام.."* رمضان المبارک کی برکات کو حاصل کرنے کے لیے دعاؤں کا اہتمام بھی لازم ہے، بہت سی روایات میں روزے دار کی دعا کے قبول ہونے کی بشارت دی گئی ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: *ثَلٰثَةٌ لاَ تُرَدُّ دَعْوَتُھُمْ اَلصَّائِمُ حَتّٰی یُفْطِرَ، الحدیث۔ (ترمذی شریف ۲/۲۰۰، حدیث ۳۵۹۸، مسند احمد حدیث ۹۷۴۳) ترجمہ: تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی (ضرور قبول ہوتی ہے) ایک روزے دار کی افظار کے وقت، دوسرے عادل بادشاہ کی، تیسرے مظلوم کی بددعاء، اس کو اللہ تعالیٰ بادلوں سے اوپر اٹھا لیتے ہیں اور آسمان کے دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں اور ارشاد ہوتا ہے کہ میں تیری ضرور مدد کروں گا گو (کسی مصلحت سے) کچھ دیر ہو جائے۔* بہرحال یہ مانگنے کا مہینہ ہے، اس لیے جتنا ہو سکے دعا کا اہتمام کیا جائے، اپنے لیے، اپنے اعزہ واحباب اور رشتے داروں کے لیے، اپنے متعلقین کے لیے، ملک وملت کے لیے اور عالم اسلام کے لیے خوب دعائیں مانگنی چاہئیں، اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ *جاری۔۔۔*