🌹🌹سلسلہ نمبر چھ ترجمہ کیسے کریں 🌹🌹
عنوان طلباء کرام ترجمہ کرتے کیا غلطیاں کرتے ہیں
تحریر نمبر دو ۔حصہ دوم
👈(16): فعل ماضی کا بغیر کسی حاجت کے مضارع والا ترجمہ کرنا جس سے معنی فاسدہو جاتا ہو۔
👈(17) فعل مضارع کا بلا وجہ ماضی والا ترجمہ کرنا جس سے معنی بدل جاتا ہو۔
👈(18): مرکب ناقص کا بلا وجہ جملہ والا ترجمہ کرنا جس سے معنی غلط ہو جاتا ہو۔
👈(19): کثیر الاستعمال اور مشہور لفظ دستیاب ہونے کے باوجود اُسے چھوڑ کر اس کی جگہ کوئی غیر مشہور لفظ استعمال کرنا۔
👈(20): جب ایک لفظ کثیر معنی میں استعمال ہوتا ہو تو جو معنی متن میں مراد ہوا سے چھوڑ کر کسی ایسے معنی سے ترجمہ کرنا جو مراد نہ ہو
👈(21): عبارت میں موجود کسی لفظ کا مثلاً : اسم اشارہ یا مشار الیہ یا موصوف یا صفت یا فاعل یا مفعول بہ یا جار مجرور کا ترجمہ ہی نہ کرنا جس کی وجہ سے عبارت کا معنی بدل جاتا ہو۔
👈 (22): عبارت میں موجود حرف جر کے معنی کی تعیین کئے بغیر ترجمہ شروع کر دینا جس کی وجہ سے عبارت کا معنی بدل جاتا ہو۔ مثلاً: عبارت میں باء حرف جر نوعیت کے معنی میں استعمال ہو رہی ہو بلا وجہ اس کا سبب والا ترجمہ کرنا جس کی وجہ سے عبارت کا معنی فاسد ہو جاتا ہو۔
(👈23) بلا وجہ فعل لازم کا متعدی والا اور فعل متعدی کا لازم والا ترجمہ کرنا جس کی وجہ سے عبارت کا مفہوم بدل جاتا ہو، جیسے : لفظ ضل: کا ترجمہ کرنا: اس نے گمراہ کیا۔ بلا وجہ اس فعل لازم کا ترجمہ متعدی میں کیا گیا ہے جو بالکل غلط ہے کیونکہ یہ متعدی نہیں بلکہ فعل لازم کے قبیل سے ہے اس لئے کہ اس کا سمجھنا مفعول بہ پر موقوف نہیں ہے بلکہ یہ صرف فاعل پر ہی تمام ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اسے فعل لازم کہا جاتا ہے۔
👈(24) فعل مضارع کا جہاں حال والا ترجمہ کرنا ضروری ہو وہاں بلا وجہ اس کا مستقبل والا ترجمہ کرنا جس کی وجہ سے عبارت کا معنی ہی فاسد ہو جاتا ہو، جیسے:
وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللهُ:
یہاں فعل مضارع کا مستقبل والا ترجمہ کرنا :
اللہ تعالی کو معلوم ہو جائے گا اللہ تعالی اس کو جان لے گا اللہ کو اسکا علم ہو کر رہے گا۔ یہ سب ترجمے غلط ہیں کیونکہ یہاں فعل مضارع کا حال والا ترجمہ کیا جائے گا اس لئے کہ اللہ کا علم ازلی ابدی و قدیم ہے، لہذا اس کا درست اور معیاری ترجمہ یہ ہے: اللہ اسے پہلےسے جانتا ہے اللہ کو اس کا علم ہے اللہ اسے جانتا ہے
👈(25): جہاں فعل مضارع کا مستقبل والا ترجمہ کرنا مناسب ہو وہاں بلاوجہ اس کا حال والا ترجمہ کرنا جس کی وجہ سے عبارت کا معنی ہی بدل ہو جاتا ہو۔
(👈26): عبارت میں فعل ماضی استمراری مراد ہو اس کا بلاوجہ ماضی مطلق والا ترجمہ کرنا جس کی وجہ سے عبارت کا معنی بدل جاتا ہو۔
👈(27): عبارت میں جب اسم نکرہ کے بعد جملہ آئے تو وہاں موصوف صفت والا ترجمہ نہ کرنا جس کی وجہ سے عبارت کا معنی ہی فاسد ہو جاتا ہو، مثلاً :
النوع الثاني: التعليل بمخالفة لا تقدح في صحة الحديث :
غیر معیاری با محاوره ترجمه:
دوسری قسم یہ ہے کہ مخالفت کی وجہ سے علت بیان کرنا حدیث کی صحت میں ضعف پیدا نہیں کرتا۔
یہ ترجمہ بالکل غلط ہے کیونکہ یہ ترجمہ ترکیب نحوی کے مطابق نہیں ہے اس طرح کہ یہاں
لا تقدح خبر نہیں بلکہ مخالفة کی صفت بن رہا ہے جبکہ مترجم نے صفت والا ترجمہ نہیں کیا بلکہ خبر والا ترجمہ کیا ہے جس کی وجہ سے عبارت کا معنی بالکل بدل گیا ہے۔
وجہ یہ ہے کہ یہاں مخالفة نکرہ کے بعد جملہ آرہا ہے جو نکرہ کی صفت بن رہا ہے جبکہ مذکورہ ترجمہ سے موصوف صفت کا آپس میں معنوی تعلق ظاہر نہیں ہورہا، لہذا اس عبارت کا درست ترجمہ یوں ہوگا:
