~*اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ
🥰🌷🫀اللہ تعالیٰ ہمیں اس نبی کی سنتوں کی پیروی نصیب فرمائے ۔سبحان اللہ العظیم وبحمدہ سبحان اللہ العظیم وبحمدہ سبحان اللہ ۔
ماشاءاللہ ماشاءاللہ ❤️
بہترین پوسٹجب رسولُ اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار خوشی سے لپک پڑے۔ انہوں نے آپ ﷺ کا استقبال کیا، اور کنوؤں کے ٹھنڈے پانی سے آپ ﷺ کو سیراب کیا۔
رسولُ اللہ ﷺ کی بے شمار خوبیوں میں سے جس صفت نے میرے دل کو سب سے زیادہ مسحور کیا ہے، وہ ہے آپ ﷺ کی عاجزی—اور بطور رہنما بے مثال عظمت۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ جب سیدنا علی بن ابی طالبؓ مدینہ پہنچے تو طویل سفر کے باعث ان کے پاؤں سوج چکے تھے؟
نبی کریم ﷺ خود ان کے پاس تشریف لے گئے۔ ان کی حالت دیکھی تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، پھر اپنے دستِ مبارک سے ان کے پاؤں دبائے۔
ایک نبی ﷺ—اپنے ایک امتی کی اس طرح خدمت کر رہا ہے۔
آپ ﷺ کو یہ پسند نہیں تھا کہ آپ کا تکیہ دوسروں کے مقابلے میں نرم ہو۔
آپ ﷺ لوگوں کو اپنے پیچھے چلنے سے منع فرماتے تھے۔
آپ ﷺ یہ بھی ناپسند کرتے تھے کہ آپ دوسروں سے اونچی جگہ پر بیٹھیں۔
اگر کوئی اجنبی مجلس میں آ جاتا تو اسے پوچھنا پڑتا:
“رسولُ اللہ ﷺ کون ہیں؟”
کیونکہ آپ ﷺ سب کے درمیان بالکل عام انداز سے تشریف فرما ہوتے تھے۔
آپ ﷺ غریبوں کے گھروں میں جاتے تھے۔
کمزوروں کے ساتھ سادہ کھانا تناول فرماتے تھے۔
جن کے پاس کچھ نہ ہوتا، ان کی دعوت بھی قبول کرتے تھے۔
بیماروں کی عیادت کے لیے خود ان کے پاس جاتے—بعض اوقات ننگے پاؤں۔
غلاموں کی ضروریات پوری کرتے، ان کے ساتھ بیٹھتے۔
خواتین کو وقت دیتے، ان کی بات سنتے، اور ان کے مسائل حل فرماتے تھے۔
جنگ کے مواقع پر آپ ﷺ سب سے کم کھاتے،
مگر اپنے صحابہؓ کو اپنے ہاتھوں سے کھانا پیش کرتے تھے۔
جب تک سب سیر نہ ہو جاتے، آپ ﷺ خود کھانا نہیں کھاتے تھے۔
آپ ﷺ پوری امت کے لیے ہر وقت دستیاب رہتے تھے۔
آپ ﷺ اپنے کام خود کرتے تھے۔
لوگوں سے خدمت لینا پسند نہیں فرماتے تھے۔
اجتماعی کاموں میں خود شریک ہوتے، جسمانی محنت کرتے تھے۔
ہر ایک کے بارے میں پوچھتے،
ہر شخص کو جاننا چاہتے تھے،
اور خاص طور پر اُن لوگوں کا خیال رکھتے تھے
جن کا دنیا میں کوئی سہارا نہیں ہوتا تھا۔
یہی ہیں
محمد ﷺ —
عاجزی میں سب سے بلند،
قیادت میں سب سے کامل،
رحمت میں سب سے وسیع،
اور انسانیت کا سب سے روشن نمونہ۔ 🤍
یہ تحریر سیرتِ نبوی ﷺ کے معروف واقعات کے مفہوم پر مبنی ہے۔
۔
۔ #❤❤بیشک شوبہان اللہ❤❤


