ShareChat
click to see wallet page
search
#🥰میرا سٹیٹس ❤️ *حضرت یونس علیہ السلام کی دُعا کو استغفار کی نیت سے پڑھنا کیسا ہے؟* حضرت یونس علیہ السلام کی دعا جو قرآنِ کریم میں آئی ہے: “لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ” الٰہی! تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بیشک میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔ (سورة الأنبياء، 87) اس کو استغفار اور دعا دونوں نیتوں سے پڑھنا بالکل جائز ہے، بلکہ یہ ایک نہایت بابرکت اور عظیم دعا ہے جسے قرآن نے خود ذکر فرمایا ہے۔ اس دعا میں تین چیزیں جمع ہیں: اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار، اس کی پاکی بیان کرنا، اور اپنے گناہ کا اعتراف۔ یہی تینوں چیزیں دراصل توبہ اور استغفار کی بنیاد ہیں، اس لیے اسے استغفار کی نیت سے پڑھنا نہ صرف درست ہے بلکہ معنی کے اعتبار سے بالکل موافق بھی ہے۔ اہلِ علم نے لکھا ہے کہ قرآن کی وہ دعائیں جو انبیاء علیہم السلام نے مانگی ہیں، انہیں بندہ اپنے گناہوں کی معافی، حاجت روائی اور اللہ کی طرف رجوع کے لیے پڑھ سکتا ہے۔ اس میں کوئی ممانعت نہیں، بشرطیکہ انہیں بطورِ ذکر اور دعا پڑھا جائے، نہ کہ صرف رسمی الفاظ سمجھ کر۔ #💞دعا میں یاد رکھنا 🤲🏻 #👨🏻‍🏫لوگوں کے لئے سیکھ🧑‍🤝‍🧑
🥰میرا سٹیٹس ❤️ - Sharechat Waqar '0")| ~9ட7 7৬ ریخلا یر شوخ شیب 26uue ShareChat ;@Waqar8673 Sharechat Waqar '0")| ~9ட7 7৬ ریخلا یر شوخ شیب 26uue ShareChat ;@Waqar8673 - ShareChat