ShareChat
click to see wallet page
search
https://whatsapp.com/channel/0029VakMzHlHgZWW00L8hY3j/8728 *گزشتہ سبق کے لیے👆🏻 کلک کریں* *جائزہ و غور و فکر کے سوالات* — *سبق اول* *(حضرت آدم علیہ السلام)* *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں* #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #Deen ki Baten *1۔ لغزش اور انسان کی ذمہ داری* حضرت آدم علیہ السلام کی بھول ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہر انسان کو فطرتاً خطا کا سامنا ہوتا ہے، لیکن خطا کے بعد کیا میں اپنی ذمہ داری سمجھ کر فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں؟ *2۔ وسوسوں اور فریب سے بچاؤ* شیطان نے وسوسے کے ذریعے آدم علیہ السلام کو بھول کی طرف مائل کیا۔ کیا میں اپنے دل میں آنے والے وسوسوں اور نفسانی خواہشات کو پہچان کر اللہ کے حکم کے مطابق رہنے کی عملی کوشش کرتا ہوں؟ *3۔ عاجزی اور اعتراف کی قوت* آدم علیہ السلام نے اپنی بھول تسلیم کی اور اللہ سے مدد طلب کی۔ کیا میں بھی اپنی غلطیوں کو چھپانے یا دوسروں پر ڈالنے کی بجائے عاجزی اور سچائی کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہوتا ہوں؟ *4۔ اللہ کی رحمت اور امید پر پختہ یقین* اللہ نے آدم علیہ السلام کی بھول کے باوجود توبہ قبول کی۔ کیا میں ہر حال میں اللہ کی رحمت اور بخشش پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور مایوسی کی طرف نہیں جھکتا؟ *5۔ زندگی کو امتحان سمجھنا اور سنجیدہ رویہ* زمین پر بھیجنا سزا نہیں بلکہ امتحان تھا۔ کیا میں اپنی زندگی کے حالات کو اللہ کی آزمائش اور رہنمائی کے موقع کے طور پر دیکھ کر ہر عمل میں سنجیدہ رہتا ہوں؟ *6۔ ہدایت کی پیروی اور نجات* اللہ نے فرمایا جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس پر نہ خوف ہوگا نہ غم۔ کیا میں واقعی اپنی زندگی کے ہر فیصلہ میں اللہ کی ہدایت کو اپنا معیار بناتا ہوں؟ *7۔ توحید اور بندگی کا شعور* لغزش کے بعد بھی آدم علیہ السلام نے اللہ کی ذات اور اس کی فرمانبرداری کو برقرار رکھا۔ کیا میں اپنی زندگی میں توحید اور بندگی کو مکمل اور عملی طور پر اپنانے کے لیے تیار ہوں؟ *8۔ دل کی اصلاح اور عملی استقامت* لغزش کے بعد رجوع اور توبہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ دل کی اصلاح انسان کی اصل طاقت ہے۔ کیا میں اپنی زندگی میں دل کی اصلاح اور عملی استقامت کے لیے مستقل کوشش کر رہا ہوں؟ *9۔ شعوری انتخاب اور عمل کا معیار* زمین پر زندگی کے ہر عمل کے لیے انسان جوابدہ ہے۔ کیا میں اپنے ہر عمل میں شعوری طور پر اللہ کی رضا اور اس کے معیار کے مطابق عمل کرتا ہوں؟ *10۔ توبہ اور رجوع کا مستقل طریقہ* آدم علیہ السلام کی بھول کے بعد رجوع ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ توبہ مستقل عمل ہے، نہ کہ ایک وقتی احساس۔ کیا میں بھی اپنی زندگی میں ہر لغزش کے بعد اسی طرح اللہ کی طرف پلٹنے کا طریقہ اپناتا ہوں؟ *11۔ ایمان اور عمل میں استقامت* لغزش کے بعد عمل اور رجوع ایمان کو مضبوط کرتے ہیں۔ کیا میں اپنے دل اور عمل میں استقامت پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتا ہوں؟ *12۔ غور و فکر اور قلبی مضبوطی* یہ سبق ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ غلطی انسان کی فطرت ہے، لیکن رجوع، توبہ اور اللہ کی ہدایت پر عمل ایمان کو مضبوط اور قلبی طور پر پختہ کرتا ہے۔ کیا میں اپنے دل میں یہ عہد کرتا ہوں کہ لغزش کے بعد بھی اللہ کی طرف پلٹنا اور اس کی ہدایت پر عمل کرنا میرا مستقل معیار ہوگا؟ #💚__الحمدللہ..
