#Ramazan mubarak #💖💖islamic post💖💖 #mah-e-ramazan ki fazilat #अल्लाहु अकबर #Deen ki Baten
*💫 رمضان المبارک کی عظمت، حرمت اور فضیلت!! 💫*
*سلسلہ پوسٹ 7.*
یہ مہینہ گویا ایمان اور اعمال کو ریچارج کرنے کے لیے آتا ہے۔ رمضان عربی کا لفظ ہے، جس کا اُردو میں معنی ہی شدتِ حرارت کے ہیں، یعنی اس ماہ میں اللہ رب العزت روزہ کی برکت اور اپنی رحمتِ خاصہ کے ذریعہ اہلِ ایمان کے گناہوں کو جلا دیتے اور ان کی بخشش فرما دیتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں:
’’إذا دخل رمضان فُتحت أبواب السماء، وفی روایۃ: ’’فُتحت أبواب الجنۃ‘‘ وغُلقت أبواب جہنم ، وسُلسلت الشیاطین، وفی روایۃ ’’فُتحت أبوابالرحمۃ۔‘‘(متفق علیہ، بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب الصوم،ص:۱۷۳)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں، اور ایک روایت میں بجائے ابوابِ جنت کے ابوابِ رحمت کھول دیئے جانے کا ذکر ہے۔‘‘
’’قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: یہ حدیث ظاہری معنوں پر بھی محمول ہو سکتی ہے، لہٰذا جنت کے دروازوں کا کھلنا، دوزخ کے دروازوں کا بند ہونا اور شیطانوں کا قید ہونا اس مہینے کی آمد کی اطلاع اور اس کی عظمت اور حرمت وفضیلت کی وجہ سے ہے، شیاطین کا بند ہونا اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ اہلِ ایمان کو وسوسوں میں مبتلا کرکے ایمانی وروحانی اعتبار سے ایذا نہ پہنچا سکیں، جیسا کہ دستورِ زمانہ بھی ہے کہ جب کوئی اہم موقع ہوتا ہے تو خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں، تمام شرپسندوں کو قید کر دیا جاتا ہے، تاکہ وہ اس موقع پر کوئی رخنہ وفتنہ پیدا نہ کریں، اور حکومت اپنے حفاظتی دستوں کو ہر طرف پھیلادیتی ہے، یہی حال رمضان المبارک میں بھی ہوتا ہے کہ شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔ اور اس سے مجازی معنی بھی مراد لیے جا سکتے ہیں، کیوں کہ شیاطین کا اُکسانا اس ماہ میں کم ہو جاتا ہے، اس لیے گویا وہ قید ہوجاتے ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جنت کے دروازے کھولنے سے مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر طاعات اور عبادات کے دروازے اس ماہ میں کھول دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جو عبادتیں کسی اور مہینے میں عام طور پر واقع نہیں ہو سکتیں، وہ عموماً رمضان میں بآسانی ادا ہو جاتی ہیں، یعنی روزے رکھنا، قیام کرنا، وغیرہ۔‘‘ (نووی شرحِ مسلم، از برکاتِ رمضان ، ص:۴۴)
*باقی۔۔*

