ShareChat
click to see wallet page
search
#قرآن کریم #, اردو ترجمہ #Deen ki Baten #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #🕋🌹☪️آؤ علم دین حاصل کرے☪️🌹🕋 *✴️ قرآنی تحریری کورس* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *دن اوّل* *سبق: حضرت آدم علیہ السلام*— *تخلیقِ انسان، خلافتِ ارضی اور توحید کی بنیاد* اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا اعلان خود فرمایا تاکہ انسان ابتدا ہی میں جان لے کہ وہ بے مقصد نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے ساتھ زمین پر بھیجا گیا ہے، یہ اعلان ہر انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ *﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾* ترجمہ: اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ یہ آیت انسان سے پہلا بنیادی سوال کرتی ہے کہ اگر میں اللہ کا خلیفہ ہوں تو کیا میری زندگی بھی اللہ کے حکم کے تابع ہے یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف وجود نہیں دیا بلکہ علم عطا کر کے اس کی اصل فضیلت واضح فرما دی۔ *﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾* ترجمہ: اور اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیے۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ علم کو غرور نہیں بلکہ اللہ کی پہچان اور اطاعت کا ذریعہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے انسان کے علم کو ظاہر فرمایا تاکہ واضح ہو جائے کہ انسان کی عزت اللہ کی عطا سے ہے۔ *﴿قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ﴾* ترجمہ: اللہ نے فرمایا اے آدم! انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ یہ آیت انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ جو کچھ اسے ملا ہے وہ اللہ کی طرف سے امانت ہے۔ فرشتوں نے اپنی کم علمی کا اعتراف کیا، یہ اطاعت اور عاجزی کی اعلیٰ مثال ہے۔ *﴿قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا﴾* ترجمہ: انہوں نے کہا تو پاک ہے، ہمیں کوئی علم نہیں مگر وہ جو تو نے ہمیں سکھایا۔ یہ آیت انسان کو سکھاتی ہے کہ اصل علم وہی ہے جو انسان کو اللہ کے سامنے جھکا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدے کا حکم دیا تاکہ اطاعت اور انکار کا فرق نمایاں ہو جائے۔ *﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ﴾* ترجمہ: اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ فرشتوں نے فوراً حکم مان لیا مگر ابلیس نے تکبر کیا۔ *﴿فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ﴾* ترجمہ: پس سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا اور تکبر کیا۔ یہ آیت انسان کو خبردار کرتی ہے کہ تکبر انسان کو بندگی سے نکال دیتا ہے۔ ابلیس نے اپنے انکار کی وجہ خود بیان کی تاکہ انسان ہمیشہ اس فریب کو پہچانتا رہے۔ *﴿قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ﴾* ترجمہ: اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ نسل، قوم، عقل یا برتری کی بنیاد پر حق کو رد نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ تکبر ایمان کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ *﴿فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ﴾* ترجمہ: فرمایا نکل جا، تو ذلیل لوگوں میں سے ہے۔ یہ آیت انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ کے ہاں عزت اطاعت میں ہے، انا میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جنت میں رہائش عطا فرمائی، یہ اللہ کی نعمت اور رحمت کا اظہار ہے۔ *﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾* ترجمہ: اور ہم نے کہا اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانے اور شکر کے ساتھ اطاعت اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ نے آزادی کے ساتھ حد بھی مقرر فرما دی تاکہ انسان امتحان کو سمجھے۔ *﴿وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ﴾* ترجمہ: اور اس درخت کے قریب نہ جانا۔ یہ آیت انسان کو سکھاتی ہے کہ حقیقی آزادی اللہ کی حدود کے اندر ہے۔ *غور و فکر (دن اوّل)* میں کس کا خلیفہ ہوں میرا علم مجھے اللہ کے قریب کر رہا ہے یا دور کیا میری انا مجھے حق قبول کرنے سے روکتی ہے کیا میں اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار بندہ ہوں *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*