Beiman
420 views
1 days ago
#💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 #Deen ki Baten #अल्लाहु अकबर #💖💖islamic post💖💖 #🕋Quran Aur Hadees ( قرآن اور حدیث ) 🕋 *✴️ قرآنی تحریری کورس۔۔* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *سبق:* *حضرت نوح علیہ السلام — دوسرا دن* *موضوع:* *طویل دعوت، مسلسل انکار، استہزاء اور دعاۓ نوح علیہ السلام* ‎ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال مسلسل دعوتِ توحید دی، اس طویل عرصے میں نسلیں بدلتی رہیں، بچے پیدا ہوئے، جوان ہوئے اور بوڑھے ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر قوم نے حق قبول کرنے کے بجائے ہر دور میں دعوت کو جھٹلایا، مذاق اڑایا اور استہزاء کا رویہ اختیار کیے رکھا، یہاں تک کہ جب مسلسل، بےحد اور صبر آزما جدوجہد کے بعد یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی کہ یہ قوم حق کی طرف پلٹنے کے لیے تیار نہیں اور اس کی سرکشی اجتماعی فساد کی شکل اختیار کر چکی ہے، تو اللہ کے پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام نے ربِّ کریم کے حضور دعا کی اور معاملہ مکمل طور پر اسی کے سپرد کر دیا۔ ‎ *﴿قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا﴾* ترجمہ: نوح نے کہا: اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی۔ ‎ یہ آیت دعوتِ نوح کی وسعت، تسلسل اور ہمہ وقتی جدوجہد کو واضح کرتی ہے کہ انہوں نے کسی حال میں دعوت ترک نہیں کی۔ ‎ *﴿فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا﴾* ترجمہ: مگر میری دعوت نے ان کے بھاگنے ہی میں اضافہ کیا۔ ‎ یہاں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حق واضح ہو جانے کے بعد بھی ضد اور خواہش انسان کو اس سے مزید دور کر دیتی ہے۔ ‎ *﴿وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ﴾* ترجمہ: اور میں نے جب بھی انہیں بلایا تاکہ تو انہیں بخش دے، انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں۔ ‎ یہ آیت جان بوجھ کر سچ نہ سننے اور حق سے شعوری انکار کی تصویر پیش کرتی ہے۔ ‎ *﴿وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا﴾* ترجمہ: اور انہوں نے اپنے کپڑے اوڑھ لیے، اصرار کیا اور بڑا تکبر کیا۔ ‎ یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ حق کا انکار صرف فکری نہیں بلکہ قلبی اور نفسیاتی بیماری بھی ہوتا ہے۔ ‎ *﴿ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا﴾* ترجمہ: پھر میں نے انہیں کھلے عام دعوت دی۔ ‎ یہ آیت اعلانِ عام اور اجتماعی خطاب کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ ‎ *﴿ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا﴾* ترجمہ: پھر میں نے* انہیں علانیہ بھی کہا اور چھپا کر بھی سمجھایا۔ ‎ یہ دعوت کے اس جامع منہج کو بیان کرتی ہے جس میں حکمت، نرمی اور حالات کے مطابق انداز شامل ہوتا ہے۔ ‎ *﴿فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا﴾* ترجمہ: پس میں نے کہا: اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ ‎ یہاں واضح ہوتا ہے کہ دعوتِ توحید ہمیشہ رحمت اور رجوع کے دروازے کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ ‎ *﴿يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا﴾* ترجمہ: وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا۔ ‎ یہ آیت ایمان اور اطاعت کے دنیاوی اثرات کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے۔ ‎ *﴿وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ﴾* ترجمہ: اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دے گا۔ ‎ یہ انسان کی فطری خواہشات کو صحیح سمت دے کر حق کی طرف بلانے کا حکیمانہ اسلوب ہے۔ ‎ *﴿وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا﴾* ترجمہ: اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ ‎ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ گمراہی جب اجتماعی بن جائے تو اس کا نقصان نسلوں تک پھیل جاتا ہے۔ ‎ *﴿رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾* ترجمہ: اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔ ‎ یہ دعا مایوسی نہیں بلکہ طویل اتمامِ حجت کے بعد عدلِ الٰہی کے فیصلے کے سپرد کرنے کا اعلان ہے۔ ‎ *﴿إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ﴾* ترجمہ: اگر تو نے انہیں چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے۔ ‎ یہاں واضح ہوتا ہے کہ اجتماعی فساد کے خاتمے کے لیے بعض اوقات فیصلہ کن مرحلہ آ جاتا ہے۔ ‎ *غور و فکر و عمل کے جامع نکات* ‎ 1) حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی یہ سکھاتی ہے کہ دعوتِ ایمان میں اصل کامیابی مسلسل محنت اور صبر ہے، نہ کہ فوری نتائج۔ ‎ 2) حق سے انکار اکثر دلیل کی کمی نہیں بلکہ تکبر، ضد اور خواہشات کی غلامی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ‎ 3) دعوت میں نرمی، حکمت اور تنوع ضروری ہے، مگر توحید کے اصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ ‎ 4) ایمان اور استغفار کا اثر صرف آخرت تک محدود نہیں بلکہ دنیا کی زندگی کو بھی درست کرتا ہے۔ ‎ 5) جب حق پوری طرح واضح ہو جائے اور قوم مسلسل فساد پر قائم رہے تو معاملہ اللہ کے سپرد کرنا ہی انبیاء کا منہج ہے۔ *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*