Beiman
ShareChat
click to see wallet page
@sadibakhan
sadibakhan
Beiman
@sadibakhan
मुझे ShareChat पर फॉलो करें!
#💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #Ramazan mubarak #Deen ki Baten #mah-e-ramazan ki fazilat 🌙🌹*❤️‍🩹 ماہِ رمضان المبارک تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ*✨ *قسط نمبر 3.* *💫"روزے کا مقصد"* روزے کی ریاضت کا بھی خاص مقصد اور موضوع یہی ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی حیوانیت اور بہیمیت کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اور ایمانی وروحانی تقاضوں کی تابعداری وفرماں برداری کا خوگر بنایا جائے اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں نفس کی خواہشات اور پیٹ اور شہوتوں کے تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالی جائے اور چوں کہ یہ چیز نبوت اور شریعت کے خاص مقاصد میں سے ہے اس لیے پہلی تمام شریعتوں میں بھی روزے کا حکم رہا ہے، اگرچہ روزوں کی مدت اور بعض دوسرے تفصیلی احکام میں ان امتوں کے خاص حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرق بھی تھا، قرآنِ کریم میں اس امت کو روزے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: *یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (سورة البقرہ آیت ۱۸۳) ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے (روزوں کا یہ حکم تم کو اس لیے دیا گیا ہے) تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔* کیوں کہ یہ بات یقینی ہے کہ نفس انسانی انسان کو گناہ، نافرمانی اور حیوانی تقاضوں میں اسی وقت مبتلا کرتا ہے جب کہ وہ سیراور چھکا ہوا ہو، اس کے برخلاف اگر بھوکا ہوتو وہ مضمحل پڑا رہتا ہے اور پھر اس کو معصیت کی نہیں سوجھتی۔۔ روزے کا مقصد یہی ہے کہ نفس کو بھوکا رکھ کر مادّی وشہوانی تقاضوں کو بروئے کار لانے سے اس کو روکا جائے تاکہ گناہ پر اقدام کرنے کا داعیہ اور جذبہ سُسْت پڑ جائے اور یہی *”تقویٰ“* ہے۔. *جاری۔۔۔*
#अल्लाहु अकबर #Ramazan mubarak #💖💖islamic post💖💖 #Deen ki Baten *💫 رمضان المبارک کی عظمت، حرمت اور فضیلت!! 💫* *سلسلہ پوسٹ 3.* رمضان کا روزہ فرض اور تراویح کو نفل (سنت مؤکدہ) بنایا ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور خیرخواہی کا مہینہ ہے، اس میں مؤمن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، اس میں روزہ افطار کرانے والے کی مغفرت، گناہوں کی بخشش اور جہنم سے آزادی کے پروانے کے علاوہ روزہ دار کے برابر ثواب دیا جاتا ہے، چاہے وہ افطار ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے ہی کیوں نہ کرائے، ہاں! اگر روزہ دار کو پیٹ بھرکر کھلایا یا پلایا تو اللہ تعالیٰ اسے حوضِ کوثر سے ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔ اس ماہ کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔ جس نے اس ماہ میں اپنے ماتحتوں کے کام میں تخفیف کی تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ اس کی مغفرت اور اسے جہنم سے آزادی کا پروانہ دیں گے۔ پورا سال جنت کو رمضان المبارک کے لیے آراستہ کیا جاتا ہے۔ عام قانون یہ ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس سے لے کر سات سو تک دیا جاتا ہے، مگر روزہ اس قانون سے مستثنیٰ ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’روزہ صرف میرے لیے ہے اور اس کا اجر میں خود دوں گا۔‘‘ روزہ دار کو دو خوشیاں ملتی ہیں: ایک افطار کے وقت کہ اس کا روزہ مکمل ہوا اور دعا قبول ہوئی، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے روزہ افطار کیا اور دوسری خوشی جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوگی۔ روزہ دار کے منہ کی بو (جو معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے آتی ہے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ روزہ اور قرآن کریم دونوں بندے کی شفاعت کریں گے اور بندے کے حق میں دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ سبحان اللہ العظیم🫀 *باقی۔۔*
