محبین دارالعلوم دیوبند✅ MUHIBBEEN DARUL ULOOM DEOBAND: https://whatsapp.com/channel/0029VakMzHlHgZWW00L8hY3j/8768 *گزشتہ سبق کے لیے👆🏻 کلک کریں* *✴️ قرآنی تحریری کورس* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *بسم اللہ الرحمن الرحیم* *دوسرا و آخری سبق: حضرت آدم علیہ السلام —* *تخلیقِ انسان، آغازِ امتحان اور دعوتِ ایمان کی بنیاد* قرآنِ مجید حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے کو محض آغازِ انسانیت کے طور پر نہیں بلکہ ہدایت، دعوتِ توحید اور انسانی ذمہ داری کے مستقل اصول کے طور پر بیان کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ ایمان، کفر، اطاعت، لغزش، توبہ، دشمنی اور ہدایت کے تمام بنیادی نکات کو ایک ہی سلسلے میں واضح کر دیتا ہے، اس سبق کا مقصد آدم علیہ السلام کو ایک نبی اور داعی کے طور پر سمجھنا ہے تاکہ انسان اپنے رب، اپنے دشمن اور اپنے راستے کو پہچان سکے۔ *﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ* *إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾** ترجمہ: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انسان کی تخلیق اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے باقاعدہ منصوبے کے تحت ہوئی، خلافت کا مطلب یہ ہے کہ انسان زمین پر اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا ذمہ دار ہے، اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دعوتِ ایمان کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ انسان اپنے منصب کو سمجھے اور اس کے مطابق عمل کرے۔ *﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾* ترجمہ: اور اللہ نے آدم کو تمام نام سکھا دیے۔ یہ علم انسان کی اصل فضیلت ہے، یہ علم محض معلومات نہیں بلکہ پہچان، شعور اور سمجھ کا علم ہے، اسی علم کی بنیاد پر انسان حق و باطل میں فرق کر سکتا ہے اور اسی لیے وہ مکلف ہے۔ *﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ﴾* ترجمہ: اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو۔ یہ سجدہ عبادت نہیں بلکہ تکریم تھا، اس سے انسان کی عزت اور ذمہ داری دونوں واضح ہوئیں، اسی موقع پر شیطان کا تکبر سامنے آیا۔ *﴿إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ﴾* ترجمہ: مگر ابلیس نے انکار کیا اور تکبر کیا۔ یہاں حق و باطل کی پہلی لکیر کھنچ گئی، شیطان کا انکار علم کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ تکبر کی وجہ سے تھا، یہی تکبر ہر دور میں دعوتِ ایمان کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ *﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾* ترجمہ: اور ہم نے فرمایا: اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو۔ آدم علیہ السلام کو واضح ہدایت کے ساتھ اختیار دیا گیا، یہ اختیار ہی امتحان کی بنیاد ہے۔ *﴿وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ﴾* ترجمہ: اور اس درخت کے قریب نہ جانا۔ ہدایت مختصر اور واضح تھی، مگر شیطان نے دھوکے سے لغزش کروائی۔ ﴿ *فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا* ﴾ ترجمہ: پھر شیطان نے ان دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا۔ یہ لغزش تھی، دانستہ نافرمانی نہیں، اور یہی فرق ایمان اور کفر کے راستے الگ کرتا ہے۔ *﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا﴾* ترجمہ: دونوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ یہ انسانیت کی پہلی توبہ ہے، اعتراف، عاجزی اور رجوع کا کامل نمونہ۔ *﴿فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ﴾* ترجمہ: پھر آدم نے اپنے رب سے کلمات سیکھ لیے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہاں واضح ہو گیا کہ اللہ کی طرف پلٹنا نجات کا راستہ ہے۔ *﴿قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا﴾* ترجمہ: ہم نے فرمایا: تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ زمین پر نزول سزا نہیں بلکہ امتحان اور ذمہ داری کا آغاز تھا۔ *﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى﴾* ترجمہ: پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے۔ *﴿فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾* ترجمہ: تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم۔ ہدایت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا گیا، یہی دعوتِ ایمان کی اصل بنیاد ہے۔ اسی مقام پر شیطان اپنے مشن کا اعلان کرتا ہے۔ *﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ* ﴾** ترجمہ: اس نے کہا: تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو ضرور بہکاؤں گا۔ *﴿إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾* ترجمہ: سوائے تیرے ان بندوں کے جو خالص ہیں۔ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ *﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ* ﴾ ترجمہ: بے شک میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار حاصل نہ ہوگا۔ یہ اعلان بتاتا ہے کہ شیطان کا زور وہاں ختم ہو جاتا ہے جہاں رب کی پہچان اور اخلاص آ جاتا ہے، یہی دعوتِ ایمان کا مقصد ہے کہ انسان کو اس کے رب سے جوڑا جائے۔ *خلاصہ* قرآنِ مجید بتاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے ارادے، علم اور حکمت کے تحت ہوئی، فرشتوں کے سامنے انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا اور آدم علیہ السلام کو علم عطا کر کے ان کی فضیلت واضح کی گئی، اس مرحلے پر ہی واضح کر دیا گیا کہ انسان محض جسم نہیں بلکہ علم، شعور اور ذمہ داری کا حامل ہے، اور اس کی اصل پہچان اس کے رب سے تعلق میں ہے۔ پھر آدم علیہ السلام کو جنت میں بسایا گیا، واضح ہدایت دی گئی اور ساتھ ہی اختیار بھی دیا گیا، یہاں شیطان کی دشمنی کھل کر سامنے آئی جس نے تکبر کی بنیاد پر انسان سے عداوت اختیار کی، اس دشمنی کا پہلا وار آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ پر ہوا، مگر یہ کوئی سرکشی یا دانستہ نافرمانی نہیں تھی بلکہ ایک لغزش تھی، جس کے فوراً بعد آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا، توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما لیا، یوں یہ اصول قائم ہو گیا کہ انسان کی عظمت لغزش نہ کرنے میں نہیں بلکہ لغزش کے بعد رب کی طرف پلٹ آنے میں ہے۔ اس کے بعد زمین پر نزول کا مرحلہ آیا جو سزا نہیں بلکہ آزمائش اور ذمہ داری کا آغاز تھا، اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ انسان کو ہدایت دی جاتی رہے گی اور جو اس ہدایت کو تھام لے گا وہ خوف اور غم سے محفوظ رہے گا، جبکہ جو حق واضح ہونے کے بعد جھٹلائے گا وہ خود اپنے انجام کا ذمہ دار ہوگا، اسی مقام پر شیطان نے کھلے لفظوں میں اعلان کیا کہ وہ انسان کو حق سے بھٹکانے کی پوری کوشش کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ سنا دیا کہ شیطان کا کوئی زور خالص بندوں پر نہیں چلے گا۔ یوں حضرت آدم علیہ السلام کا پورا واقعہ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اصل معرکہ علم و جہالت کا نہیں بلکہ اخلاص و تکبر کا ہے، ہدایت اور گمراہی زبردستی نہیں بلکہ انتخاب کا نتیجہ ہیں، اور نجات کا راستہ رب کی پہچان، توحید کے شعور اور اس کی بندگی میں ہے، یہی پیغام ہر نبی لے کر آیا اور یہی دعوتِ ایمان آج اس امت کی ذمہ داری ہے کہ انسان کو اس کے رب سے جوڑا جائے تاکہ وہ حق کو پہچان کر باطل سے خود محفوظ ہو سکے۔ *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*
Channel • 25K followers