زندگی کا درد لے کر انقلاب آیا تو کیا
ایک دوشیزہ پہ غربت میں شباب آیا تو کیا
تشنہ انوار ہے اب تک عروسِ زندگی
بادلوں کی پالکی میں آفتاب آیا تو کیا
اب تو آنکھوں میں غمِ ہستی کے پردے پڑ گئے
اب کوئی حسنِ مجسم بے نقاب آیا تو کیا
پھر وہی جہدِ مسلسل پھر وہی فکر معاش
منزل جاناں سے کوئی کامیاب آیا تو کیا
اک تجلی سے منور کیجئے قصرِ حیات
ہر تجلی پر دلِ خانہ خراب آیا تو کیا
بات جب ہے غم کے ماروں کو جلا دے اے شکیل
تو یہ زندہ میتیں مٹی میں داب آیا تو کیا
شکیل بدایونی
#✌اردو ہماری شان📚 #🖊️اردو زبان پر شاعری📖 #📝عظیم اردو شعراء✒️ #🎭سنسنی خیز کہانیاں😲 #📤Love Status💖