💖💖islamic post💖💖 - ShareChat
محبین دارالعلوم دیوبند✅ MUHIBBEEN DARUL ULOOM DEOBAND: https://whatsapp.com/channel/0029VakMzHlHgZWW00L8hY3j/8715 *بسم اللہ الرحمن الرحیم* *✴️ قرآنی تحریری کورس* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *دن اوّل* *سبق: حضرت آدم علیہ السلام*— *تخلیقِ انسان، خلافتِ ارضی اور توحید کی بنیاد* اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا اعلان خود فرمایا تاکہ انسان ابتدا ہی میں جان لے کہ وہ بے مقصد نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے ساتھ زمین پر بھیجا گیا ہے، یہ اعلان ہر انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ *﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾* ترجمہ: اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ یہ آیت انسان سے پہلا بنیادی سوال کرتی ہے کہ اگر میں اللہ کا خلیفہ ہوں تو کیا میری زندگی بھی اللہ کے حکم کے تابع ہے یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف وجود نہیں دیا بلکہ علم عطا کر کے اس کی اصل فضیلت واضح فرما دی۔ *﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾* ترجمہ: اور اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیے۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ علم کو غرور نہیں بلکہ اللہ کی پہچان اور اطاعت کا ذریعہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے انسان کے علم کو ظاہر فرمایا تاکہ واضح ہو جائے کہ انسان کی عزت اللہ کی عطا سے ہے۔ *﴿قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ﴾* ترجمہ: اللہ نے فرمایا اے آدم! انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ یہ آیت انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ جو کچھ اسے ملا ہے وہ اللہ کی طرف سے امانت ہے۔ فرشتوں نے اپنی کم علمی کا اعتراف کیا، یہ اطاعت اور عاجزی کی اعلیٰ مثال ہے۔ *﴿قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا﴾* ترجمہ: انہوں نے کہا تو پاک ہے، ہمیں کوئی علم نہیں مگر وہ جو تو نے ہمیں سکھایا۔ یہ آیت انسان کو سکھاتی ہے کہ اصل علم وہی ہے جو انسان کو اللہ کے سامنے جھکا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدے کا حکم دیا تاکہ اطاعت اور انکار کا فرق نمایاں ہو جائے۔ *﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ﴾* ترجمہ: اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ فرشتوں نے فوراً حکم مان لیا مگر ابلیس نے تکبر کیا۔ *﴿فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ﴾* ترجمہ: پس سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا اور تکبر کیا۔ یہ آیت انسان کو خبردار کرتی ہے کہ تکبر انسان کو بندگی سے نکال دیتا ہے۔ ابلیس نے اپنے انکار کی وجہ خود بیان کی تاکہ انسان ہمیشہ اس فریب کو پہچانتا رہے۔ *﴿قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ﴾* ترجمہ: اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ نسل، قوم، عقل یا برتری کی بنیاد پر حق کو رد نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ تکبر ایمان کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ *﴿فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ﴾* ترجمہ: فرمایا نکل جا، تو ذلیل لوگوں میں سے ہے۔ یہ آیت انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ کے ہاں عزت اطاعت میں ہے، انا میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جنت میں رہائش عطا فرمائی، یہ اللہ کی نعمت اور رحمت کا اظہار ہے۔ *﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾* ترجمہ: اور ہم نے کہا اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانے اور شکر کے ساتھ اطاعت اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ نے آزادی کے ساتھ حد بھی مقرر فرما دی تاکہ انسان امتحان کو سمجھے۔ *﴿وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ﴾* ترجمہ: اور اس درخت کے قریب نہ جانا۔ یہ آیت انسان کو سکھاتی ہے کہ حقیقی آزادی اللہ کی حدود کے اندر ہے۔ *غور و فکر (دن اوّل)* میں کس کا خلیفہ ہوں میرا علم مجھے اللہ کے قریب کر رہا ہے یا دور کیا میری انا مجھے حق قبول کرنے سے روکتی ہے کیا میں اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار بندہ ہوں *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*
Channel • 24K followers