#mah-e-ramazan ki fazilat #Deen ki Baten #Ramazan mubarak #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर 🌙🌹*❤️‍🩹 ماہِ رمضان المبارک تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ*✨ *قسط نمبر 2.* 💫*"رمضان کے معنی"* ”رمضان“ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں *”جھُلسا دینے والا“* اس مہینے کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اسلام میں جب سب سے پہلے یہ مہینہ آیا تو سخت اور جھلسا دینے والی گرمی میں آیا تھا۔ لیکن بعض علماء کہتے ہیں کہ اس مہینے میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی خاص رحمت سے روزے دار بندوں کے گناہوں کو جھلسا دیتے ہیں اور معاف فرما دیتے ہیں، اس لیے اس مہینے کو ”رمضان“ کہتے ہیں۔ (شرح ابی داؤد للعینی ۵/۲۷۳) 💫*"رمضان رحمت کا خاص مہینہ"* اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک مہینہ اس لیے عطا فرمایا کہ گیارہ مہینے انسان دنیا کے دھندوں میں منہمک رہتا ہے جس کی وجہ سے دلوں میں غفلت پیدا ہو جاتی ہے، روحانیت اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں کمی واقع ہو جاتی ہے، تو رمضان المبارک میںآ دمی اللہ کی عبادت کرکے اس کمی کو دور کر سکتا ہے، دلوں کی غفلت اور زنگ کو ختم کر سکتا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرکے زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوجائے، جس طرح کسی مشین کو کچھ عرصہ استعمال کرنے کے بعد اس کی سروس اور صفائی کرانی پڑتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی صفائی اور سروس کے لیے یہ مبارک مہینہ مقرر فرمایا۔ *جاری۔۔۔*
🌙🌹*❤️‍🩹 ماہِ رمضان المبارک تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ*✨ *قسط نمبر 1.* رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے، اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انوار وبرکات کا سیلاب آتا ہے اور اس کی رحمتیں موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں، مگر ہم لوگ اس مبارک مہینے کی قدر ومنزلت سے واقف نہیں، کیونکہ ہماری ساری فکر اور جدوجہد مادّیت اور دنیاوی کاروبار کے لیے ہے، اس مبارک مہینے کی قدردانی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی فکر آخرت کے لیے اور جن کا محور مابعد الموت ہو۔۔ آپ حضرات نے یہ حدیث شریف سنی ہوگی، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وبَلِّغْنَا رَمَضَانَ، (شعب الایمان۳/۳۷۵، تخصیص شہر رجب بالذکر) ترجمہ: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دیجیے، یعنی ہماری عمر اتنی دراز کر دیجیے کہ ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب ہو جائے۔ آپ غور فرمائیں کہ رمضان المبارک آنے سے دو ماہ پہلے ہی رمضان کا انتظار اور اشتیاق ہو رہا ہے، اور اس کے حاصل ہونے کی دعا کی جا رہی ہے، یہ کام وہی شخص کر سکتا ہے جس کے دل میں رمضان کی صحیح قدر وقیمت ہو۔۔ *جاری۔۔۔* #अल्लाहु अकबर #💖💖islamic post💖💖 #Ramazan mubarak #mah-e-ramazan ki fazilat #Deen ki Baten
