آپ نے کبھی قرآن مجید کی آخری دو سورتوں پر غور
فرمایا ؟...... سورہ فلق میں چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے.... اور وہ چاروں بڑی خطرناک خوفناک اور ہلاکت خیز چیزیں ہیں...... جبکہ "سورة الناس میں صرف ایک چیز سے پناہ مانگی گئی ہے... مگر وہ ایک چیز... اپنی تباہی اور ہلاکت میں... سورہ فلق والی چار چیزوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے...... اب غور کریں سورہ فلق میں چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی... مگر اس کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی صرف ایک صفت" کا وسیلہ پکڑا گیا ....... * "أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ "* (۱) تمام مخلوق کے شرمیں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی... ان چار چیزوں سے ) (۲) جادوگر عورتوں کے شر سے (۳) چھا جانے والے اندھیرے کے شر سے (۴) حسد کرنے والوں کے شر سے جب وہ اپنے حسد پر چل پڑیں...... اب "سورة الناس" کو دیکھیں... اس میں پناہ صرف ایک چیز سے مانگی گئی.... مگر آغاز میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا وسیلہ پکڑا گیا....... اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، إِلهِ النَّاسِ........ میں پناہ مانگتا ہوں .... تمام انسانوں کے رب کی... تمام انسانوں کے بادشاہ اور مالک کی... تمام انسانوں کے حقیقی معبود کی... صرف ایک چیز سے... اور وہ چیز ہے.... خناس کا وسوسہ ...... اے تمام انسانوں کے رب!... اے تمام انسانوں کے شہنشاہ.... اے تمام انسانوں کے معبود برحق .... مجھے خناس کے وسوسے کے شر سے بچالے... یہ خناس" یعنی چھپا ہوا دشمن انسان ہو یا کوئی جن یا شیطان....... "خناس" اسے کہتے ہیں جو سیدھا آپ کے دل پر وار کرے... اور آپ کو پتا ہی نہ چلے... اور وہ یہ وار کرکے چھپ جائے... چھپ جانے کا مطلب یہ ہے کہ ... یا تو نظر ہی نہ آئے ... یا بظاہر دوست اور خیر خواہ نظر آئے... مگر حقیقت میں وہ آپ کے دل میں کوئی برائی اُتار دے....... بڑا خطرناک معاملہ ہے... بہت ہی خطرناک ... دل میں وسوسہ اتر گیا تو پھر تباہی ہی تباہی ہے........
#.🥀.