*عنوان: بارش کے پانی سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟*
کیا فرماتی ہیں عالمات دین اس مسئلے کہ بارے میں کہ بارش کے پانی سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟
بینوا توجروا
بیان فرما کر اجر پائیے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ
اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَاب
بارش کا پانی بذاتِ خود پاک ہے اور پاک کرنے والا ہے؛ اس لیے اس سے وضو کرنا جائز ہے۔ لہٰذا اگر بارش کے قطرے وضو کے اعضا پر بہہ جائیں یا اس پانی کو کسی برتن میں جمع کر لیا جائے تو اس سے وضو کرنا بالکل درست اور جائز ہے۔
اللّٰہ عزوجل فرماتا ہے:
"وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ."
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے آسمان سے پانی اُتارا پاک کرنے والا۔
(پ:۱۹، الفرقان:۴۸)
ﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
"وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ."
ترجمۂ کنز الایمان: اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرماوے۔
(پ:19، الانفال:11)
مختصر القدوری میں ہے:
"الطهارة من الأحداث جائزة بماء السماء والأودية والعيون والآبار وماء البحار."
ترجمہ: آسمان کے پانی (یعنی بارش)، وادیوں، چشموں، کنوؤں اور دریاؤں کے پانی کے ذریعے ہر قسم کی ناپاکی (حدث) سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے۔
(مختصر القدوری، کتاب الطہارۃ، صفحہ11، مطبوعہ: دار السراج)
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:
"(يرفع الحدث) مطلقا (بماء مطلق كماء سماء وأودية وعيون وآبار وبحار وثلج مذاب)۔"
ترجمہ: مطلق پانی جیسے آسمان کا پانی، وادیوں کا پانی، چشموں کا پانی، کنوؤں کا پانی، سمندروں کا پانی، اور برف کے پگھلے ہوئے پانی سے مطلقاً حدث دور کیا جاسکتا ہے۔
(تنویر الابصار مع در مختار، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، جلد1، صفحہ357-358، مطبوعہ: دار المعرفه، بیروت، لبنان)
بہار شریعت میں ہے:
"مینہ(بارش)، ندی، نالے، چشمے، سمندر، دریا، کوئیں اور برف، اولے کے پانی سے وضو جائز ہے."
(بہار شریعت، پانی کا بیان، حصہ02، جلد1، صفحہ329،
واللّٰه تعالی اعلم بالصواب۔ #🕌 نعت شریف🎧 #📗حدیث کی باتیں📜