𝐙𝖆𝖇𝖎 𝖇𝖍𝖆𝖎 07
424 views
6 hours ago
🌿 سبق آموز واقعہ: خلیفہ ہارون الرشیدؒ اور قحط کا زمانہ 🌿 عباسی خاندان کے پانچویں خلیفہ ہارون الرشیدؒ اسلامی تاریخ کے اُن حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں غیر معمولی شہرت اور عزت حاصل ہوئی۔ ان کے دورِ خلافت میں ایک مرتبہ ایسا شدید قحط پڑا کہ اس کے اثرات سمرقند سے بغداد تک اور کوفہ سے مراکش تک پھیل گئے۔ خلیفہ ہارون الرشیدؒ نے اس آزمائش سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا۔ سرکاری غلہ خانوں کے دروازے کھول دیے گئے، ٹیکس معاف کر دیے گئے، پورے ملک میں لنگر خانے قائم کیے گئے اور امراء و تاجروں کو بھی متاثرین کی مدد کے لیے متحرک کیا گیا۔ لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود حالات مکمل طور پر بہتر نہ ہو سکے۔ ایک رات خلیفہ شدید پریشانی کے عالم میں جاگ رہے تھے۔ دل بے قرار تھا، نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اسی اضطراب میں انہوں نے اپنے استاد اور وزیرِ اعظم یحییٰ بن خالدؒ کو طلب کیا اور فرمایا: “استاد محترم! کوئی ایسی حکایت سنائیں جس سے میرے دل کو سکون مل جائے۔” یحییٰ بن خالدؒ نے عرض کیا: “بادشاہ سلامت! میں نے اللہ کے ایک نبیؑ کی زندگی سے ایک ایسی حکایت پڑھی ہے جو تقدیر اور اللہ کی رضا کو سمجھنے کی بہترین مثال ہے، اگر اجازت ہو تو عرض کروں؟” خلیفہ نے فوراً فرمایا: “ضرور سنائیے!” یحییٰ بن خالدؒ نے روایت بیان کی: ایک مرتبہ جنگل میں ایک بندریا سفر پر جانے لگی۔ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا جسے وہ ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی۔ وہ جنگل کے بادشاہ شیر کے پاس گئی اور عرض کیا: “آپ جنگل کے بادشاہ ہیں، میں سفر پر جا رہی ہوں، براہِ کرم میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمہ لے لیجیے۔” شیر نے ذمہ داری قبول کر لی۔ بندریا مطمئن ہو کر روانہ ہو گئی اور شیر روزانہ اس بچے کو اپنے کندھے پر بٹھا کر جنگل میں گھومتا پھرتا رہا۔ ایک دن اچانک آسمان سے ایک چیل جھپٹی، بندریا کے بچے کو اٹھایا اور فضا میں غائب ہو گئی۔ شیر نے بہت کوشش کی مگر وہ کچھ نہ کر سکا۔ چند دن بعد بندریا واپس آئی اور اپنے بچے کا پوچھا۔ شیر نے افسوس سے بتایا: “تمہارا بچہ چیل لے گئی ہے۔” یہ سن کر بندریا غصے سے بولی: “تم کیسے بادشاہ ہو؟ ایک امانت کی حفاظت نہ کر سکے، پھر پورے جنگل کی حفاظت کیسے کرتے ہو؟” شیر نے جواب دیا: “میں زمین کا بادشاہ ہوں۔ اگر خطرہ زمین سے آتا تو میں روک لیتا، مگر یہ آفت آسمان سے آئی تھی… اور آسمان کی آفتیں صرف آسمان والا ہی روک سکتا ہے۔” یہ حکایت سنانے کے بعد یحییٰ بن خالدؒ نے عرض کیا: “بادشاہ سلامت! یہ قحط بھی آسمان کی طرف سے آزمائش ہے۔ اگر یہ زمین سے ہوتا تو آپ اسے اپنی تدبیر سے روک لیتے۔ ایسی آزمائشوں کا حل یہ ہے کہ انسان بادشاہ نہیں بلکہ اللہ کے حضور عاجز بندہ بن جائے، توبہ کرے، دعا کرے اور اپنے رب کو راضی کرے۔” یاد رکھیں! دنیا کی آفتیں دو طرح کی ہوتی ہیں: ایک زمینی آفتیں — جن کا مقابلہ اتحاد، وسائل اور حکمت سے کیا جاتا ہے۔ اور دوسری آسمانی آزمائشیں — جن سے نجات اللہ کی رضا سے حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مسائل اور ان کے حل کے درمیان بس اتنا ہی فاصلہ ہوتا ہے جتنا ماتھے اور جائے نماز کے درمیان ہوتا ہے… مگر افسوس ہم دور دراز راستے تو اختیار کر لیتے ہیں، مگر اس چند انچ کے فاصلے کو طے نہیں کرتے۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ یہ پیغام زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ 🤍 📌 اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہو تو مجھے فالو ضرور کریں۔ #Today's Message