ShareChat
click to see wallet page

اکثر فقہاء کرام کے نزدیک عورت کی آواز بذات خود "ستر" (عورت) میں داخل نہیں ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عہد نبوی میں خواتین صحابہ مردوں کی موجودگی میں سوالات پوچھتی تھیں اور ان سے بات چیت کرتی تھیں۔ تاہم، اس مسئلے میں کچھ شرائط اور تفصیلات ہیں: نرمی اور لچکدار لہجے سے پرہیز: قرآن کریم میں امہات المؤمنین (نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات) اور تمام مسلمان خواتین کو حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ غیر محرم مردوں سے بات کریں تو اپنی آواز میں نرمی اور لچک پیدا نہ کریں، تاکہ جس شخص کے دل میں بیماری (شہوت) ہو، وہ کسی غلط خیال میں مبتلا نہ ہو۔ انہیں "مناسب اور عام" طریقے سے بات کرنی چاہیے۔ ضرورت اور فتنہ کا خوف: عورت کو ضرورت کے وقت مردوں سے بات کرنے کی اجازت ہے، لیکن بلا ضرورت غیر محرم مردوں سے بات چیت کرنے یا آواز سنانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ فتنہ (آزمائش یا جنسی خواہش پیدا ہونے) کا امکان ہو سکتا ہے۔ عوامی مقامات پر آواز: اگر کوئی عورت عوامی سطح پر، جیسے تعلیم یا دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں بات کرتی ہے، تو اسے وقار اور باوقار انداز میں بات کرنی چاہیے، بغیر کسی بناؤ سنگھار یا دلکش لہجے کے۔ خلاصہ یہ کہ عورت کی آواز پردہ نہیں ہے، لیکن اس کا لہجہ اور بات کرنے کا انداز ایسا ہونا چاہیے جو حیا کے تقاضوں کے مطابق ہو اور فتنے کا باعث نہ بنے۔ #🕌سیرت النبیﷺ📓 #📗حدیث کی باتیں📜

1.3K ने देखा
1 महीने पहले