معیاری با محاوره ترجمه دوسری قسم یہ ہے کہ ایسی مخالفت کی وجہ سے علت بیان کرنا جو حدیث کی صحت میں ضعف پیدا نہ کرتی ہو۔
👈(28): ترجمہ میں بلاوجہ الفاظ کا اضافہ کرنا، مثلا:
: ان زيداً عالم:بے شک زید ہی عالم ہے۔
اس ترجمہ میں بلا وجہ لفظ "ہی" کا اضافہ کیا گیا ہے کیونکہ اردو محاورہ میں لفظ "ہی "حصر کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ متن میں حصر کا کوئی لفظ موجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسا قرینہ ہے جو حصر کا تقاضا کرتا ہو تو اس قسم کے اضافہ کو حشوو زوائد کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے، لہذا متن کے مفہوم کے مطابق یہ ترجمہ ہوگا:
بے شک زید عالم ہے۔
: أنا التواب الرحيم:
میں بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔
یہاں ترجمہ میں لفظ " اور لایا گیا ہے جو حرف عطف "و" کا ترجمہ ہے، تو لفظ " اور " نہ صرف بے محل ہے بلکہ متن پر بلا فائدہ اضافہ ہے اور اس کی بلاغت کے منافی ہے کیونکہ نحوی اور بلاغی اصولوں کے مطابق لفظ التواب الرحيم: بالترتيب خبر بعد الخبر ہیں اور خبر بعد الخبر آپس میں موصول نہیں بلکہ مفصول ہوتے ہیں یعنی معطوف و معطوف علیہ نہیں بلکہ مستقل حیثیت کے حامل ہوتے ہیں، دونوں بلا واسطہ مستقل خبر ہیں جس کی وجہ سے ان کے درمیان حرف عطف کا آنا درست نہیں ہے۔
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے درست معیاری ترجمہ فرمایا: ترجمہ کنز الایمان : میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان۔
ِانَّ إِبْرَاهِيمَ لَعَلِيمٌ أَوَّهُ مُّنِيبٌ :
ترجمہ کنز الایمان : بیشک ابراهیم تحمل والا بہت آہیں کرنے والا رجوع لانے والا
بعض اوقات اُردو ترجمہ میں دو صفتوں اور خبروں کے درمیان " اور " کا لفظ استعمال کیاجاتا ہے۔
وَ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ:
ترجمہ کنز الایمان : اور وہی حکمت و علم والا ہے۔
👈(29) بلاوجہ اسم ضمیر کا ترجمہ اسم ظاہر میں کرنا یا اسم ظاہر کا ترجمہ اسم ضمیر میں کرنا ہے نحو وبلاغت کے خلاف ہے۔
👈نوٹ:
جب تک طلبائے کرام کو درست معیاری ترجمہ کرنے پر مہارت حاصل نہ ہو تو مشورہ یہ ہے کہ اگر عبارت میں مرجع کی طرف دویا تین بارضمیر لوٹائی گئی ہو تو ضمیر کا ترجمہ کرتے وقت دوبارہ مرجع کا بھی ذکر کریں تا کہ عبارت کا مفہوم سمجھنے میں آسانی ہو اور متکلم کی مراد واضح ہو جائے اور یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ آپ خود کس حد تک عبارت سمجھے ہیں۔
👈(30): بسا اوقات عبارت میں موجود لفظ کے ایک سے زائد معانی ہوتے ہیں تو ترجمہ کرنے سے پہلے موقع محل کے اعتبار سے کسی ایک معنی کی تعیین کرنا ضروری ہے ۔ جبکہ بعض طلبہ کسی ایک معنی مرادی کا تعین کئے بغیر عبارت کا ترجمہ کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور اکثر پریشان نظر آتے ہیں۔ اگر ترجمہ کرتے وقت صحیح معنی کا تعین کر لیا جائے تو انہیں عبارت کا ترجمہ کرنے اور عبارت سمجھنے میں پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
👈(31): بعض طلبہ بالکل غلط ترجمہ کرتے ہیں پھر اپنی غلط بات ثابت کرنے کے لئے یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ با محاورہ ترجمہ کیا ہے مفہومی ترجمہ کیا ہے سمجھ میں یہ آرہا ہے، یہ ترجمہ بیٹھ نہیں رہا تھا، جچ نہیں رہا تھا اس وجہ سے ایسا ترجمہ کیا ہے مگر اس طرح کے الفاظ کہہ کر در حقیقت وہ اپنی کمزوریاں چھپا رہے ہوتے ہیں۔
👈نوٹ عزیز طلباء کرام یے کچھ ہمارے اندر کمزوریاں ہیں جو ہم ترجمہ کرتے وقت کرتے ہیں کوشش کریں ہم اپنی غلطیاں دور کریں اللہ تعالیٰ ہم سب کو علم نافع کی دولت نصیب فرمائے
#🕌سیرت النبیﷺ📓 #📗حدیث کی باتیں📜 #🕌سنّت رسول 🕋