کسی بھی جذبے کو اتنی اجازت مت دیں کہ وہ آپ کے احساس بندگی پر حاوی ہو جائے۔
خاص طور کسی زیادتی یا دکھ کو اپنی شناخت کا حصہ نہ بنا لیں بلکہ یہ دکھ تو آپ کے اندر نور داخل کرنے کے لیے آتے ہیں، ان کو نور کا دروازہ سمجھ کر ان سے گزرتے چلی جائیں۔
مجھے وہ خواتین بہت زیادہ پسند ہیں جنہوں نے حالات کی سختی کو اتنی اجازت نہیں دی کہ وہ ان مزاج کو بھی سخت بنا دے۔
مجھے وہ اخوات بہت پسند ہیں جنہوں نے حالات کو رونا گانا کر کے نہیں بلکہ ہمت و حوصلے کے ساتھ ہینڈل کیا۔
میں ہمیشہ ایسی خواتین سے بہت متاثر ہوتی ہوں جن کے کردار کو ان پر آئی آزمائشوں نے برباد نہیں کیا۔
میں ایسی خواتین سے محبت کرتی ہوں جنہوں نے اپنے پیچھے آنے والیوں کے لیے صبر و شکر کے درخت لگائے۔ جن کے عمل نے ان کو مقام عزت بخشا۔ جنہوں نے مظلومیت کا کھیل کھیلنے کی بجائے اپنے اختیار بندگی کا بہترین کا استعمال کیا اور خود کو ہر حال میں راضی با رضا رکھا اور مطمئن کیفیت نے انہیں وہ وقار بخشا جو ان سے کوئی چھین نہیں سکتا۔
معاف کرنے والیاں، وسیع دل والیاں، خیر تقسیم کرنے والیاں، حسن ظن رکھنے والیاں بےشک انجانی ہی کیوں نا ہوں مجھے اپنے قریب محسوس ہوتی ہیں۔
مجھے لگتا یے کہ حالات چاہے کیسے بھی ہوں اگر انسان کا احساس بندگی زندہ ہے تو وہ ہیرا ہے۔ کائنات کا خالص ہیرا۔ ہیرا بھی تو بے شمار ضربیں، شدید دباؤ اور طویل سفر کے بعد اپنی اصل قیمت پاتا ہے۔ اسی طرح بندۂ مومن بھی اگر ہر آزمائش میں اپنے رب سے وابستہ رہے تو ہر ضرب اسے توڑتی نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی اصل چمک کو نمایاں کر دیتی ہے۔
یوں سمجھ لیں کہ دباو کا ایک ایک لمحہ اسے نکھارنے کا باعث بنتا ہے۔
اے روشنی کی متلاشی خواتین!
اپنی آزمائشوں سے مت ڈریے، بس اپنے احساسِ بندگی کو زندہ رکھیے کیونکہ جب بندگی زندہ رہتی ہے تو آزمائشیں سزا نہیں رہتیں، تربیت بن جاتی ہیں، زخم بوجھ نہیں رہتے، نور کے دروازے بن جاتے ہیں اور انسان ایک عام پتھر سے نکل کر اپنے رب کے ہاں ایک خالص ہیرے کی مانند قیمتی ہو جاتا ہے #🕌 نعت شریف🎧 #📗حدیث کی باتیں📜