ShareChat
click to see wallet page

آقا ﷺ سے عرض کیا گیا: "یا رسول اللہ! ابوبکرؓ اندر آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "اجازت ہے۔" حضرت ابوبکرؓ تشریف لائے تو آپ ﷺ اسی حالت میں نیم دراز رہے۔ کچھ دیر بعد عرض کیا گیا: "یا رسول اللہ! عمرؓ اندر آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "اجازت ہے۔" حضرت عمرؓ تشریف لائے تو بھی آپ ﷺ اسی حالت میں رہے۔ پھر کچھ دیر بعد ام المؤمنین حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! عثمان غنیؓ اندر آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔" یہ سن کر آپ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنی چادر کو درست فرما لیا۔ حضرت عثمانؓ کے جانے کے بعد حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرے والد ابوبکرؓ تشریف لائے تو آپ ﷺ اسی حالت میں رہے، پھر عمرؓ تشریف لائے تو بھی آپ ﷺ اسی حالت میں رہے، لیکن جب عثمانؓ تشریف لائے تو آپ ﷺ بیٹھ گئے اور اپنی چادر درست فرما لی۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "عائشہ! اگر میں اسی حالت میں رہتا تو عثمان اپنی حیا کی وجہ سے اپنی حاجت بیان کیے بغیر واپس چلے جاتے۔ بھلا میں اس شخص سے حیا کیوں نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟" یہ ہے خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔ لوط علیہ السلام کے بعد حضرت عثمان غنیؓ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت رقیہؓ کی بیماری کی وجہ سے حضرت عثمانؓ ان کی تیمارداری کے لیے مدینہ میں ہی رکے رہے۔ جس دن بدر کی فتح کی خبر مدینہ پہنچی، اسی دن حضرت رقیہؓ کا انتقال ہوا اور ان کی تدفین ہوئی۔ حضرت رقیہؓ کی وفات کے بعد آپ ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ کا نکاح حضرت عثمانؓ سے فرمایا اس سے بڑھ کر حضرت عثمانؓ کی فضیلت اور کیا ہو سکتی ہے؟ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کسی نبی نے اپنی دو بیٹیاں ایک ہی شخص کے نکاح میں نہیں دیں، سوائے حضرت عثمانؓ کے، جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اپنی دو صاحبزادیاں عطا فرمائیں۔ بیٹیاں اسی کو دی جاتی ہیں جو دل کے قریب ہو۔ حضرت عثمان غنیؓ ہی وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے مال سے اسلام کی ہر ممکن حد تک خدمت کی۔ جب مدینہ منورہ میں پانی کی قلت کی وجہ سے مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا تو حضرت عثمانؓ نے آگے بڑھ کر ایک یہودی سے کنواں خرید لیا اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا، جو آج تک ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ روزِ قیامت قرآنِ کریم ان کی مظلومانہ شہادت کی گواہی دے گا، جب وہ تلاوتِ قرآن میں مشغول تھے اور باغیوں نے انہیں شہید کر دیا۔ جن دنوں ان کا محاصرہ کیا گیا، انہیں پانی تک سے محروم رکھا گیا۔ جس کنویں کو انہوں نے مسلمانوں کے لیے وقف کیا تھا، اسی کے پانی سے انہیں پینے نہیں دیا گیا۔ بیعتِ رضوان کے موقع پر آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک حضرت عثمانؓ کی طرف سے اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا: "یہ میرا ہاتھ عثمان کی طرف سے ہے۔" یہ بھی حضرت عثمانؓ کا عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے تمام مسلمانوں کو ایک ہی قراءت پر جمع فرمایا۔ خلفائے راشدین میں حضرت عثمان غنیؓ وہ عظیم خلیفہ ہیں جو حافظِ قرآن تھے۔ خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے چند مختصر فضائل یہاں بیان کیے گئے ہیں، ورنہ ان کے فضائل بے شمار ہیں۔ راجح قول کے مطابق 18 ذوالحجہ کو حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی کروڑہا رحمتیں خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر نازل ہوں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو، اور ہمیں بھی اپنی رضا نصیب فرمائے۔ آمین۔ #🌹حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ🌹 #سبیلِ عثمان غنی لگاؤ اور سبیلِ امام حسین بھی لگاؤ

626 ने देखा
3 दिन पहले