✨نعتیہ شعر مع مفہوم و تشریح✨
𝒩𝒶𝒶𝓉 𝒜𝒸𝒶𝒹ℯ𝓂𝓎
ہمارے دل کی لگی بھی وہی بجھا دیں گے
جو دم میں آگ کو باغ و بہار کرتے ہیں
لفظی تشریح:
· دل کی لگی: دل کی روشنی، دل کی چمک، دل کی شمعِ محبت۔
· بجھا دیں گے: گل کر دیں گے، ختم کر دیں گے۔
· دم میں: ایک سانس کے وقفے میں، لمحہ بھر میں۔
· آگ کو باغ و بہار کرتے ہیں: آگ کو پلک جھپکتے ہی سرسبز و شاداب باغ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
✨مفہوم و تشریح:
یہ شعر نبی اکرمﷺ کی معجزاتی شان اور آپﷺ کے کمالِ تصرف کو بیان کرتا ہے۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اپنے دل کی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ "دل کی لگی" سے مراد وہ شمعِ محبت ہے جو دل میں روشن ہے، یا وہ دنیاوی تعلقات، خودی اور انا کی آگ ہے جو انسان کے دل کو جلاتی رہتی ہے۔ شاعر عرض کر رہے ہیں کہ جس طرح حضورﷺ نے آگ کو باغ بنا دیا تھا، اسی طرح اگر وہ چاہیں تو ہمارے دل میں موجود (گناہوں، خودی اور دنیاوی محبت کی) آگ کو بھی فوراً بجھا کر اس کی جگہ ایمان، توکل اور عشقِ رسول کی coolness اور سرسبزی عطا فرما سکتے ہیں۔ یہ درحقیقت ایک التجا ہے کہ یا رسول اللہﷺ! ہمارے دل کی خرابیوں، بے چینیوں اور گناہوں کی آگ کو بھی اپنی عنایت سے باغِ اطاعت میں تبدیل فرما دیجیے۔
دوسرے مصرعے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کی طرف واضح اشارہ ہے۔ جب نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ دہکتی ہوئی آگ ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو گئی۔ اہل عشق اور اہل ایمان کا عقیدہ ہے کہ یہ معجزہ درحقیقت سرکارِ دو عالمﷺ کی برکت سے ہوا، کیونکہ آپﷺ ہی کی نورانیت اور شفاعت کی بدولت یہ عظیم معجزہ رونما ہوا۔ یعنی وہ ذاتِ گرامیﷺ ایک لمحے میں آگ کو باغستان بنا سکتی ہے۔
اس شعر میں اعلیٰ حضرت امام عشق و محبت نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ایک عظیم معجزے کو یاد کرتے ہوئے آپ ﷺ کی بارگاہ میں التجا کی ہے کہ جس طرح آپﷺ نے آگ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے باغ بنا دیا تھا، اسی طرح ہمارے دل میں موجود نفسانی خواہشات، گناہوں اور بے راہ روی کی آگ کو بھی سکونِ ایمان اور عشقِ رسول میں تبدیل فرما دیں۔
#🙋♂️السلام علیکم💐 #💐 آداب 👐 #👨🏻🏫لوگوں کے لئے سیکھ🧑🤝🧑 #💐مبارکباد اور نیک خواہشات🤩 #💞دعا میں یاد رکھنا 🤲🏻