Follow
عبدالرؤف رفیقی
@1096059239
1,526
Posts
8,785
Followers
عبدالرؤف رفیقی
2.4K views
4 days ago
سلام علیکم ورحمتہ اللٌٰہ وبرکاتہ و مغفرتہ 💝 فرمانِ الہی 💖💯🇮🇳 #🥰 الله اکبر 🤗
عبدالرؤف رفیقی
596 views
4 days ago
سلام علیکم ورحمتہ اللٌٰہ وبرکاتہ و مغفرتہ 💝 #🥰 الله اکبر 🤗 💖💯🇮🇳
عبدالرؤف رفیقی
537 views
4 days ago
आदाब ! कुरॴन किया कहता है 💯💖🇮🇳 #🥰 الله اکبر 🤗
عبدالرؤف رفیقی
573 views
4 days ago
#🥰 الله اکبر 🤗 قرآن کی یہ آیت بلکل حالات حاضرہ کے موافق ہے 💯💖🇮🇳
عبدالرؤف رفیقی
558 views
11 days ago
سورہ فاتحہ آیت نمبر ٥ کے مدنظر ظاہری اسباب کے بغیر کسی ولی اللّٰہ رسول اللّٰہ ﷺ سے مدد مانگنا جائز ہے آپ کا سوال سورۃ الفاتحہ کی آیت 5 (**إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ** — “ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں”) کے تناظر میں اس بات پر ہے کہ ظاہری اسباب کے بغیر کسی ولی اللّٰہ یا رسول اللّٰہ ﷺ سے مدد مانگنا جائز ہے یا نہیں۔ اس کا تفصیلی شرعی جواب درج ذیل ہے: ## آیت کا مفہوم اور اہم اصول علمائے تفسیر (مثلاً ابنِ کثیر، احسن البیان، وغیرہ) اس آیت کے تحت واضح کرتے ہیں کہ “إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ” سے مراد یہ ہے کہ انسان **تمام اطاعت اور تمام کاموں میں صرف اللہ سے مدد مانگتا ہے**، خاص طور پر ان امور میں جو **صرف اللہ کے اختیار** میں ہیں (جیسے شفا، رزق، غنی یا فقیر کرنا، حاجتیں پوری کرنا)۔ [1][2][3] اسی تفسیر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ: - ظاہری اسباب و وسائل (جیسے ڈاکٹر، دوا، مالی تعاون، جسمانی مدد) میں انسانوں سے مدد مانگنا **جائز** ہے، بلکہ نیکی و تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم قرآن میں ہے: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ﴾۔ [1][4] - لیکن اگر کوئی شخص **غیرِ اللہ سے ایسی مدد مانگے جو صرف اللہ کے اختیار میں ہے** (مثلاً: شفا دینا، غیبی حاجتیں پوری کرنا، دور سے یا قبر سے مدد کرنا)، تو یہ **شرک** ہے۔ [5][1][6] ## “ظاہری اسباب کے بغیر” مدد مانگنے کا شرعی حکم آپ کے الفاظ میں: “ظاہری اسباب کے بغیر کسی ولی اللّٰہ / رسول اللّٰہ ﷺ سے مدد مانگنا”۔ علماء اسے دو صورتوں میں بیان کرتے ہیں: 1. **اگر مدد “مافوق الاسباب” (غیبی/الٰہی اختیارات والی) ہو** یعنی: کسی مردہ یا غیرِ حاضر ولی/رسول سے یہ مانگنا کہ وہ **اللہ کے بغیر، اللہ کے اختیارات والی چیز** دے (شفا، رزق، حاجت پوری کرنا، مشکلات دور کرنا)، تو یہ **صریح شرک** ہے، چاہے نیت “توسل” یا “شفاعت” کی ہو۔ [1][6] 2. **اگر مدد صرف “توسل / شفاعت کی دعا” کی صورت میں ہو** یعنی: زندہ صالحین سے یہ کہنا کہ “آپ میرے لیے دعا کریں” یا “اللہ کے نزدیک آپ کا مرتبہ ہے، اللہ سے میری حاجت مانگیں” — تو یہ **جائز** ہے، بشرطیکہ یہ **دعا کی درخواست** ہو، نہ کہ یہ کہ وہ خود مختار ہیں۔ البتہ **مردہ یا غیرِ حاضر** سے اس طرح کا خطاب (براہِ راست دعا مانگنا) میں علماء کا اختلاف ہے، اور بہت سے محققین کے نزدیک یہ **منع** ہے یا کم از کم **احتیاط** پسند ہے، کیونکہ یہ شرک کے دروازے کھولتا ہے۔ [1] ## رسول اللّٰہ ﷺ سے مدد مانگنے کا خاص پہلو - **زندگی میں** صحابہ کرام ﷺ رسول اللّٰہ ﷺ سے ظاہری اسباب والی مدد (دعا، مشورہ، رہنمائی) مانگتے تھے، اور یہ جائز و مستحب ہے۔ - **وفات کے بعد** براہِ راست خطاب کر کے “یا رسول اللہ! میری حاجت پوری کر” کہنا، اگر **اللہ کے اختیارات والی چیز** کے لیے ہو، تو اکثر محققین کے نزدیک **شرک** ہے۔ [1][6] - اگر کوئی کہے “اللہ! آپ کے نبی ﷺ کے صدقے میری حاجت پوری فرما” (یعنی دعا میں نبی ﷺ کو وسیلہ بنائے، نہ کہ براہِ راست نبی سے مانگے)، تو اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے؛ بعض اسے جائز کہتے ہیں، بعض احتیاط پسند ہیں۔ ## خلاصہ (آیت 5 کے مدنظر) سورۃ الفاتحہ آیت 5 کا بنیادی اصول یہ ہے: - **عبادت اور استعانت (مدد) کا مستحقِ حقیقی صرف اللہ ہے۔** [5][7][2] - **ظاہری اسباب** (انسانی مدد) میں لوگوں سے مدد لینا **جائز** ہے۔ [1][4] - **مافوق الاسباب (غیبی/الٰہی اختیارات والی) مدد** غیرِ اللہ سے مانگنا، چاہے ولی ہو یا رسول ﷺ، **شرک** ہے۔ [1][6] اگر آپ کسی خاص عبارت، فتویٰ یا کتاب کا حوالہ چاہتے ہیں جس میں یہ تفصیل ہو (مثلاً ابنِ تیمیہ، ابنِ عثیمین، یا دیوبندی/بریلوی علماء کی عبارات)، تو بتائیں، میں مزید حوالہ جات بھی دے سکتا ہوں۔ Citations: [1] سورہ الفاتحة آیت 5 — ترجمہ و تفسیر (ابن کثیر، بھٹوی، احسن ... https://tohed.com/tafsir/1/5/ #🥰 الله اکبر 🤗 #📺اے مشت خاک [2] تفسیر سورہ الفاتحة - 5 - Quran.com https://quran.com/ur/1:5/tafsirs/tafsir-fe-zalul-quran-syed-qatab [3] سورہ الفاتحة آیت 5 — تفسیر السعدی (شیخ عبدالرحمٰن السعدیؒ) https://tohed.com/tafsir/saadi/1/5/ [4] سورۃ الفاتحة، آیت نمبر 5 - إياك نعبد وإياك نستعين https://islamicurdubooks.com/quran/tafseer_alquran_alkareem.php?faayat_id=5 [5] Surah fatiha Ayat 5 Urdu tafseer | سورہ فاتحہ کی آیت نمبر 5 ... https://surahquran.com/tafsir-Urdu-aya-5-sora-1.html [6] کیا اولیاء سے مدد مانگنا جائز ہے؟ - Sout Ul Muslim https://soutulmuslim.info/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%A1-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%AF%D8%AF-%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%86%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2-%DB%81%DB%92%D8%9F/ [7] ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں (1)۔ https://islamicurdubooks.com/ur/quran/tafseer_ahsanul_byan.php?faayat_id=5 [8] تفسیر ابنِ کثیر — تفسیر سورہ الفاتحة, آیت 5 - Quran.com https://quran.com/ur/al-fatihah/5/tafsirs/tafseer-ibn-e-kaseer-urdu [9] سورۃ الفاتحة کی تفسیر آیت نمبر 5، Tafseer ibn kaseer verse, (aayat) https://islamicurdubooks.com/quran/tafseer_ibn_kaseer.php?faayat_id=5