🌼 مقدر اور نصیب 🌼
ایک صاحب سفر میں تھے۔ راستے میں نماز کا وقت آیا تو وہ ایک آبادی میں داخل ہوئے۔ مسجد کا پتا کیا، قریب ہی مسجد مل گئی۔
مسجد کی طرف بڑھتے ہوئے دل میں خیال آیا کہ سواری (گھوڑا) اور اس پر لگی قیمتی زین کس کے حوالے کی جائے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ نماز کے دوران کوئی چوری نہ کر لے۔
اسی سوچ میں تھے کہ ایک نوجوان نظر آیا۔ اسے بلایا اور کہا:
“بیٹا! میں مسافر ہوں، نماز کا وقت ہو رہا ہے۔ کیا تم نماز کے اختتام تک میری سواری اور سامان کی حفاظت کر سکتے ہو؟”
نوجوان نے جواب دیا:
“جی کیوں نہیں، آپ بے فکر ہو کر نماز ادا کریں، میں یہیں کھڑا رہوں گا۔”
وہ صاحب مطمئن ہو کر مسجد چلے گئے۔
لیکن جب نماز پڑھ کر واپس آئے تو حیرت زدہ رہ گئے…
نہ وہ نوجوان موجود تھا اور نہ ہی گھوڑے کی زین۔
صبر کرتے ہوئے وہ بازار کی طرف روانہ ہوئے کہ نئی زین خرید لیں۔ ایک دکان پر نظر پڑی تو دل چونک اٹھا —
وہی زین دکان میں لٹک رہی تھی۔
پوچھا:
“یہ زین کہاں سے آئی؟”
دکاندار نے کہا:
“ابھی ایک لڑکا دو درہم میں بیچ کر گیا ہے۔”
یہ سن کر وہ صاحب افسوس سے بولے:
“کاش اس نے تھوڑا صبر کر لیا ہوتا… تو یہ دو درہم حرام نہ ہوتے۔
میں نے تو نماز میں یہی ارادہ کیا تھا کہ نماز کے بعد اسے دو درہم بطور ہدیہ دوں گا۔”
جلد بازی نے اس لڑکے کو حلال سے محروم اور حرام کا مرتکب بنا دیا۔
✨ سبق:
انسان کو رزق اتنا ہی ملتا ہے جتنا اللہ نے اس کے نصیب میں لکھ دیا ہوتا ہے۔
یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اسے حلال طریقے سے حاصل کریں یا حرام طریقے سے۔
صبر کر لیا جائے تو رزق بھی ملتا ہے اور برکت بھی۔
🌸 یاد رکھیں:
جو چیز مقدر میں ہو، وہ مل کر رہتی ہے —
فرق صرف طریقے کا ہوتا ہے۔
🤍 ری ایکٹ کیا کریں
ری ایکٹ صرف ایک بٹن نہیں بلکہ:
احساس کی علامت ہے،
شعور کی،
جذبے کی،
اخلاق کی،
حوصلہ افزائی کی،
قدردانی کی،
شکریے کی،
اور باہمی تعلق کی۔
اسے معمولی مت سمجھیں۔
سلامت رہیں 🌹
بارك الله بكم جميعا 🤲
✨ محمد اسماعیل ذبیح اللہ
#💞دعا میں یاد رکھنا 🤲🏻 #🥰میرا سٹیٹس ❤️


