
〬🌸⃪⃮⃔⃝꯭〬 ڪنيزقـ۔ـادريه🤍
@____qadri_____
🫶روحى فـــــــداڪـــــ يارسول اللّـــــهﷺ🫀
کنیز غوث تیرے کرم سے جم کے کھڑی ہے
دشمن نے گرانے کو بڑاااا زور لگایا ۔۔۔۔ 🥰
اک در بند تے سو در کھلا ۔🥹 #🕌 نعت شریف🎧
`خواتین کے مخصوص مسائل۔` *قسط 01*
*علم سیکھنا فرض ہے:*
نبی اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان عالیشان ہے:
”طلب العلم فريضۃعلى كل مسلم “ ترجمہ: ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔”
(سنن ابن ماجہ، 1/ 81)
اس حدیث پاک کی روشنی میں علماء کرام فرماتے ہیں کہ ہر مسلمان پر اُس کی موجودہ حالت و کیفیت کےمتعلق شرعی مسائل سیکھنا فرضِ عین ہوتا ہے مثلا جب کوئی بالغ ہو تو اس وقت طہارت اور نماز کے مسائل سیکھنا فرض ہوجاتاہے، رمضان کے روزے فرض ہوجائیں تو روزوں کے ضروری مسائل سیکھنا فرض ہوتا ہے۔ یونہی زکوۃ و حج ودیگر معاملات جیسے نکاح، طلاق ، خریدو فروخت اور اجارہ وغیرہ کا موقع آئے تو ان چیزوں کے متعلق شریعت کے احکام سیکھنا فرض ہو جاتا ہے۔
*عورتوں کے لیے حیض و نفاس کے مسائل جاننا:*
عورت پر جو طہارت کے مسائل سیکھنا فرض ہیں ان میں حیض و نفاس کے ضروری مسائل بھی شامل ہیں جیسا کہ حضرت مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”ہرمسلمان مردعورت پرعلم سیکھنا فرض ہے،علم سے بقدرِ ضرورت شرعی مسائل مراد ہیں۔لہذا روزے نماز کے مسائلِ ضروریہ سیکھنا ہرمسلمان پرفرض،حیض و نفاس کے ضروری مسائل سیکھنا ہر عورت پر،تجارت کے مسائل سیکھنا ہر تاجر پر،حج کے مسائل سیکھنا حج کو جانے والے پر عین فرض ہیں۔ “
(مراٰۃالمناجیح،1/202)
*حیض و نفاس کےمتعلق شرعی مسائل جاننے کی اہمیت:*
حیض کے مسائل کا علم انتہائی اہم اور ضروری ترین علم ہے ۔ کسی بھی علم کی اہمیت ، عظمت اور مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس علم سے جاہل رہنے میں ضرر و نقصان کتنا ہے۔اور جب ہم حیض کے شرعی مسائل کا جائزہ لیں تو بلا شبہ اس علم سے جاہل رہنے کا نقصان اور ضرر دوسرے کئی علوم کی جہالت سے بڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ متعلق ہونے والے مسائل بے شمار ہیں حتی کہ کئی فقہ کے ابواب کا تعلق اس کے ساتھ جڑتا ہے جیسے
وضو ، غسل ، نماز ، روزہ ، حج ، اعتکاف ، نکاح ، طلاق ، عدت ، استبراء ، ازدواجی تعلقات ، قرآن پاک کی تلاوت ، قرآن پاک کو چھونا ، مسجد میں داخل ہونا ، بلوغت وغیرہ۔
یہ صرف ابواب کے نام لکھے گئے ورنہ تفصیل کی جائے توان میں سے ہر ایک کے تحت حیض سے متعلق بیسیوں مسائل ہیں۔اور ان مسائل سے غفلت و جہالت کا اثر کیساہوتا ہے، اس کااندازہ اس مسئلے سے لگائیں کہ
مثلاً عورت کو عادت کے دن شروع ہونے سے چند دن پہلے ہی خون آنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر خون دس دن مکمل ہونے پر بھی نہیں رکتا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عورت کون سے دنوں کو حیض سمجھے اور کون سے دنوں کو استحاضہ ؟
دس دن پورے ہونے کے بعد کیا کرے گی ؟
ان سب دنوں میں سے کون سے دنوں میں نماز پڑھنی ہے اور کون سے دنوں میں نہیں؟
رمضان کا روزہ رکھنا ہے یا نہیں؟
ازدواجی تعلقات حلال ہیں یا حرام ؟
قرآن پڑھنااور چھونا حلال ہے یا حرام؟
ان سب باتوں کا فیصلہ اس خون کے حیض ہونے یا نہ ہونے پر موقوف ہے۔
اور نماز کا معاملہ تو ایسا ہے کہ علم نہ ہونے کی وجہ سے اگر عورت نے خون کو حیض سمجھ کر نماز چھوڑ دی اور وہ خون حیض نہ تھا تو حرام میں مبتلا ہوگی
اور اگر خون کو استحاضہ سمجھ کر نماز پڑھ لی اور وہ خون حیض تھا تو اب بھی حرام میں مبتلا ہوگی۔
