#अल्लाहु अकबर #💖💖islamic post💖💖 #Deen ki Baten #💚__الحمدللہ..
*🎍﷽ 🎍*
┯━══◑━═━┉─○─┉━◐══┯
*●•۔ شب براءت کی حقیقت •●*
*◐ پارٹ - 12 ◐*
╥────────────────────❥
*❂_پندرہویں شعبان کا روزہ ثابت نہیں_❂*
▦══────────────══▦
*❂_بعض حضرات پندرہویں شعبان کے روزہ کو سنت بتاتے ہیں، ان کو ابن ماجہ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے دھوکہ ہوا۔ یہ روایت معتبر نہیں ۔ اور روزہ کا ذکر اسی روایت میں ہے۔ یہ حدیث نمبر ۸ ہے۔ اس کے حاشیہ میں بتایا گیا ہے کہ اس میں ایک راوی ابن ابی سبرہ بہت ہی ضعیف ہے۔ اس پر حدیث وضع کرنے کا الزام ہے _,"*
*(میزان الاعتدال للذہبی جلد ۴، صفحہ ۵۰۳)*
*❂"_ در مختار میں ہے کہ ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی شرط یہ ہے کہ اس کا ضعف شدید نہ ہو اور وہ اصل عام کے تحت ہو اور یہ کہ اس کی سنیت پر اعتقاد نہ رکھا جائے_,"*
*(درمختار مع الشامی جلد ا صفحہ ۸۷ طبع نعمانی )*
*"_اور یہ حدیث تواشد ضعیف ہے، اور اس کا کوئی اور طریق بھی معلوم نہیں ۔*
*❂"_ اس لئے یہ روزہ نفل کی نیت سے رکھ سکتے ہیں، سنت یا ثابت سمجھ کر نہیں۔ ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسے عمل کی نسبت ہوگی جو آپ سے ثابت نہیں ۔ اور یہ بہت خطرناک بات ہے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تم کو معلوم نہ ہو میری طرف سے حدیث بیان نہ کرو، جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بناۓ ۔ (مشکوۃ صفحہ ۳۵)*
*❂_بیہقی نے شعب الایمان میں ایک راویت ذکر کی ہے۔ جس میں چودہ رکعت کی ایک نماز مذکور ہے۔ اس کے بعد ۱۴- ۱۴ مرتبہ سورۂ فاتحہ، اخلاص، معوذتین، آیت الکرسی وغیرہ پڑھنا اور پھر صبح کو روزہ رکھنا اور اس روزہ کا ثواب دو سال کے روزوں کے برابر ہوتا ہے، بیہقی نے اس کو ذکر کر کے امام احمد کا قول ذکر کیا کہ یہ حدیث موضوع معلوم ہوتی ہے اور یہ منکر ہے اس میں عثمان بن سعید جیسے لوگ مجہول ہیں۔ (جن کا کچھ پتہ نہیں )*
*(شعب الایمان البیہقی، جلد 3 صفحہ ٣٨٧)*
*"_ آلوسی نے بھی بیہقی کا یہ کلام ذکر کیا ہے۔ ( روح جلد ۲۵،صفحہ ۱۱۱)*
*❂_شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے بھی اس حدیث کو نقل کر کے مذکورہ کلام نقل کیا اور لکھا کہ جوزقانی نے اس کو اباطیل میں نقل کیا اور ابن الجوزی نے موضوعات میں اور کہا کہ موضوع ہے (ما ثبت بالسنۃ صفحہ ۲۱۳ ،تحفه جلد ۲، صفحہ ۵۴)*
*❂_ مسئلہ:- ایک مسئلہ شب برأت کے بعد والے دن یعنی پندرہویں شعبان کے روزے کا ہے اس کو بھی سمجھ لینا چاہیے، "_وہ یہ ہے کہ سارے ذخیرہ حدیث میں اس روزے کے بارے میں صرف ایک روایت میں ہے کہ شب برأت کے بعد والے دن کو روزہ رکھو, لیکن یہ روایت ضعیف ہے، لہذا اس روایت کی وجہ سے خاص پندرہویں شعبان کے روزے کو سنت یا مستحب قرار دینا بعض علماء کے نزدیک درست نہیں، البتہ پورے شعبان کے مہینے میں روزے رکھنے کی فضیلت ثابت ہے یعنی یکم شعبان سے 27 شعبان تک روزے رکھنے کی فضیلت ثابت ہے _,"*
*( البلاغ، جمادی الثانی / رجب 1417 ہجری)*
*_ 📝_ شب براءت کی حقیقت :- حضرت مولانا فضل الرحمٰن اعظمی _,"*
╨─────────────────────❥

