#✍میری قلم سے📜 #💘شاعری
---
*میں جھیل کنارے بیٹھا تھا اور یاد میں اُس کی ڈوبا تھا*
*کہ ہلکی سی میری آنکھ لگی اور سامنے میرے وہ تھی کھڑی*
*پہلے تھوڑا شرمائی، پھر پاس میں میرے وہ آئی*
*اور آ کر اُس نے مجھ سے کہا:*
*"کیسے ہو اے میرے جانِ وفا؟*
*کیا اب یاد مجھے تم کرتے ہو؟*
*کیا اب بھی مجھ پہ مرتے ہو؟*
*کیا مجھ سے وفا تم کرتے ہو؟*
*کیا میں اب بھی تیرے خواب میں آتی ہوں؟*
*کیا اب بھی تم کو ستاتی ہوں؟*
*کیا میں اب بھی تم کو رُلاتی ہوں؟"*
*یہ سُن کے میں بےہوش ہوا*
*جب ہوش میں آیا تو دیکھا میں گھر پہ اپنے لیٹا تھا*
*نہ پاس میں کوئی جھیل تھی، نہ سامنے مجھ کو وہ بھی ملی*
*تب جا کر یہ احساس ہوا کہ یہ سب بس ایک سپنا تھا*
*ہاں، یہ بس ایک سپنا تھا*
---