#mah-e-ramazan ki fazilat #💖💖islamic post💖💖 #Ramazan mubarak #अल्लाहु अकबर *💫 رمضان المبارک کی عظمت، حرمت اور فضیلت!! 💫* *سلسلہ پوسٹ 2.* *تقویٰ کا معنی ہے:* نفس کو برائیوں سے روکنا اور اس کا سب سے بڑا ذریعہ روزہ ہے۔ جیسا کہ ایک صحابیؓ نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے عمل کا حکم دیجیے جس سے حق تعالیٰ مجھے نفع دے‘‘ ، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’علیک بالصوم، فإنہٗ لامثل لہٗ‘‘ (سنن نسائی، ج:۱، ص:۱۴۰) *’’یعنی روزہ رکھا کرو، اس کے مثل کوئی عمل نہیں۔‘‘* اب رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، گویا یہ مہینہ نیکیوں اور طاعات کے لیے موسمِ بہار کی طرح ہے، اسی لیے رمضان المبارک سال بھر کے اسلامی مہینوں میں سب سے زیادہ عظمتوں، فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اپنی رضا، محبت وعطا، اپنی ضمانت واُلفت اور اپنے انوارات سے نوازتے ہیں۔ اس مہینہ میں ہر نیک عمل کا اجر وثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس ماہ میں جب ایمان اور احتساب کی شرط کے ساتھ روزہ رکھا جاتا ہے تو اس کی برکت سے پچھلی زندگی کے تمام صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور جب رات کو قیام (تراویح) اسی شرط کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس سے بھی گزشتہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس ماہ میں ایک نیکی فرض کے برابر اور فرض ستر فرائض کے برابر ہو جاتا ہے۔ اس ماہ کی ایک رات جسے *شبِ قدر* کہا جاتا ہے وہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے۔ *باقی۔۔*
#🕋Quran Aur Hadees ( قرآن اور حدیث ) 🕋 #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #mah-e-ramazan ki fazilat #Ramazan mubarak *💫 رمضان المبارک کی عظمت، حرمت اور فضیلت!! 💫* *سلسلہ پوسٹ 1.* *الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی* اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف واکرم بنایا، اس کی فطرت میں نیکی اور بدی، بھلائی اور برائی ، تابعداری وسرکشی اور خوبی وخامی دونوں ہی قسم کی صلاحیتیں اور استعدادیں یکساں طور پر رکھ دی ہیں۔ اسی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے کہ کسی بھی انسان سے اچھائی اور برائی دونوں ہی وجود میں آسکتی ہیں۔ ایک انسان سے حسنات بھی ممکن ہیں اور سیئات بھی، اس کے باوجود کوئی سیئات ومعصیات سے مجتنب ہوکر اپنی زندگی اور اس کے قیمتی لمحات کو حسنات وطاعات سے مزین اور آراستہ کرلے تو یہ اس کے کامیاب اور خالق ومخلوق کے نزدیک اشرف واکرم ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے اور یہی تقویٰ وپرہیزگاری ہے جو روزہ کا مقصدِ اصلی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ أَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ۔‘‘ (البقرۃ:۱۸۳، ۱۸۴) ’’اے ایمان والو! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ، چند روز ہیں گنتی کے۔‘‘ *باقی۔۔۔*
#💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 #Deen ki Baten #अल्लाहु अकबर #💖💖islamic post💖💖 #🕋Quran Aur Hadees ( قرآن اور حدیث ) 🕋 *✴️ قرآنی تحریری کورس۔۔* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *سبق:* *حضرت نوح علیہ السلام — دوسرا دن* *موضوع:* *طویل دعوت، مسلسل انکار، استہزاء اور دعاۓ نوح علیہ السلام* ‎ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال مسلسل دعوتِ توحید دی، اس طویل عرصے میں نسلیں بدلتی رہیں، بچے پیدا ہوئے، جوان ہوئے اور بوڑھے ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر قوم نے حق قبول کرنے کے بجائے ہر دور میں دعوت کو جھٹلایا، مذاق اڑایا اور استہزاء کا رویہ اختیار کیے رکھا، یہاں تک کہ جب مسلسل، بےحد اور صبر آزما جدوجہد کے بعد یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی کہ یہ قوم حق کی طرف پلٹنے کے لیے تیار نہیں اور اس کی سرکشی اجتماعی فساد کی شکل اختیار کر چکی ہے، تو اللہ کے پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام نے ربِّ کریم کے حضور دعا کی اور معاملہ مکمل طور پر اسی کے سپرد کر دیا۔ ‎ *﴿قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا﴾* ترجمہ: نوح نے کہا: اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی۔ ‎ یہ آیت دعوتِ نوح کی وسعت، تسلسل اور ہمہ وقتی جدوجہد کو واضح کرتی ہے کہ انہوں نے کسی حال میں دعوت ترک نہیں کی۔ ‎ *﴿فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا﴾* ترجمہ: مگر میری دعوت نے ان کے بھاگنے ہی میں اضافہ کیا۔ ‎ یہاں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حق واضح ہو جانے کے بعد بھی ضد اور خواہش انسان کو اس سے مزید دور کر دیتی ہے۔ ‎ *﴿وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ﴾* ترجمہ: اور میں نے جب بھی انہیں بلایا تاکہ تو انہیں بخش دے، انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں۔ ‎ یہ آیت جان بوجھ کر سچ نہ سننے اور حق سے شعوری انکار کی تصویر پیش کرتی ہے۔ ‎ *﴿وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا﴾* ترجمہ: اور انہوں نے اپنے کپڑے اوڑھ لیے، اصرار کیا اور بڑا تکبر کیا۔ ‎ یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ حق کا انکار صرف فکری نہیں بلکہ قلبی اور نفسیاتی بیماری بھی ہوتا ہے۔ ‎ *﴿ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا﴾* ترجمہ: پھر میں نے انہیں کھلے عام دعوت دی۔ ‎ یہ آیت اعلانِ عام اور اجتماعی خطاب کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ ‎ *﴿ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا﴾* ترجمہ: پھر میں نے* انہیں علانیہ بھی کہا اور چھپا کر بھی سمجھایا۔ ‎ یہ دعوت کے اس جامع منہج کو بیان کرتی ہے جس میں حکمت، نرمی اور حالات کے مطابق انداز شامل ہوتا ہے۔ ‎ *﴿فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا﴾* ترجمہ: پس میں نے کہا: اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ ‎ یہاں واضح ہوتا ہے کہ دعوتِ توحید ہمیشہ رحمت اور رجوع کے دروازے کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ ‎ *﴿يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا﴾* ترجمہ: وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا۔ ‎ یہ آیت ایمان اور اطاعت کے دنیاوی اثرات کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے۔ ‎ *﴿وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ﴾* ترجمہ: اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دے گا۔ ‎ یہ انسان کی فطری خواہشات کو صحیح سمت دے کر حق کی طرف بلانے کا حکیمانہ اسلوب ہے۔ ‎ *﴿وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا﴾* ترجمہ: اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ ‎ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ گمراہی جب اجتماعی بن جائے تو اس کا نقصان نسلوں تک پھیل جاتا ہے۔ ‎ *﴿رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾* ترجمہ: اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔ ‎ یہ دعا مایوسی نہیں بلکہ طویل اتمامِ حجت کے بعد عدلِ الٰہی کے فیصلے کے سپرد کرنے کا اعلان ہے۔ ‎ *﴿إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ﴾* ترجمہ: اگر تو نے انہیں چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے۔ ‎ یہاں واضح ہوتا ہے کہ اجتماعی فساد کے خاتمے کے لیے بعض اوقات فیصلہ کن مرحلہ آ جاتا ہے۔ ‎ *غور و فکر و عمل کے جامع نکات* ‎ 1) حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی یہ سکھاتی ہے کہ دعوتِ ایمان میں اصل کامیابی مسلسل محنت اور صبر ہے، نہ کہ فوری نتائج۔ ‎ 2) حق سے انکار اکثر دلیل کی کمی نہیں بلکہ تکبر، ضد اور خواہشات کی غلامی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ‎ 3) دعوت میں نرمی، حکمت اور تنوع ضروری ہے، مگر توحید کے اصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ ‎ 4) ایمان اور استغفار کا اثر صرف آخرت تک محدود نہیں بلکہ دنیا کی زندگی کو بھی درست کرتا ہے۔ ‎ 5) جب حق پوری طرح واضح ہو جائے اور قوم مسلسل فساد پر قائم رہے تو معاملہ اللہ کے سپرد کرنا ہی انبیاء کا منہج ہے۔ *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*
