دیوبندیت کیا ہے ؟ پارٹ(9):☝️
(حکیم دیوبند کا دعویٰ نبوّت)
ایک مرتبہ کسی مرید نے تھانوی کو لکھا کہ میں خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ لا الہ الا اللہ کے بعد اشرف علی رسول اللہ منہ سے نکل جاتا ہے جب بیدار ہو کر کوشش کرتا ہوں کہ صحیح کلمہ اور صحیح درود پڑھوں لیکن زبان قابو میں نہیں ہے ہر جگہ محمد رسول اللہ کے بجاۓ اشرف علی رسول اللہ نکلتا ہے مولوی اشرف علی نے اس کو جواب لکھا کہ اس واقعہ میں تسلی ہے اس لۓ کے میں سنت کی اتباع کرتا ہوں (معاذاللہ) (رسالہ الامداد: ص۳۵) __👇
ف۱: یہاں کوئی دیوبندیہ اعتراض کر سکتا ہے کہ تذکریہ غوثیہ میں لا الہ الا اللہ شبلی رسول اللہ لکھا ہوا ہے اس پر بریلوی حضرات کیا کہیں گے ؟ تو اس کا صاف جواب یہ ہے کہ امام احمد رضا خاں قادری رحمۃ اللہ الباری کے متبعین (ماننے والے) یہ اعلان کرتا ہے کہ لگاؤ تذکریہ غوثیہ پر فتوٰی جس نے بھی یہ کفریہ کلمات لکھا ہے، تیار ہے ہر سنی بریلوی کہ جس نے بھی یہ کلمات لکھا وہ گمراہ بے دین بے ایمان جاہل ہے اور تم بھی لگاؤ‘ یہی فتویٰ(یعنی تذکریہ غوثیہ پر) !! لیکن ہمیں یہ معلوم ہے کہ تم نہیں لگا سکتے اس لیے کہ یہ فتوٰی تھانوی پر بھی لگانا پڑے گا 🥴 __👇
ف۲: تم وہابیہ پلے‘ لگاؤ نہ اپنے باپ (تھانوی) پر فتوٰی، اور بات کرتے ہو فتوٰی دینے کی، حوالہ دیکھو اور پڑھو !! کب تک اپنے اکابر کی گستاخیوں پر پردہ ڈالو گے (تھانوی تو خواب میں نہیں تھا اس نے جو جواب دیا کہ اس واقعہ میں تسلی تھی کہ تم جس کی طرف رجوع کرتے ہو وہ تبع سنت ہے) 😳 __👇
ف۳: سیدنا اعلٰی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی نوراللہ مرقدہ اس حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: مسلمان ہوتا تو ایسی بات سن کر لرزجاتا اور اس کفر بکنے والے سے کہتا کہ خبیث منہ بندکر کفر نہ بک، نہ کہ اسے اور تسلی دی اور اس کی رجسٹری کردی(فتاویٰ رضویہ: ۱۴،ص۳۷۹)---- کیوں کہ حدیث کے مطابق تھانوی کو جواب دینا چاہیۓ تھا کہ یہ برا خواب ہے بائیں طرف منہ کر تین مرتبہ تھو تھو کرو مگر وہ منصب نبوت کو پسند کرتے تھے جب ہی تو کہا اس واقعہ میں تسلی ہے 🙊_
ف۴: سنو دیوبندیوں !! اور اگر تھانوی کا جواب درست مانتے ہو تو جو بھی متبع سنت یعنی سنت کی اتباع کرنے والا ہے تمام دیوبندی‘ (حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ القوی کا نام لے کر کلمہ پڑھو) اسی طرح تمام صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا نام لے لے کر کلمہ پڑھ‘ کیونکہ یہ سب تبع سنت ہیں اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو تھانوی پر فتوٰی لگا کر اہل سنت والجماعت میں داخل ہو جاؤ 👇
نوٹ: امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی قدس سرہ پر بھونکنے سے کچھ نہیں ہوتا سوائے ذلت و خواری کے، ایک ’خادم رضا‘ ہی کافی ہے دیوبندیت پر بھاری ہے، 💪 ___👇
کلک رضا کی برکت ہے یہ فیض ہے میرے مرشد کا،
