امام غزالی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ
ایک شخص کو جنگل میں پتھروں سے بھری ایک تھیلی ملی جنکی قیمت سے وہ آگاہ نہ ہوسکا۔ اس نے ان پتھروں کو دائیں بائیں ندی نالوں میں پھینک دیا یہاں تک کہ جب گھر پہنچا تو اسکے ہاتھ میں بس ایک پتھر تھا۔
اس شخص کا دوست جوکہ گوہر شناس تھا، نے اسکے ہاتھ میں یہ پتھر دیکھا تو تجسس بھرے لہجے میں پوچھا کہ یہ قیمتی پتھر تجھے کہاں سے ملا؟
اس نے کہا کہ جنگل سے۔
گوہر شناس دوست نے پوچھا کہ کیا یہ پتھر مجھے فروخت کرو گے؟
اس پر اس شخص نے مسکرانا شروع کردیا ☺️یہ تاثر دیتے ہوئے کہ بھلا اس پتھر کی بھی کوئی قیمت ہے؟
جب گوہر شناس نے قیمت بتائی تو وہ شخص رونے لگا
گوہر شناس نے رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ میرے پاس اس طرح کے بہت سارے پتھر تھے جنہیں میں نے عدمِ واقفیت کے باعث ضائع کر دیا
اگر وہ سارے میرے پاس ہوتے تو میں کتنا مالدار ہو جاتا😭
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب انسان مرنے کے بعد میدانِ محشر میں اپنے ان لمحات کی قیمت کو دیکھے گا جو اس نے اللہ کی فرمانبرداری میں گزارے ہوں گے تو روئے گا اور چِلائے گا کہ میرے پاس تو اس طرح کے بہت سے لمحات تھے جنہیں میں نے دنیا میں ضائع کردیا
کاش کہ میں نے ان لمحات کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزارا ہوتا تو آج میرے پاس نیکیوں کا ایک ذخیرہ جمع ہوتا اور میری بخشش ہوجاتی۔
اس لیے آنکھ بند ہونے سے قبل زندگی کے قیمتی لمحات کی قدر کریں۔۔۔ زندگی ہر ہر لمحے موت کے قریب کر رہی ہے
اللہ کریم ہمیں دنیا سے اس حالت میں اٹھانا کہ تو ہم سے راضی ہوچکا ہو آمین #📝اسلام کا پیغام 🕌 #🌙 خوابوں کی دنیا 😇 #🍂احساس🍂 # 🤗 جذبات 🤗 #🕌دینی مسائل🕮