اور یہ معاملہ پانچوں نمازوں کے وقت درپیش ہوگا۔
یہی صورت رمضان کے روزوں میں بھی پیش آئے گی ۔
لہذا جب تک عورت کوخون کے حیض ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ معلوم نہ ہو جائے وہ شرعی احکام پر عمل نہ کرپائے گی اور قدم قدم پر گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رہے گا۔
*یاد رکھیں سیکھنے کی قدرت ہونے کے باوجودضروری علم نہ سیکھنا یہ خود ایک الگ گناہ ہے لہذا ایسی جگہ مسئلہ معلوم نہ ہونے کا عذر بھی مقبول نہ ہوگا ۔*
`جاری ہے۔۔۔۔۔۔`
#🕌 نعت شریف🎧
*باعمل عالمہ سے شادی — گھر کی زینت اور نسلوں کی امانت*
آج کے دور میں بعض لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ عالمہ عورت سے شادی کرنا مشکلات کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ زیادہ بحث کرے گی، بات نہیں مانے گی اور گھریلو زندگی کو دشوار بنا دے گی۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ دینی تعلیمات اور حقیقت دونوں کے خلاف ہے حقیقت یہ ہے کہ جس خاتون نے قرآن و حدیث کا علم حاصل کیا ہو، جو دین کے احکام سے واقف ہو اور جس کی زندگی علم و عمل سے مزین ہو، وہ گھر کی تباہی نہیں بلکہ تعمیر کا ذریعہ بنتی ہے۔ ایک باعمل عالمہ جانتی ہے کہ شوہر کے حقوق کیا ہیں، والدین کا مقام کیا ہے، اولاد کی صحیح تربیت کیسے کی جاتی ہے اور خاندان کے افراد کے ساتھ حسنِ سلوک کا کیا طریقہ ہے عالمہ سے شادی کا مطلب صرف ایک شریکِ حیات حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنے گھر میں علم، ادب اور دین کا چراغ روشن کرنا ہے۔ ایسی ماں اپنی اولاد کو صرف دنیاوی کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتی بلکہ انہیں اللہ اور رسول ﷺ کی محبت بھی سکھاتی ہے۔ اس کی گود بچوں کے لیے پہلی درسگاہ بن جاتی ہے جہاں قرآن، اخلاق اور اسلامی اقدار پروان چڑھتی ہیں یہ بھی درست ہے کہ ایک باعمل عالمہ غلط بات پر خاموش نہیں رہتی۔ وہ برائی کو برائی سمجھتی ہے اور اچھائی کی ترغیب دیتی ہے۔ لیکن یہی تو اس کی خوبی ہے، کیونکہ جو انسان آپ کو گناہ سے بچائے اور نیکی کی طرف بلائے، وہ آپ کا خیر خواہ ہے نہ کہ دشمن۔
رسول اللہ ﷺ نے نکاح کے معاملے میں دین داری کو سب سے اہم معیار قرارھ دیا اور فرمایا:
"تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ"
"عورت سے چار چیزوں کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے: مال، حسب و نسب، جمال اور دین۔ پس دیندار عورت کو اختیار کرو۔" لہٰذا معاشرے میں عالمات کے بارے میں منفی پروپیگنڈا پھیلانے کے بجائے ان کی قدر کرنی چاہیے۔ ایک باعمل عالمہ صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری نسل کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ وہ گھر کی زینت، اولاد کی بہترین مربیہ اور خاندان کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہوتی ہے۔
یاد رکھئے دیندار اور بااخلاق شریکِ حیات دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کا سرمایہ ہے، اور ایک باعمل عالمہ اس سرمایہ کی بہترین مثال ہو سکتی ہے۔
#📗حدیث کی باتیں📜
*سوال نمبر 682*
*کیا غوث اعظم صحابہ کرام سے افضل ہیں؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
زید کہتا ہے کہ غوث اعظم صحابہ کرام سے افضل ہیں اور وہ میرے نفع و نقصان کے مالک ہیں زید پر شرعا کیا حکم ہوگا؟
شرعی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا کثیرا