پوری مناظر کی فرمائش خادم نے کر ڈالی ہے #📗حدیث کی باتیں📜
جھکی ہوئی یہ جبیں ہے حضور ﷺْدیکھیں نا #🕌 نعت شریف🎧
ہمارا قلب حزیں ہے حضور ﷺْدیکھیں نا 😭😭😭
دیوبندیوں کا متفقہ فتوی کہ ”صحابہ کرام کی تکفیر کرنے والا مسلمان ہے،اہلسنت سے خارج نہ ہوگا،نکاح جائز ہے اور مسلمانوں کی طرح تجہیز و تکفین جائز ہے“
محرم الحرام قریب ہے اور اس ماہ مقدس میں روافض کے بغض میں دیوبندی حضرات اپنے رشید گنگوہی سے کھلی بغاوت کرتے نظر آئیں گے۔
بہرحال ہم یہاں فقط اتنا پوچھنا چاہتے ہیں کہ دیوبندی حیاتی مماتی کس منہ سے دشمنان صحابہ کے متعلق کاف__ر کاف_ر کے نعرے لگاتے رہے،لگاتے ہیں اور لگائیں گے؟
دیوبندی حیاتی مماتی اپنے رشید گنگوہی کی پیروی نہ کرکے جہنم میں جانا پسند کریں گے یا پیروی کرکے جنت میں جانا پسند کریں گے؟
کیونکہ رشید گنگوہی کا دعوی ہے کہ ” سن لو حق وہی ہے جو رشید احمد گنگوہی کی زبان سے نکلتا ہے اور بقسم کہتا ہوں میں کچھ نہیں ہوں مگر اس زمانے میں ہدایت و نجات موقوف ہے میرے اتباع پر“
(تذكرة الرشيد،جلد 2،ص17)
ہم اہلسنت کو شیعیت نوازی کا طعنہ دینے والے دیوبندی حیاتی مماتی یزیدی جواب دیں گے؟ #📗حدیث کی باتیں📜
*اقلیمِ سخن کے شہنشاہ*
حضور مفتی اعظم عالم جہاں شریعت کے محکم ستون تھے، وہیں اقلیمِ سخن اور ذوقِ شعر و ادب کے بھی بے تاج بادشاہ تھے۔ آپ اپنے وقت کے استاذ الشعراء تھے۔ والدِ ماجد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، جب ان کا قلم قرطاس پر اترتا تو عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبے ہوئے الفاظ نور بن کر بکھر جاتے۔ آپ نے اپنے پیر و مرشد سے بے پناہ عقیدت کے سبب اپنا تخلص ”نوری“ رکھا۔
آپ کا کلام محض شاعری نہیں، بلکہ دربارِ رسالت میں پیش کیا گیا وہ نذرانہ ہے جس میں وجد ہے، تڑپ ہے اور سوز ہے۔
آپ کا کلامِ معرفت نظام، جسے دنیا ”سفینہ بخشش“ کے نام سے جانتی ہے، عشقِ الٰہی اور حبِ رسول ﷺ کا وہ سمندر ہے جس کے ہر قطرے میں تصوف اور عقیدت کے انمول موتی پوشیدہ ہیں۔
*جلوہائے ربانی اور عشقِ حقیقی*
جب قلبِ اطہر ذاتِ باری تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے جلوؤں کے مشاہدے میں غرق ہوتا ہے، تو وہ کائنات کے ذرے ذرے میں اسی نورِ مطلق کو دیکھتے ہیں۔ ربِ کائنات کی ہمہ گیری، اس کی قربت اور دل کی تڑپ کو ان وجد آفریں الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
اللّٰہ ھُوْ، اللّٰہ ھُوْ، اللّٰہ ھُوْ، اللّٰہ ھُوْ
قلب کو اس کی رویت کی ہے آرزو
جس کا جلوہ ہے عالم میں ہر چار سو
بلکہ خود نفس میں ہے وہ سُبْحَانَہٗ
عرش پر ہے مگر عرش کو جستجو.......
جب خالقِ کائنات کی قدرتِ کاملہ کو زمین و آسمان کی وسعتوں میں محیط دیکھتے ہیں، تو ان کا قلم توحید کا ترانہ کچھ اس انداز سے چھیڑتا ہے:
عرش و فرش و زمان و جہت اے خدا
جس طرف دیکھتا ہوں ہے جلوہ ترا
ذرے ذرے کی آنکھوں میں تو ہی ضیا
قطرے قطرے کی تو ہی تو ہے آبرو...