#🕋Quran Aur Hadees ( قرآن اور حدیث ) 🕋 #قرآن کریم #, اردو ترجمہ #💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 #Deen ki Baten #अल्लाहु अकबर *✴️ قرآنی تحریری کورس۔۔* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *سبق: حضرت نوح علیہ السلام —* *پہلا دن* *موضوع: بعثتِ نوح، دعوتِ توحید اور قوم کی فکری و اعتقادی گمراہی* ‎ حضرت نوح علیہ السلام انسانیت کے پہلے رسول ہیں جنہیں ایک ایسی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا جو ابتدا میں توحید پر تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ صالحین کی حد سے بڑھی ہوئی تعظیم کو عبادت میں بدل بیٹھی، اور یہی فکری انحراف بعد میں کھلے شرک کی صورت اختیار کر گیا۔ ‎ *﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ﴾* ترجمہ: ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ ‎ یہ آیت بعثتِ نوح کی اصل حقیقت واضح کرتی ہے کہ وہ ایک حقیقی اصلاحی مشن کے ساتھ بھیجے گئے، نہ کہ محض نصیحت یا روایت کی تجدید کے لیے۔ ‎ *﴿أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ﴾* ترجمہ: کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ ‎ دعوتِ نوح کا آغاز کسی فلسفے یا سماجی اصلاح سے نہیں بلکہ سیدھی توحید سے ہوا، کیونکہ انسان کی اصل گمراہی یہی ہوتی ہے۔ ‎ *﴿إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾* ترجمہ: میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ ‎ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دعوتِ ایمان صرف خوش خبری نہیں بلکہ انجام کی سنجیدہ یاد دہانی بھی ہے۔ ‎ *﴿قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾* ترجمہ: اس کی قوم کے سرداروں نے کہا: ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔ ‎ یہاں واضح ہوتا ہے کہ حق کی مخالفت سب سے پہلے بااثر طبقہ کرتا ہے، کیونکہ حق ان کے مفادات کو چیلنج کرتا ہے۔ ‎ *﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ﴾* ترجمہ: نوح نے کہا: اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں۔ ‎ داعی کا جواب الزام تراشی نہیں بلکہ وقار، اعتماد اور دلیل پر مبنی ہونا چاہیے۔ ‎ *﴿وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾* ترجمہ: بلکہ میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔ ‎ یہ جملہ بتاتا ہے کہ دعوت کی اصل طاقت داعی کی ذات نہیں بلکہ رب کی طرف سے ہونے میں ہے۔ ‎ *﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ﴾* ترجمہ: میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں۔ ‎ یہ آیت دعوت کے دو بنیادی اصول طے کرتی ہے: امانت داری اور خالص خیرخواہی۔ ‎ *﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾* ترجمہ: اور میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ‎ وحی اور انسانی قیاس کے فرق کو سمجھنا ایمان کی بنیاد ہے۔ ‎ *﴿وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾* ترجمہ: اور انہوں نے کہا: اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا، نہ ودّ کو، نہ سواع کو، نہ یغوث کو، نہ یعوق کو اور نہ نسر کو۔ ‎ یہ قومِ نوح کے مشہور بت تھے، جو دراصل صالح انسانوں کے نام پر بنائے گئے، پھر وقت کے ساتھ عبادت کا مرکز بن گئے، اور یہی شرک کی اصل جڑ بنی۔ ‎ *﴿فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا﴾* ترجمہ: تو وہ ان میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے۔ ‎ یہ آیت بتاتی ہے کہ دعوتِ ایمان وقتی جوش کا کام نہیں بلکہ عمر بھر کی استقامت اور قربانی کا راستہ ہے۔ ‎ غور و فکر و عمل کے جامع نکات ‎ 1) قومِ نوح کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ شرک اکثر صالحین کی حد سے بڑھی ہوئی تعظیم سے شروع ہوتا ہے، اس لیے توحید کی حفاظت ضروری ہے۔ ‎ 2) حق کا انکار اکثر علمی کمی نہیں بلکہ تکبر، روایت پرستی اور مفاد پرستی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ‎ 3) دعوتِ ایمان میں اصل قوت پیغامِ حق کی ہوتی ہے، نہ داعی کے مقام یا تعداد کی۔ ‎ 4) طویل صبر، مسلسل محنت اور ہر اسلوب میں دعوت دینا انبیاء علیہم السلام کا ثابت شدہ منہج ہے۔ ‎ 5) یہ سبق ہر دل کو دعوت دیتا ہے کہ وہ انجام پر سنجیدگی سے غور کرے، توحید کو خالص رکھے اور اپنے رب سے مضبوط تعلق قائم کرے۔ *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*
١۹ شعبان 🌙 رمضان کے مہینے کی تعظیم اور اس کا حق ادا کرنے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے دنوں اور انوار کے آنے سے پہلے توبہ میں جلدی کی جائے۔ کیونکہ توبہ تمہارے دل اور اس کی زندگی کا حق ہے۔ اور یاد رکھو! کوئی بھی گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ کی معافی اور بخشش سے بڑا نہیں۔ اور اپنی حالت سنوارنے کو رمضان کے زمانے تک مؤخر نہ کرو، کیونکہ ممکن ہے تم اس کا چاند ہی نہ دیکھ سکو۔ #🕋Quran Aur Hadees ( قرآن اور حدیث ) 🕋 #Deen ki Baten #अल्लाहु अकबर #💚__الحمدللہ.. #💖💖islamic post💖💖
🕋Quran Aur Hadees ( قرآن اور حدیث ) 🕋 - ಣ36182 ಣ340 ಣ36182 ಣ340 - ShareChat
#💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 #🕋Quran Aur Hadees ( قرآن اور حدیث ) 🕋 #अल्लाहु अकबर #Deen ki Baten ♦️ *شیعہ کافر کیوں ؟؟؟*♦️ کیا آپ شیعہ عقائد جانتے ہیں؟؟  نہیں تو پڑھیں اور اپنے جاننے والوں کو بھی پڑھائیں کیا ان سے رشتے داری، تعلقات، لین دین جائز ہو سکتا ہے؟  اگر ہو سکتا تو پھر قادیانی سے کیوں نہیں ؟؟ کیا قادیانیوں سے زیادہ غلیظ ترین عقائد شیعہ کے نہیں؟ پڑھیں اور فیصلہ کریں 🔸 اس وقت پوری دنیا میں پائے جانے والے *شیعہ* کو *اثناء عشریہ* کہا جاتا ہے انہیں رافضی، امامیہ،  جعفریہ بھی کہا جاتا ہے یہ اپنے آپ کو محبّان علی رضی اللہ عنہ اور محبّان اہلبیت کہتے ہیں شیعہ کے تمام فرقے خلفائے راشدین یعنی حضرت ابو بکر و عمر و عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافت کو نہ ماننے پر متّفق ہیں ۔ 🔸یہی نہیں بلکہ حضرات شیخین حضرت ابوبکر و عمر و عثمان و معاویہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھلے عام گالیاں دیتے ہیں ان کو دشمنِ زہرا کہتے ہیں اس کے علاوہ ان کی مستند کتب میں بھی کئی کفریہ کلمات موجود ہیں ۔ ہم آپکے سامنے ان کے کفریہ کلمات کی فہرست انہی کی مستند کتب سے پیش کرتے ہیں ۔ 🔸*عقیدہ :اللہ تعالیٰ کبھی کبھی جھوٹ بھی بولتا ہے اور غلطی بھی کرتا ہے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ: اصولِ کافی جلد 1صفحہ نمبر 148 یعقوب کلینی ) 🔸*عقیدہ :موجودہ قرآن تحریف شدہ (بدلا ہوا) ہے ۔* 🔹(بحوالہ :حیات القلوب جلد 3صفحہ نمبر 10: مصنف : ملاں مجلسی ) 🔸 *عقیدہ :جمع قرآن جو بعد از رسول ﷺکیا گیا اصولاً غلط ہے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :ہزار تمہاری دس ہماری ص 560 عبدالکریم مشتاق کراچی ) 🔸 *عقیدہ :امام مہدی رضی اللہ عنہ جب آئیں گے تو اصلی قرآن لے کر آئیں گے ۔(معاذاللہ )* 🔹(بحوالہ :احسن المقال جلد 2ص336صفدر حسین نجفی ) 🔸 *عقیدہ :حضور ﷺ،حضرت عائشہ سے حالتِ حیض میں جماع کرتے تھے نعوذباللہ۔* 🔹(بحوالہ :تحفہ حنفیہ ص72غلام حسین نجفی جامع المنتظر ) 🔸 *عقیدہ :تمام پیغمبر زندہ ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ماتحت ہو کر جہاد کریں گے ۔