لکھنؤ کے مشہور قیصر باغ میں مشاعرے کا اہتمام تھا، جگر مرادآبادی بھی مشاعرے کی زینت تھے
منتظمین نے قید لگا دی کہ کوئی بھی بارہ سے زیادہ اشعار نہ پڑے۔
جگر کی باری ائی تو اسٹیج پر گئے اور چار شعر پڑھ کر نیچے اتر آئے
لوگ دیکھتے رہ گئے ۔کچھ تو یہ بھی سمجھے کہ شاید جگر اسی شرط کا بُرا مان گئے
جگر صاحب! یہ کیا؟صرف چار شعر پڑھے۔لوگوں کے استفسار پر جگر نے ہنستے ہوئے جواب دیا :
”بارہ کا جواب تو صرف چار سے ہی دیا جا سکتا تھا۔“
مزید کہنے لگے:
میں کسی زمانے میں تشیع سے قریب رہا ہوں،بارہ کی شرط بارہ اماموں کی وجہ سے تھی میں نے چار شعر پڑھ کے خلفاء کی نمائندگی کردی ۔
القادری
۶اپریل ۲۰۲۶
#🕌حقائق اسلام☪ #👨🏻🏫لوگوں کے لئے سیکھ🧑🤝🧑 #👳♂️روحانی رہنما💞 #📝روحانی مکتوبات☪️ #مرشد


