کون کہتا ہے دعا قبول نہیں ہوتی؟
حرم مدنی میں ایک پاکستانی صفائی کارکن افطاری کے وقت نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا تھا کہ اس پر چڑھے ہوئے قرض ادا ہو جائیں۔ وہ پریشانی اور تنگدستی کے عالم میں اپنے رب کے حضور نہایت عاجزی کے ساتھ دستِ سوال دراز کیے ہوئے تھا۔
اتفاق سے ا #📝روحانی مکتوبات☪️ #💓روحانی تسکین💖 #📝اسلام کا پیغام 🕌 #💐صبح بخیر☀️ #🥰 الله اکبر 🤗 س دعا کے دوران حرم شریف کا لائیو کیمرہ اس پر فوکس ہوگیا۔ اس کی ویڈیو حرم کے چینل سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ جب یہ ویڈیو سعودیہ کے ایک صاحبِ خیر تک پہنچی تو اس نے اس کارکن سے رابطہ کیا۔ اس کی حالتِ زار معلوم کرنے کے بعد اس نیک دل شخص نے اس کے تمام قرضے ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
جب اس صفائی کارکن سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی دعا مانگ رہا تھا تو اس نے بتایا کہ وہ رزق کی وہ دعا پڑھ رہا تھا جو رسول اللہ ﷺ نے اس وقت مانگی تھی جب آپ ﷺ کے پاس ایک مہمان تشریف لائے۔
روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہراتؓ کے پاس کھانے کی طلب میں پیغام بھیجا، مگر جواب ملا کہ گھر میں کچھ موجود نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے دعا فرمائی:
“اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ، فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ”
(اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ ان کا مالک تیرے سوا کوئی نہیں۔)
چند ہی لمحے گزرے تھے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں ایک بھنی ہوئی بکری بطورِ ہدیہ پیش کر دی گئی۔
معجم الكبيرللطبراني:10379
والسلسلة الصحيحة:1543
محدثین کے نزدیک یہ دعا رزق اور تنگی کے وقت پڑھنا مستحب ہے اور اس میں اللہ کے فضل و رحمت کا سوال کیا گیا ہے جو رزق کے بنیادی اسباب ہیں۔