*عظمت و رفعتِ مصطفیٰ ﷺ*
جب بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں اپنی عقیدت کا خراج پیش کرنے کے لیے قلم اٹھاتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ اس ذاتِ والا صفات کی تعریف انسانی الفاظ کی محتاج نہیں۔ اس ”مہبطِ انوار“ کی شان و شوکت اور کونین میں ان کی بادشاہت کا نقشہ وہ کچھ اس شاہانہ انداز میں کھینچتے ہیں کہ پڑھنے والے کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے:
*وصف کیا لکھے کوئی اس مہبط انوار کا*
*مہرومہ میں جلوہ ہے جس چاند سے رخسار کا*
*عرش اعظم پر پھریرا ہے شہ ابرار کا*
*بجتا ہے کونین میں ڈنکا مرے سرکار کا*
دربارِ مصطفیٰ ﷺ کی جود و سخا اور عطاؤں کا ذکر کرتے ہیں، تو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ دونوں عالم اسی در کے منگتے اور پروردہ ہیں:
*دو جہاں میں بٹتا ہے باڑہ اس سرکار کا*
*دونوں عالم پاتے ہیں صدقہ اسی دربار کا..*
*عشقِ رسول ﷺ اور مدینے کی تڑپ*
جب دل میں عشقِ رسول ﷺ کی تڑپ اور مدینے کی یاد مچلتی ہے، تو وہ دنیا کے تمام حسین مناظر کو ٹھکرا کر صرف اپنے آقا ﷺ کے جلووں کو آنکھوں میں بسانے کی دعا کرتے ہیں۔ مدینے کے کانٹوں کی محبت دل میں دنیا کے پھولوں سے زیادہ عزیز ہو جاتی ہے:
*کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں*
*ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں*
*نہ کیسے یہ گل و غنچے ہوں خوار آنکھوں میں*
*بسے ہوئے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں*
عشق کی اس وارفتگی اور محویت میں جب ہر طرف اپنے حبیب ﷺ کا تصور نظر آتا ہے تو پکار اٹھتے ہیں:
*بسا ہوا ہے کوئی گل عذار آنکھوں میں*
*کھلا ہے چار طرف لالہ زار آنکھوں میں...*
پھرجب تخیل عقیدت اور محبتِ رسول ﷺ اپنے عروج پر پہنچتا ہے، تو وہ ایک سچے عاشقِ صادق کی طرح پوری کائنات کو اپنے آقا ﷺ کی محبت کا پروانہ قرار دیتے ہیں۔ عشق و مستی میں ڈوبے ہوئے یہ اشعار ان کے دیوان کی پہچان بن گئے:
*تو شمع رسالت ہے عالم ترا پروانہ*
*تو ماہ نبوت ہے اے جلوۂ جانانہ*
جب حضور مفتیِ اعظم ہند کے تصور میں میدانِ محشر کا نقشہ ابھرتا ہے...... جہاں سورج سوا نیزے پر ہوگا، نفسی نفسی کا عالم ہوگا، اور پیاس سے زبانیں کانٹا ہو رہی ہوں گی، تو ان کی نگاہِ شوق سیدھے حوضِ کوثر کی جانب اٹھتی ہے۔ وہاں آقا و مولیٰ ﷺ ”ساقیِ کوثر“ کے منصب پر جلوہ گر ہوں گے۔تب عاشقانہ اور صوفیانہ تخیل اس مقام پر آکر دنیاوی پیمانوں سے بالاتر ہو جاتا ہے۔ یہاں محض پانی کے ایک جام کی تمنا نہیں ، بلکہ ذوقِ لطیف یہ آرزو کرتا ہے کہ جب قیامت کے دن ساقیِ کوثر ﷺ کے چہرۂ انور سے جلال و جمال کا نقاب اٹھے، تو اس ”جلوۂ جانانہ“ کی تجلی اتنی بے پناہ ہو کہ دیدار کی پیاس میں تڑپتی ہوئی ہر آنکھ خود ایک چھلکتا ہوا پیمانہ بن جائے، اور ہر عاشق کا دل عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا روحانی مے خانہ بن جائے۔
جو ساقئ کوثر کے چہرے سے نقاب اٹھے
ہر دل بنے میخانہ ہر آنکھ ہو پیمانہ
دل اپنا چمک اٹھے ایمان کی طلعت سے
کر آنکھیں بھی نورانی اے جلوۂ جانانہ
جب بارگاہِ رسالت میں اپنی نیازمندی کا اظہار کرتے ہیں، تو ساتھ ہی باطل عقائد پر ایک کاری ضرب لگاتے ہوئے عشق کا یہ فلسفہ پیش کرتے ہیں کہ درِ حبیب پر جھکنا سجدہ نہیں، بلکہ محبوب کے قدموں میں سر کا نذرانہ ہے:
*سنگ درجاناں پر کرتا ہوں جبیں سائی*