*سائلہ ریحان قادری از بنارس انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں اگر زید کہتا ہے کہ غوث اعظم صحابہ کرام سے افضل ہیں تو زید گمراہ ہے اور زید کا یہ کہنا کہ غوث اعظم میرے نفع و نقصان کے مالک ہیں تو اگر زید کے یہ کہنے سے مراد مالک حقیقی نہ ہو بلکہ مجازی ہو تو ایسا کہنے میں حرج نہیں اور اگر مالک حقیقی سمجھ کر ایسا کہا تو یہ کفر ہوگا
فتاوی رضویہ میں ہے
حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے افضل کہنا گمراہی ہے اور بعطائے الٰہی مالک نفع وضرر کہنے میں حرج نہیں، مسلمان جب ایسا لفظ کہتاہے اس کی مراد یہی ہوتی ہے نہ یہ کہ معاذاللہ بذات خود بے عطائے الٰہی مالک نفع وضرر جانے کہ یہ کفر خالص ہے اور کوئی مسلمان اس قصد سے نہیں کہتا۔ (فتاوی رضویہ جلد 21 ص 12)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
*کتبتہ کنیز فاطمہ قادریہ رضویہ شہر کانپور فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب*
۲۹/۹/۲۰۲۴
*تصحیح و تصدیق حضرت مفتی محمد مجیب قادری حنفی العربی دار الافتاء البرکاتی علماء فاؤنڈیشن شرعی و جواب ضلع سرہا نیپال*
۳۰/۹/۲۰۲۴ #📗حدیث کی باتیں📜
اقصیٰ اسلامک اکیڈمی للبنات 🌸
اسلامی بہنوں کی دینی تعلیم و تربیت کا معتبر آن لائن مرکز
اقصیٰ اسلامک اکیڈمی للبنات کی جانب سے اسلامی بہنوں کے لیے متعدد دینی و تعلیمی کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے، جن کا مقصد خواتین اسلام کو بنیادی دینی علوم سے آراستہ کرنا اور انہیں علمِ دین کی روشنی سے منور کرنا ہے۔
انہی کورسز میں سے ایک نہایت اہم اور جامع کورس پانچ سالہ عالمہ کورس بھی ہے، جس میں قرآن، حدیث، فقہ، عقائد، سیرت اور دیگر اہم دینی علوم مرحلہ وار پڑھائے جائیں گے۔
اسلامی بہنوں کی آسانی اور دین کی خدمت کے جذبے کے تحت اس عظیم کورس کو بالکل مفت رکھا گیا ہے، تاکہ ہر طبقہ کی اسلامی بہنیں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
داخلہ لینے والی اسلامی بہنوں کے لیے ضروری شرائط
• اپنا مختصر تعلیمی تعارف پیش کریں۔
• نام بمع والد کا نام تحریر کریں۔
• وہ موبائل نمبر فراہم کریں جس سے کلاس کریں گی، نیز سرپرست کا موبائل نمبر بھی دینا ضروری ہوگا۔
• روزانہ باقاعدگی اور پابندی کے ساتھ کلاس میں شرکت کا عہد کریں۔
• اکیڈمی کے تمام تعلیمی نظم و ضبط اور ہدایات کی پابندی کریں۔
• ہر داخلہ لینے والی اسلامی بہن کے لیے لازم ہوگا کہ کم از کم پانچ اسلامی بہنوں کو اس کورس سے جوڑنے کی کوشش کرے۔
• اخلاق و آداب کا خیال رکھیں اور گروپ یا کلاس میں غیر ضروری گفتگو سے پرہیز کریں۔
• پردہ اور اسلامی تہذیب و وقار کا اہتمام کریں۔
• تعلیم کو صرف معلومات نہیں بلکہ عمل کے جذبے کے ساتھ حاصل کریں۔
• مسلک اہلِ سنت و جماعت (معروف مسلک اعلیٰ حضرت) کی پابند ہوں اور عقائدِ صحیحہ کا احترام کریں۔
• اکیڈمی کے ساتھ خیرخواہی، تعاون اور اخلاص کا رویہ رکھیں۔
• امتحانات، اسائنمنٹ اور دہرائی میں سنجیدگی کے ساتھ حصہ لیں۔
یہ کورس صرف ایک تعلیمی پروگرام نہیں بلکہ علمِ دین کے ذریعے اسلامی معاشرے کی صالح ماؤں، بہنوں اور مربیات کی تیاری کی ایک مبارک کوشش ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس ادارہ کو قبول فرمائے اور اسے خواتین اسلام کے لیے علم و ہدایت کا ذریعہ بنائے۔
از جانب:
اقصیٰ اسلامک اکیڈمی للبنات #🥰میرا سٹیٹس ❤️ #💞دعا میں یاد رکھنا 🤲🏻
سیکھا دے مولا۔۔🤍
خود کو بھول جانے کا ہنر
*میـں میـں نہ رہـے*
*بســـں تو رہے باقـی* #📗حدیث کی باتیں📜 #👬 عشق vs دوستی ❤





