`اعتکاف کی فضیلت`
*نفسِ اعتکاف ان عبادات میں سے ہے جو پچھلے انبیاءِ کرام علیہم السلام کے زمانے سے چلی آرہی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بھی ان کا ذکر فرمایا ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بیت اللہ کی تعمیر کے بعد طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور نماز ادا کرنے والوں کے لیے اسے (بیت اللہ) پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ہے۔ گویا طواف ونماز کی طرح اعتکاف بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کا خاص ذریعہ ہے کہ باری تعالیٰ اپنے دو برگزیدہ* *پیغمبروں کو معتکفین کی خدمت اور ان کے اعزاز میں مسجدِ حرام کی صفائی اور خدمت کا حکم ارشاد فرما رہے ہیں۔*
*رمضان کے اخیر عشرہ کا اعتکاف کرنا رسول اللہ ﷺ کی مستقل سنت ہے، اور اس کی فضیلت اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس کا اہتمام فرماتے تھے، امام زہری ؒ فرماتے ہیں : کہ لوگوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اعتکاف کی سنت کو چھوڑ رکھا ہے حال آں کہ رسول اللہ ﷺبعض امور کو انجام دیتے تھے اور ان کو ترک بھی کرتے تھے ،اور جب سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت سے لے کر وفات تک بلا ناغہ آپ اعتکاف کرتے رہے ،کبھی ترک نہیں کیا ۔ (اور اگر ایک سال اعتکاف نہ کر سکے تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ کما فی الحدیث)۔اور حضورِ اکرم ﷺ کا ہمیشگی فرمانا (ترک کرنے والوں پر نکیر کیے بغیر) یہ اس کی سنیت کی دلیل ہے۔*
*نیز اعتکاف میں اللہ تعالیٰ کے گھر میں قیام کرکے تقربِ باری تعالیٰ کا حصول ہے، دنیا سے منہ موڑنا اور رحمتِ خداوندی کی طرف متوجہ ہونا اور مغفرتِ باری تعالیٰ کی حرص کرنا ہے، اور معتکف کی مثال ایسے بیان فرمائی گئی ہے گویا کوئی شخص کسی کے در پر آکر پڑ جائے کہ جب تک مقصود حاصل نہیں ہوگا اس وقت تک نہیں لوٹوں گا، معتکف اللہ کے در پر آکر پڑ جاتا ہے کہ جب تک رب کی رضا اور مغفرت کا پروانا نہیں مل جاتا وہ نہیں جائے گا، ایسے میں اللہ کی رضا ومغفرت کی قوی امید بلکہ اس کے فضل سے یقین رکھنا چاہیے۔*
`چناںچہ احادیث میں آپ ﷺ کا طرز عمل اس طرح بیان کیا گیا ہے:`
*`حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:` کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دس دنوں کااعتکاف کرتے تھے۔ صحيح البخاري (3/ 47):*
*`حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں:` کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی۔ صحيح البخاري (3/ 51):*
*`حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:` کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے ،لیکن جو آپ کی وفات کاسال تھا تو آپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔*
*علما نے لکھا ہے کہ آپ نے بیس دن کا اعتکاف اس لیے فرمایا تھا کہ آپ کو منکشف ہو گیا تھا کہ یہ آپ کا آخری رمضان ہے، آپ نے چاہا کہ اعمالِ خیر میں کثرت کی جائے ؛تاکہ امت کو عمل خیر میں جدوجہد کرنا ظاہر ہو جائے اور بعض نے کہا کہ یہ بیس دن کا اعتکاف اس لیے تھا کہ آپ نے اس سے پہلے سال رمضان میں سفر ہو جانے کی بنا پر اعتکاف نہیں کیا تھا، اس لیے پچھلے سال اعتکاف نہ کر سکنے کی تلافی کرنے کے لیے اس سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔*
*بہرحال اس سے معلوم ہوا کہ اعتکاف کا عمل آپ ﷺ کی نظر میں کتنی بڑی فضیلت والا اور اہم عمل تھا۔*
`اعتکاف کے فضائل میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں، ذیل میں کچھ نقل کی جاتی ہیں: صحيح البخاري (3/ 48):`
*`حضرت ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں:` کہ نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک کے پہلے عشرہ میں اعتکاف فرمایا اور پھر دوسرے عشرہ میں بھی، پھر ترکی خیمہ سے جس میں اعتکاف فرما رہے تھے، سر باہر نکال کر ارشاد فرمایا :کہ میں نے پہلے عشرہ کا اعتکاف شبِ قدر کی تلاش اور اہتمام کی وجہ سے کیا تھا ،پھر اسی کی وجہ سے دوسرے عشرہ میں کیا ، پھر مجھے کسی بتلانے والے (یعنی فرشتہ )نے بتلایا کہ وہ رات اخیر عشرہ میں ہے۔ لہٰذا جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف کر رہے ہیں وہ اخیر عشرہ کا بھی اعتکاف کریں۔ مجھے یہ رات دکھلا دی گئی تھی پھر بھلا دی گئی ،(اس کی علامت یہ ہے کہ) میں نے اپنے آپ کو اس رات کے بعد کی صبح میں گیلی مٹی میں سجدہ کرتے دیکھا، لہٰذا اب اس کو اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔*
`راوی کہتے ہیں:` *کہ اس رات میں بارش ہوئی اور مسجد چھپر کی تھی وہ ٹپکی اور میں نے اپنی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کی پیشانی مبارک پر کیچڑ کا اثر اکیس (۲۱ویں ) کی صبح کو دیکھا۔*
*معلوم ہوا کہ اعتکاف کی عبادت کے ذریعے شبِ قدر کا حصول متوقع ہے*
`نبی کریم ﷺ کاا رشاد ہے:` *کہ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے لیے نیکیاں اتنی ہی لکھی جاتی ہیں جتنی کہ کرنے والے کے لیے۔*
*اس حدیث میں اعتکاف کرنے والے کے لیے اتنی نیکیوں کی بشارت سنائی گئی ہے جتنی کہ کرنے والے کے لیے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا اعتکاف کی وجہ سے بعض نیک اعمال نہیں کر سکتا، مثلاً مریض کی عیادت ،جنازہ میں شرکت وغیرہ، ایسے اعمال کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اعتکاف کرنے والا اگرچہ عمل نہیں کرتا ؛مگر اس کو اتنا ہی ثواب دیا جاتا ہے جتنا کہ کرنے والے کو دیا جاتا ہے۔ المعجم الأوسط (7/ 220)*
`حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں:` *کہ جو شخص اپنے بھائی کے کسی کام میں چلے پھرے اور کوشش کرے اس کے لیے دس برس کے اعتکاف سے افضل ہے ، اور جو شخص ایک دن کا اعتکاف بھی اللہ کی رضا کے واسطے کرتا ہے تو حق تعالیٰ شانہٗ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرما دیتے ہیں جن کی مسافت آسمان اور زمین کی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 108):*
#🤲अल्लाह हु अक़बर #🤲 इबादत #🤲 दुआएं #🤲क़ुरान शरीफ़📗 #🕌मस्जिद 🤲