*سجدہ نہ سمجھ نجدی سر دیتا ہوں نذرانہ*
بلاشبہ، حضور مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خان نوری علیہ الرحمہ کا کلام عشقِ الٰہی، محبتِ رسول ﷺ، اور شریعت کی پاسداری کا وہ حسین اور لازوال امتزاج ہے جو تاقیامت عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کے دلوں کو گرماتا اور ان کے ایمان کو جلاتا رہے گا۔
#📗حدیث کی باتیں📜 #🕌 نعت شریف🎧
*آپ کے دیدار کا شوق*
بعض انصار نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو جنت کا شوق نہیں ،ہمیں تو آپ کے دیدار کا اشتیاق ہے جب جنت میں آپ نبیوں کے ساتھ ہوں گے ہم امتیوں کے ساتھ تو ہم کیسے صبر کریں گے 😭
(تفسیر نعیمی 2455)
#📗حدیث کی باتیں📜
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"صبر چمک ہے۔" ❣️
(صحیح مسلم:534)
تشریح:
نفس کو گناہوں سے صبر کرانے یعنی روکنے اور نیکیوں پر قائم رکھنے سے اللّٰه چہرے اور دِل کو چمک عطا کرتا ہے۔
(مرآہ المناجیح تحت حدیث281)
#🕌 نعت شریف🎧 #📗حدیث کی باتیں📜
اقصیٰ اسلامک اکیڈمی للبنات 🌸
اسلامی بہنوں کی دینی تعلیم و تربیت کا معتبر آن لائن مرکز
اقصیٰ اسلامک اکیڈمی للبنات کی جانب سے اسلامی بہنوں کے لیے متعدد دینی و تعلیمی کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے، جن کا مقصد خواتین اسلام کو بنیادی دینی علوم سے آراستہ کرنا اور انہیں علمِ دین کی روشنی سے منور کرنا ہے۔
انہی کورسز میں سے ایک نہایت اہم اور جامع کورس پانچ سالہ عالمہ کورس بھی ہے، جس میں قرآن، حدیث، فقہ، عقائد، سیرت اور دیگر اہم دینی علوم مرحلہ وار پڑھائے جائیں گے۔
اسلامی بہنوں کی آسانی اور دین کی خدمت کے جذبے کے تحت اس عظیم کورس کو بالکل مفت رکھا گیا ہے، تاکہ ہر طبقہ کی اسلامی بہنیں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
داخلہ لینے والی اسلامی بہنوں کے لیے ضروری شرائط
• اپنا مختصر تعلیمی تعارف پیش کریں۔
• نام بمع والد کا نام تحریر کریں۔
• وہ موبائل نمبر فراہم کریں جس سے کلاس کریں گی، نیز سرپرست کا موبائل نمبر بھی دینا ضروری ہوگا۔
• روزانہ باقاعدگی اور پابندی کے ساتھ کلاس میں شرکت کا عہد کریں۔
• اکیڈمی کے تمام تعلیمی نظم و ضبط اور ہدایات کی پابندی کریں۔
• ہر داخلہ لینے والی اسلامی بہن کے لیے لازم ہوگا کہ کم از کم پانچ اسلامی بہنوں کو اس کورس سے جوڑنے کی کوشش کرے۔
• اخلاق و آداب کا خیال رکھیں اور گروپ یا کلاس میں غیر ضروری گفتگو سے پرہیز کریں۔
• پردہ اور اسلامی تہذیب و وقار کا اہتمام کریں۔
• تعلیم کو صرف معلومات نہیں بلکہ عمل کے جذبے کے ساتھ حاصل کریں۔
• مسلک اہلِ سنت و جماعت (معروف مسلک اعلیٰ حضرت) کی پابند ہوں اور عقائدِ صحیحہ کا احترام کریں۔
• اکیڈمی کے ساتھ خیرخواہی، تعاون اور اخلاص کا رویہ رکھیں۔
• امتحانات، اسائنمنٹ اور دہرائی میں سنجیدگی کے ساتھ حصہ لیں۔
یہ کورس صرف ایک تعلیمی پروگرام نہیں بلکہ علمِ دین کے ذریعے اسلامی معاشرے کی صالح ماؤں، بہنوں اور مربیات کی تیاری کی ایک مبارک کوشش ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس ادارہ کو قبول فرمائے اور اسے خواتین اسلام کے لیے علم و ہدایت کا ذریعہ بنائے۔
از جانب:
اقصیٰ اسلامک اکیڈمی للبنات #🥰میرا سٹیٹس ❤️ #💞دعا میں یاد رکھنا 🤲🏻
سیکھا دے مولا۔۔🤍
خود کو بھول جانے کا ہنر
*میـں میـں نہ رہـے*
*بســـں تو رہے باقـی* #📗حدیث کی باتیں📜 #👬 عشق vs دوستی ❤







