’’حیدر، حیدر، حیدر‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہم
*طاہر القادری سے عبرت حاصل کیجئے!*
سچ فرمایا تھا حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے روافض سے محب اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہونے کا سرٹیفیکٹ مانگنے کا سوچو بھی نہیں، وہ اس وقت تک تمہیں اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا محب قرار نہیں دیں گے جب تک تم بھی ان کی طرح صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر معاذ اللہ طعن نہیں کرو گے جو کہ واضح جہنم کا راستہ ہے۔ دیکھو! طاہر القادری نے روافض سے یہ سند لینے کے لیے اپنے اکابر کا راستہ چھوڑا، کیا کیا پاپڑ بیلے، عقائد اہل سنت میں کتنا بگاڑ پیدا کیا، شاید روافض کے اپنے کسی لیڈر نے سنی نوجوانوں کو بہکا کر اتنا گمراہ نہ کیا ہو جتنا ان کے اس سہولت کار نے عوام اہل سنت کو رفض کی طرف دھکیلنے میں کردار ادا کیا ہے۔
اس سب کچھ کے باوجود چند دن پہلے جب طاہر القادری نے مجمع عام میں ’’حیدر، حیدر، حیدر‘‘ کا نعرہ لگانے سے روکا ہے تو روافض نے بلکہ ان کی بی ٹیم کے بعض لوگوں نے بھی سوشل میڈیا پر بڑی شد و مد سے طاہر القادری کو منافق قرار دیتے ہوئے اسے اہل بیت رضی اللہ عنہم کا بغضی قرار دیا ہے۔ آج سوشل میڈیا اس سے بھر ا پڑا ہے۔ اب منہاج کے برائلر چوزے جو ہمیں بغض اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا طعنہ دیتے نہیں تھکتے، اب ذرا دیکھیں ان کے گرو کی کیا درگت بنائی جا رہی تھی۔ ہم نے کہا کہ بغض اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے سینہ پاک ہونا ضروری ہے۔ باطل سے ادھار کھائے لوگوں کے بغض اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے طعنوں کی کوئی پروا نہیں۔ یہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے کہ طاہر القادری کا مخصوص انداز میں ایک دوسرے طبقے کی طرح ’’حیدر، حیدر، حیدر‘‘ کہنے کو روکنا صحیح ہے یا غلط۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس نے زندگی میں پہلی بار غیروں کے طریقے اور اہل سنت کے طریقے میں اپنی رائے کے مطابق فرق کرنے کی بات کی ہے اور اہل سنت کو اہل سنت کا نام لیے بغیر یہ کہنے کی ہمت کی ہے کہ اوروں کے طریقے سے بچو اور اپنے طریقے پہ چلو۔ ہم تو سالہا سال سے اہل سنت کو صلح کلیت کے مرض سے بچاتے آ رہے ہیں اور سنی مسلک کا اوروں سے دلیل و برہان کی روشنی میں فرق بیان کرنا ہی ہمارا بڑا جرم قرار پایا ہے جس کی پاداش میں ہمیں جیلیں بھگتنی پڑیں اور آج بھی طرح طرح کی پابندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ طاہر القادری نے تو ابھی صرف اس فرق کو واضح کرنے کی بالکل معمولی سی بات کی ہے۔ یوں سمجھو کہ سو میں سے ایک فیصد بھی نہیں بلکہ اس کو بمشکل آدھا فیصد کہا جا سکتا ہے لیکن اس کے باجود اس سے محبت اہل بیت علیہم الرضوان کی سند کچھ لوگوں نے چھین لی ہے۔ یہ عبرت ہے ان سارے پیروں، خطیبوں، لیڈروں، نقیبوں، نعت خوانوں، اور عوام کے لیے جو اکابر کے مسلک کی پروا کیے بغیر روافض سے داد یا امداد لینے کے چکر میں ہیں۔ تم تو ان کے لیے وہ کچھ کر ہی نہیں پاؤ گے جو طاہر القادری نے کیا پھر بھی آج ان کی طرف سے بہروپیا اور منافق کہلایا۔ لہٰذا اپنے گھر بیٹھو، اپنے اکابر کا دامن تھامو اورغیروںکا منظور نظر بننے والی سوچ چھوڑ دو۔
اسی طاہر القادری نے ’’حیدر، حیدر‘‘ کا انکار نہیں کیا، صرف اہل سنت کے چند سال پہلے تک مروجہ طریقہ کی نشاندہی کی، یوں سمجھو کہ اس نے اہل سنت اور روافض کے درمیان فرق کے لیے پہلی بار آدھا فیصد آواز بلند کی تو ساتھ ہی روافض نےبھی۔
#🕌حقائق اسلام☪ #مرشد #📝روحانی مکتوبات☪️ #👨🏻🏫لوگوں کے لئے سیکھ🧑🤝🧑 #👳♂️روحانی رہنما💞