🌙 *سفرِ معراج کے متعلق عقیدہ اہلسنت* 🌙
سفرِ معراج کے تین حصے ہیں:
(۱) اِسراء
(۲) معراج
(۳) اِعراج / عروج
حصۂ اوّل: اِسراء
عروج کا پہلا مرحلہ اِسراء ہے، جو قرآنِ پاک کی قطعی نص سے ثابت ہے۔
چنانچہ پارہ 15، سورۃ الاسراء (جسے سورۃ بنی اسرائیل بھی کہا جاتا ہے) کی ابتدائی آیت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ- اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ (1)
ترجمہ کنز العرفان ؛
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر کرائی، جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں، تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والا ہے۔
*معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق عقیدہ اہلسنت*
صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں:
ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی۔
مکۂ مکرمہ سے حضورِ پُرنور ﷺ کا بیت المقدس تک شب کے مختصر حصے میں تشریف لے جانا نصِ قرآنی سے ثابت ہے،
اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔
آسمانوں کی سیر اور منازلِ قرب تک پہنچنا احادیثِ صحیحہ، معتمدہ اور مشہورہ سے ثابت ہے، جو حدِّ تواتر کے قریب ہیں؛
اس کا انکار کرنے والا گمراہ ہے۔
معراج شریف بحالتِ بیداری، جسم و روح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی یہی جمہور اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے۔
رسولِ کریم ﷺ کے کثیر صحابہ اور اجلّہ اصحاب اسی عقیدے کے معتقد تھے۔
(خزائنُ العرفان، ص: 451)
اِعراج / عروج کا مسئلہ
اِعراج یا عروج سے مراد یہ ہے کہ سرکارِ نامدار ﷺ نے سر کی آنکھوں سے دیدارِ الٰہی کیا اور فوقَ العرش (عرش سے بھی اوپر) تشریف لے گئے۔
اس کا انکار کرنے والا خاطی (خطا کار) ہے۔
✨ یہی عقیدۂ حق ہے، یہی مسلکِ اہلِ سنت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدۂ صحیحہ پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین 🤲 #🕌 شب ی معراج مبارک ہو 📿# #🏵شب معراج کی رات🏵 #🕋 شب و معراج مبارک 📿#
00:26

