ShareChat
click to see wallet page
search
*بسم اللہ الرحمن الرحیم* اللھم صل علٰی سیدنا و مولانا محمّد ﷺ ____غیبت____ کسی کا کوی غاںٔبانہ عیب بیان کرنا،یا پیٹھ پیچھے اس کو بُراکہنا یہی غیبت ہے۔ غیبت ان گناہوں میں سے ہے جو کثیر الوقوع ہیں۔ اور باجودیکہ سخت گناہ کبیرہ ہے۔ یہاں تک کہ زنا سے بھی بدتر گناہ ہے۔ مگر!! موجودہ دور میں بہت ہی کم ایسے ہیں جو اس گناہ سے پاک ہیں۔ عوام تو عوام بڑے بڑے علما ، عالمات ،مفتی، مفتیہ نیز پیروں کا دامن بھی اس گناہ کی نحوست سے آلود نظر آتاہے۔ علماء و مشاںٔخ کی شاید ہی کوںٔی مجلس ہوگی جو اس گناہ کی ظلمت سے خالی ہو۔ پھر! حیرت کی بات تو یہ ہے کہ لوگ غیبت کے عادی اس قدر ہو گںٔے ہیں گویا کہ یہ انکے نزدیک گناہ ہے ہی نہیں۔ مگر یاد رکھیں!! علماکی مجلس ہو یا عوام کا مجمع، ہر جگہ، ہر حال میں "غیبت "حرام و گناہ ہے اور گناہ بھی گناہِ کبیرہ ہے۔ ❗لہذا جب کبھی غفلت میں کوںٔی غیبت زبان سے نکل جاے تو فوراً توبہ کر لینی چاہیے۔ اور جس کی غیبت کی ہے ( گر اس کو معلوم ہوگیا ہو) تو اس سے معافی مانگ لینی چاہیے ؛ کیوں کہ اسی میں مومن کی دینی و دنیوی فلاح ہے اور یہی نجات کا راستہ ہے۔ اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ولا یغتب بعضکم بعضا أ یحب احدکم ان یاکل لحم اخیہ میتا فکرھتموہ و اتقوا اللہ ان اللہ تواب رحیم( پ ٢٦ الحجرات آیت : ١٢) ترجمہ کنز الایمان: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیاتم‌میں کوںٔی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھاںٔی کا گوشت کھاۓ تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت تو بہ قبول کرنیوالا مہربان ہے۔ بنت حافظ و قاری محمد شبیر احمد ١٢/ دسمبر٢٠٢٥ #🕌سیرت النبیﷺ📓 #📗حدیث کی باتیں📜
🕌سیرت النبیﷺ📓 - ShareChat