(معاذاللہ )* 🔹(بحوالہ :تفسیر عیاشی جلد اول ص 181) 🔸 *عقیدہ :حضرت یونس علیہ السلام نے ولا یتِ علی کو قبول نہ کیا جسکی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :حیات القلوب جلد اول ص459مصنّف :ملا باقر مجلس مطبوعہ تہران ) 🔸 *عقیدہ :مرتبہ امامت مرتبہ پیغمبری سے بالا تر ہے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :حیات القلوب جلد سوم ص 2ملا مجلس مطبوعہ تہران ) 🔸 *عقیدہ :بارہ امام حضور ﷺکے علاوہ بقیہ تمام انبیاء کے اُستاد ہیں ۔(معاذاللہ )* 🔹(بحوالہ :مجموعہ مجالس ص 29صفدر ڈوگرا سرگودھا ) 🔸 *عقیدہ :حضرت ابو بکر و عمر و عثمان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت ترک کر دینے کی وجہ سے مرتد ہوگئے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ:اصولِ کافی جلد اول حدیث 43 ص420 مطبوعہ تہران طبع جدید ) 🔸 *عقیدہ :حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑے بے حیا اور بے غیرت تھے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :نور الایمان ص75امامیہ کتب خانہ لاہور ) 🔸 *عقیدہ :حضرت ابو بکر و عمر و عثمان کی خلافت کے بارے میں جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے یہ خلافت حق ہے وہ عقیدہ بالکل گدھے کے عضو تناسل کی مثل ہے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :حقیقت فقہ حنفیہ ص 72 غلام نجفی ) 🔸 *عقیدہ :حضور ﷺکی وفات کے بعد تین صحابہ کے علاوہ باقی سب مرتد ہوگئے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :روضہ کافی جلد 8 ص245 حدیث 341) 🔸 *عقیدہ :حضرت عباس اور حضرت عقیل ذلیل النفس اور کمزور ایمان والے تھے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :حیات القلوب جلد 2ص618مطبوعہ تہران طبع جدید ) 🔸 *عقیدہ :معاویہ کی ماں کے چار یار تھے اس لئے سنّی چار یار کا نعرہ لگاتے ہیں ۔* 🔹(خصائل معاویہ ص34 مصنف :غلام حسین نجفی لاہور ) 🔸 *عقیدہ :عائشہ طلحہ و زبیر واجب القتل تھے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :کتاب بغاوتِ بنو امیّہ و معاویہ ص 474مصنف :غلام حسین نجفی ) 🔸 *عقیدہ :حضرت عائشہ کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ شریعت و شیعت ص 45مصنف :عرفان حیدر عابدی کرادمی ) 🔸 *عقیدہ :حضور ﷺکے ظاہر و باطن میں تضاد تھا ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :تفسیر عیاشی جلد 2ص 101از:محمد بن مسعود عیاشی ) 🔸 *عقیدہ :اللہ تعالیٰ نے پیغام رسالت دیکر جبرائیل کو بھیجا کہ علی رضی اللہ عنہ کو پیغام رسالت دو لیکن جبرائیل بھول کر محمد ﷺکو دے گئے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :انوار نعمانیہ ص237از:نعمت اللہ جبرائری ) 🔸 *عقیدہ :جس نے ایک دفعہ متعہ(زنا) کیا اسکا درجہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے برابر۔جس نے دو دفعہ متعہ کیا اسکا درجہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے برابر۔ جس نے تین دفعہ کیا اسکا درجہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے برابر۔جس نے چار دفعہ متعہ کیا اسکا درجہ حضرت محمد ﷺکے برابرہو جاتاہے ۔* (معاذاللہ ) 🔹(بحوالہ:برہانِ متعہ ثوابِ متعہ ص 52) 🔸عقیدہ : *شیعہ مذہب کا کلمہ اسلامی کلمہ کے خلاف ہے* شیعہ مذہب کا کلمہ یہ ہے ۔ ’’لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ علی ولی اللّٰہ وصی رسول اللّٰہ و خلیفۃ بلا فصل ‘‘ ترجمہ :اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اللہ کے رسول ، حضرت علی اللہ کے ولی اور رسول کے بلافصل خلیفہ ہیں ۔ *یہ چند کفریات شیعہ مذہب کی کچھ کتابوں سے لیے گئے ہیں ورنہ شیعہ مذہب کی کتب لا تعداد کفریات سے بھری ہوئی ہیں جن کو لکھتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہیں*