`دجّال`
*دجّال کے ظہور اور اس کی قتل گاہ کا بیان (4)*
`حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:`
*”کوئی نبی ایسے نہیں تھے جنہوں نے اپنی امت کو ”بڑے جھوٹے اور کانے“ (یعنی دجال) سے نہ ڈرایا ہو۔ خوب جان لو! کہ وہ کانا ہے، اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اور اس کی آنکھوں کے درمیان والے حصے پر ”کافر“ لکھا ہوا ہوگا۔“*
*[صحيح البخاري، رقم الحديث: ٧١٣١]*
*`فائدہ:`* *دجال کے فتنے کی شدت کا اندازہ اسی سے لگایا جائے کہ سارے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نے اپنی قوموں کو اس سے خبردار کیا*
*احادیث مبارکہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دجال سے حفاظت کے لیے `جذبۂ جہاد اور شوق شہادت` بہت کام آئے گا*
*وہ مسلمان جو ایمان کی خاطر جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں, وہی دجال کی آگ اور جہنم میں بے خطر کود جائیں گے اور حقیقت میں جنت پا لیں گے۔*
*لیکن جن کو جان عزیز ہوگی اور وہ شہادت سے ڈرتے ہوں گے تو وہ اس عظیم فتنے کا مقابلہ کیسے کریں گے؟*
*اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو ایمان کی قدر، جذبۂ جہاد اور شوق شہادت نصیب فرمائیں۔ آمین*
#💖💖islamic post💖💖 #Islamic baate حدیث شریف #अल्लाहु अकबर #🤲क़ुरान शरीफ़📗