`📜 اپریل پُھول کی تاریخی و شرعی حیثیت`
*قسط 1.*
*اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ اس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کے لیے اپنے ماننے والوں کو بہترین اور عمدہ اصول وقوانین پیش کیے ہیں۔ اخلاقی زندگی ہو یا سیاسی، معاشرتی ہو یا اجتماعی اور سماجی ہر قسم کی زندگی کے ہر گوشہ کے لیے اسلام کی جامع ہدایات موجود ہیں اور اسی مذہب میں ہماری نجات مضمر ہے۔*
*مگر آج ہمیں یورپ اور یہود ونصاریٰ کی تقلید کا شوق ہے اور مغربی تہذیب کے ہم دلدادہ ہیں۔ یورپی تہذیب وتمدن اور طرزِ معاشرت نے مسلمانوں کی زندگی کے مختلف شعبوں کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ مسلمانوں کی زندگی میں انگریزی تہذیب کے بعض ایسے اثرات بھی داخل ہوگئے ہیں، جن کی اصلیت وماہیت پر مطلع ہونے کے بعد ان کو اختیار کرنا انسانیت کے قطعاً خلاف ہے؛ مگر افسوس کہ آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان اثرات پر مضبوطی سے کاربند ہے؛ حالاںکہ قوموں کا اپنی تہذیب وتمدن کو کھو دینا اور دوسروں کے طریقہٴ رہائش کو اختیار کر لینا ان کے زوال اور خاتمہ کا سبب ہوا کرتا ہے۔*
*مذہبِ اسلام کا تو اپنے متبعین سے یہ مطالبہ ہے : ”یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِیْ السِّلْمِ کَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ“ (البقرہ آیت۲۰۸) ترجمہ: اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدم پر مت چلو، یقینا وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (بیان القرآن)*
*یہود ونصاریٰ کی جو رسومات ہمارے معاشرہ میں رائج ہوتی جا رہی ہیں، انھیں میں سے ایک رسم `”اپریل فول“` منانے کی رسم بھی ہے۔ اس رسم کے تحت یکم اپریل کی تاریخ میں جھوٹ بول کر کسی کو دھوکا دینا، مذاق کے نام پر بے وقوف بنانا اور اذیت دینا نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے؛ بلکہ اسے ایک کمال قرار دیا جاتا ہے۔ جو شخص جتنی صفائی اور چابک دستی سے دوسروں کو جتنا بڑا دھوکا دے دے، اُتنا ہی اُس کو ذہین، قابلِ تعریف اور یکم اپریل کی تاریخ سے صحیح فائدہ اٹھانے والا سمجھا جاتا ہے۔ یہ رسم اخلاقی، شرعی اور تاریخی ہر اعتبار سے خلافِ مروت، خلافِ تہذیب اور انتہائی شرمناک ہے۔ نیز عقل ونقل کے بھی خلاف ہے۔*
#🤲क़ुरान शरीफ़📗 #💖💖islamic post💖💖 #💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 #Islamic baate حدیث شریف

