ShareChat
click to see wallet page
search
#Deen ki Baten #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #🕋Quran Aur Hadees ( قرآن اور حدیث ) 🕋 #قرآن و احادیث کی باتیں *✴️ قرآنی تحریری کورس* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *سبق: پہلا وآخری حضرت ادریس علیہ السلام* *✴️ تمہید* انسانی تاریخ کے ابتدائی دور میں جب توحید کی روشنی کمزور پڑنے لگی، اور دنیا میں فکری و اخلاقی انحراف کے آثار ظاہر ہونے لگے، اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حق اور باطل کے درمیان حد فاصل واضح کرنا، اور انسان کو اس کے رب سے جوڑنا دعوتِ ایمان کی بنیادی ضرورت بن چکا تھا۔ حضرت ادریس علیہ السلام اسی ضرورت کے تحت ایک عظیم داعی، نبی اور رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ قرآن میں حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر *﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا﴾* اور کتاب میں ادریس کا ذکر کرو، بے شک وہ بہت سچے نبی تھے۔ یہ آیت حضرت ادریس علیہ السلام کی اصل پہچان واضح کرتی ہے کہ دعوتِ ایمان کی بنیاد سچائی، صدق اور نبوت پر قائم ہوتی ہے، نہ کہ کسی ظاہری طاقت یا دنیاوی حیثیت پر۔ *﴿وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا﴾* اور ہم نے انہیں بلند مقام عطا فرمایا۔ یہ بلندی صرف جسمانی یا مکانی نہیں بلکہ روحانی، ایمانی اور دعوتی مقام کی بلندی ہے، جو صرف اللہ کے خالص بندوں کو نصیب ہوتی ہے۔ ✴️*حضرت ادریس علیہ السلام کی دعوت کا مرکزی پیغام* حضرت ادریس علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی واحدانیت، اطاعتِ رب، اور عملی تقویٰ کی طرف بلایا۔ ان کی دعوت کا امتیاز یہ تھا کہ وہ قول کے ساتھ عمل، اور علم کے ساتھ کردار کو لازم سمجھتے تھے۔ اسی لیے روایات میں آتا ہے کہ وہ پہلے نبی تھے جنہوں نے تحریر، حساب اور نظمِ زندگی کی تعلیم دی، تاکہ انسان کی دنیا اور دین دونوں درست ہوں۔ قوم کی فکری حالت معتبر تاریخی روایات کے مطابق حضرت ادریس علیہ السلام کے زمانے میں دنیا میں اخلاقی بگاڑ، دنیا پرستی اور غفلت بڑھنے لگی تھی۔ لوگ عبادت کو چھوڑ کر خواہشات کے پیچھے چلنے لگے تھے، اور اللہ کی ہدایت کو نظرانداز کیا جا رہا تھا۔ ایسے ماحول میں حضرت ادریس علیہ السلام کی دعوت حق اور باطل کے درمیان واضح لکیر تھی۔ ✴️*دعوتِ ایمان کا اسلوب* حضرت ادریس علیہ السلام نے اپنی دعوت میں نرمی، حکمت اور مسلسل محنت کو اختیار کیا۔ وہ صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے اللہ کی بندگی کا نمونہ پیش کرتے تھے، تاکہ حق بات دلوں میں اتر جائے۔ یہی اسلوب ہر دور کے داعی کے لیے رہنما اصول ہے۔ ✴️*غور و فکر اور عمل کے نکات* *1۔* دعوتِ ایمان کی بنیاد صدق، اخلاص اور اللہ سے مضبوط تعلق پر ہوتی ہے، یہی اصل قوت ہے۔ *2۔* بلند مقام وہی حاصل کرتا ہے جو دنیا میں اللہ کے دین کے لیے جھک جاتا ہے۔ *3۔* علم اگر عمل کے بغیر ہو تو دعوت اثر کھو دیتی ہے، اور عمل اگر علم کے بغیر ہو تو گمراہی بن جاتا ہے۔ *4۔* ابتدائی انبیاء کی سیرت یہ سکھاتی ہے کہ معاشرتی بگاڑ کے دور میں بھی اصلاح ممکن ہے، بشرطیکہ دعوت مسلسل ہو۔ *5۔* ہر انسان، خواہ کسی بھی حال میں ہو، قرآن کے پیغام پر غور کر کے اپنے رب کی طرف رجوع کر سکتا ہے، یہی دعوتِ ایمان کا مقصد ہے۔ ✴️ *اختتامی خلاصہ* حضرت ادریس علیہ السلام کا سبق ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دعوتِ ایمان صرف زبان کا عمل نہیں بلکہ کردار، صبر اور مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ جو شخص اللہ کے دین کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اللہ اس کا مقام بلند فرما دیتا ہے، اور یہی کامیابی دنیا و آخرت کی اصل کامیابی ہے۔ *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*