Beiman
ShareChat
click to see wallet page
@sadibakhan
sadibakhan
Beiman
@sadibakhan
मुझे ShareChat पर फॉलो करें!
*من أعظم مطالب الدنيا: "كفاية الهم"* *ومن أعظم مطالب اﻵخرة: "غفران الذنب"* *وهما مضمونتان بالصلاة على النبيﷺ* " *تُكفى همك* .. *ويغفر ذنبك"* *صلُّوا عليه* ❤️ *ترجمہ* دنیا کی سب سے بڑی ضرورت: "غموں سے نجات" اور آخرت کی سب سے بڑی ضرورت: "گناہوں کی بخشش" اور یہ دونوں چیزیں نبی ﷺ پر درود بھیجنے میں پوشیدہ ہیں: "تمہارے غم دور ہوں گے... اور تمہارے گناہ بخش دیے جائیں گے" #rasul sallallahu alaihi wasallam ki ummat me unke ummtti hai hum ramjanul mubarak allah hoqbar #shab e jumu'ah durood shareef #💖💖islamic post💖💖 #Deen ki Baten #अल्लाहु अकबर
rasul sallallahu alaihi wasallam ki ummat me
unke ummtti hai hum
ramjanul mubarak
allah hoqbar - ShareChat
#🌻🕌🤲 दुरुद शरीफ की फजीलत🤲🕌🌻 #durood un pr salam un pr #shab e jumu'ah durood shareef #rasul sallallahu alaihi wasallam ki ummat me unke ummtti hai hum ramjanul mubarak allah hoqbar المبارک اور درود شریف کی یاد دہانی 💫* 🌹🌹🌹🌹🌹 ❤️❤️❤️❤️❤️ *سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود شریف بھیجے اللہ تعالی اس کے لیے ایک قیراط ثواب لکھ دیتے ہیں، اور (وہ) ایک قیراط اُحد پہاڑ جتنا ہوتا ہے. سبحان اللہ العظیم* *صلی اللہ علی محمد* *صلی اللہ علیہ والہ وسلم* *صلی اللہ علی النبی امی* 👆🏻💐*مقابلہ حسن شروع ہو چکا ہے جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن کثرت سے درود شریف اور سورۃ الکہف کی تلاوت کرنا ہرگز نہ پھولیں* *شکریہ🫀جزاک اللہ خیرا*🌹
🌻🕌🤲 दुरुद शरीफ की फजीलत🤲🕌🌻 - ِلا ٰىلَع َّوٍدَّمَحُم ٰىلَع ِّلَص َّمُهّللَا ಜ್ಲ ತಿಲಿಂಿದ ೬೦ ٌدْيِمَح َكَّنِا َمْيِهاَرْبِا ِلا ٰیلَعَو -ய ِلُا ٰیلَعَّوٍدََّحُم ٰللَع ْكِراَب َّمُهُللَآ َمْیِهاَرْبِا ٰیلَع َتْكَراَب اَمَك ٍدَّمَحُم ٌدْيِمَح َكَّنِا َمْيِهاَرْبِا ِلا ٰىلَعَو ~4 ِلا ٰىلَع َّوٍدَّمَحُم ٰىلَع ِّلَص َّمُهّللَا ಜ್ಲ ತಿಲಿಂಿದ ೬೦ ٌدْيِمَح َكَّنِا َمْيِهاَرْبِا ِلا ٰیلَعَو -ய ِلُا ٰیلَعَّوٍدََّحُم ٰللَع ْكِراَب َّمُهُللَآ َمْیِهاَرْبِا ٰیلَع َتْكَراَب اَمَك ٍدَّمَحُم ٌدْيِمَح َكَّنِا َمْيِهاَرْبِا ِلا ٰىلَعَو ~4 - ShareChat
#अल्लाहु अकबर #💖💖islamic post💖💖 #Deen ki Baten #💚__الحمدللہ.. *🎍﷽ 🎍* ┯━══◑━═━┉─○─┉━◐══┯ *●•۔ شب براءت کی حقیقت •●* *◐ پارٹ - 12 ◐* ╥────────────────────❥ *❂_پندرہویں شعبان کا روزہ ثابت نہیں_❂* ▦══────────────══▦ *❂_بعض حضرات پندرہویں شعبان کے روزہ کو سنت بتاتے ہیں، ان کو ابن ماجہ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے دھوکہ ہوا۔ یہ روایت معتبر نہیں ۔ اور روزہ کا ذکر اسی روایت میں ہے۔ یہ حدیث نمبر ۸ ہے۔ اس کے حاشیہ میں بتایا گیا ہے کہ اس میں ایک راوی ابن ابی سبرہ بہت ہی ضعیف ہے۔ اس پر حدیث وضع کرنے کا الزام ہے _,"* *(میزان الاعتدال للذہبی جلد ۴، صفحہ ۵۰۳)* *❂"_ در مختار میں ہے کہ ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی شرط یہ ہے کہ اس کا ضعف شدید نہ ہو اور وہ اصل عام کے تحت ہو اور یہ کہ اس کی سنیت پر اعتقاد نہ رکھا جائے_,"* *(درمختار مع الشامی جلد ا صفحہ ۸۷ طبع نعمانی )* *"_اور یہ حدیث تواشد ضعیف ہے، اور اس کا کوئی اور طریق بھی معلوم نہیں ۔* *❂"_ اس لئے یہ روزہ نفل کی نیت سے رکھ سکتے ہیں، سنت یا ثابت سمجھ کر نہیں۔ ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسے عمل کی نسبت ہوگی جو آپ سے ثابت نہیں ۔ اور یہ بہت خطرناک بات ہے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تم کو معلوم نہ ہو میری طرف سے حدیث بیان نہ کرو، جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بناۓ ۔ (مشکوۃ صفحہ ۳۵)* *❂_بیہقی نے شعب الایمان میں ایک راویت ذکر کی ہے۔ جس میں چودہ رکعت کی ایک نماز مذکور ہے۔ اس کے بعد ۱۴- ۱۴ مرتبہ سورۂ فاتحہ، اخلاص، معوذتین، آیت الکرسی وغیرہ پڑھنا اور پھر صبح کو روزہ رکھنا اور اس روزہ کا ثواب دو سال کے روزوں کے برابر ہوتا ہے، بیہقی نے اس کو ذکر کر کے امام احمد کا قول ذکر کیا کہ یہ حدیث موضوع معلوم ہوتی ہے اور یہ منکر ہے اس میں عثمان بن سعید جیسے لوگ مجہول ہیں۔ (جن کا کچھ پتہ نہیں )* *(شعب الایمان البیہقی، جلد 3 صفحہ ٣٨٧)* *"_ آلوسی نے بھی بیہقی کا یہ کلام ذکر کیا ہے۔ ( روح جلد ۲۵،صفحہ ۱۱۱)* *❂_شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے بھی اس حدیث کو نقل کر کے مذکورہ کلام نقل کیا اور لکھا کہ جوزقانی نے اس کو اباطیل میں نقل کیا اور ابن الجوزی نے موضوعات میں اور کہا کہ موضوع ہے (ما ثبت بالسنۃ صفحہ ۲۱۳ ،تحفه جلد ۲، صفحہ ۵۴)* *❂_ مسئلہ:- ایک مسئلہ شب برأت کے بعد والے دن یعنی پندرہویں شعبان کے روزے کا ہے اس کو بھی سمجھ لینا چاہیے، "_وہ یہ ہے کہ سارے ذخیرہ حدیث میں اس روزے کے بارے میں صرف ایک روایت میں ہے کہ شب برأت کے بعد والے دن کو روزہ رکھو, لیکن یہ روایت ضعیف ہے، لہذا اس روایت کی وجہ سے خاص پندرہویں شعبان کے روزے کو سنت یا مستحب قرار دینا بعض علماء کے نزدیک درست نہیں، البتہ پورے شعبان کے مہینے میں روزے رکھنے کی فضیلت ثابت ہے یعنی یکم شعبان سے 27 شعبان تک روزے رکھنے کی فضیلت ثابت ہے _,"* *( البلاغ، جمادی الثانی / رجب 1417 ہجری)* *_ 📝_ شب براءت کی حقیقت :- حضرت مولانا فضل الرحمٰن اعظمی _,"* ╨─────────────────────❥
#Deen ki Baten #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #💚__الحمدللہ.. *🎍﷽ 🎍* ┯━══◑━═━┉─○─┉━◐══┯ *●•۔ شب براءت کی حقیقت •●* *◐ پارٹ - 11 ◐* ╥────────────────────❥ *❂_ منکرات و بدعات _❂* ▦══────────────══▦ *❂ _(۲) حلوے کی رسم:- بعض لوگ حلوا پکانے کو ضروری سمجھتے ہیں، اس کے بغیر ان کی شب براءت ہی نہیں ہوتی, یہ بالکل بے اصل اور غلط رسم ہے۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جب ( احد میں) دندان مبارک شہید ہوا تو حلوا نوش فرمایا۔ کوئی کہتا ہے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس دن شہید ہوئے تھے, ان کی فاتحہ ہے ۔ یہ بالکل موضوع اور غلط قصہ ہے, اس کا اعتقاد رکھنا بالکل جائز نہیں ۔ بلکہ عقلاً بھی ممکن نہیں اس لئے کہ احد کا واقعہ شوال میں پیش آیا نہ کہ شعبان میں _,"* *❂ "_ (۳) مردوں کا گھر میں آنے کا عقیدہ:- بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ شب براءت میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں اور دیکھتی ہیں کہ ہمارے لئے کچھ پکا ہے یا نہیں۔ یہ بالکل بے اصل ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں ۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ شب براءت سے پہلے کوئی مرتا ہے تو جب تک شب براءت میں اس کا فاتحہ نہ ہو وہ مردوں میں شامل نہیں ہوتا ( یعنی اس کی روہ بھٹکتی رہتی ہے) ۔ یہ بھی لغو اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔* *❂_ (۴) بعض لوگ اس موقعہ پر برتنوں کا بدلنا، گھروں کو رنگ و روغن کرنا کار ثواب سمجھتے ہیں۔ (بعض جگہ پر خاص عبادت کا انتظام کیا جاتا ہے، کھانے پکائے جاتے ہیں، دعوت اڑائی جاتی ہیں، مسجدوں میں بھی رات بھر کھانے پکانے کا دور چلتا ہے، شور شرابا کیا جاتا ہے اور جو لوگ عبادت کرنے آتے ہیں ان کو اس سے پریشانی ہوتی ہے اور نہ ہی مسجد کے آداب کا لحاظ کیا جاتا ہے, یہ بھی ایک عام رواج بنتا جا رہا ہے، اس رات میں ان اعمال کا کوئی ذکر ہی نہیں بلکہ عبادت تو بغیر کسی التزام کے بھی کی جاسکتی ہے)* *_ 📝_ شب براءت کی حقیقت :- حضرت مولانا فضل الرحمٰن اعظمی _,"* ╨─────────────────────❥
#Deen ki Baten #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #💚__الحمدللہ.. *🎍﷽ 🎍* ┯━══◑━═━┉─○─┉━◐══┯ *●•۔ شب براءت کی حقیقت •●* *◐ پارٹ - 11 ◐* ╥────────────────────❥ *❂_ منکرات و بدعات _❂* ▦══────────────══▦ *❂ _(۲) حلوے کی رسم:- بعض لوگ حلوا پکانے کو ضروری سمجھتے ہیں، اس کے بغیر ان کی شب براءت ہی نہیں ہوتی, یہ بالکل بے اصل اور غلط رسم ہے۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جب ( احد میں) دندان مبارک شہید ہوا تو حلوا نوش فرمایا۔ کوئی کہتا ہے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس دن شہید ہوئے تھے, ان کی فاتحہ ہے ۔ یہ بالکل موضوع اور غلط قصہ ہے, اس کا اعتقاد رکھنا بالکل جائز نہیں ۔ بلکہ عقلاً بھی ممکن نہیں اس لئے کہ احد کا واقعہ شوال میں پیش آیا نہ کہ شعبان میں _,"* *❂ "_ (۳) مردوں کا گھر میں آنے کا عقیدہ:- بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ شب براءت میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں اور دیکھتی ہیں کہ ہمارے لئے کچھ پکا ہے یا نہیں۔ یہ بالکل بے اصل ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں ۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ شب براءت سے پہلے کوئی مرتا ہے تو جب تک شب براءت میں اس کا فاتحہ نہ ہو وہ مردوں میں شامل نہیں ہوتا ( یعنی اس کی روہ بھٹکتی رہتی ہے) ۔ یہ بھی لغو اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔* *❂_ (۴) بعض لوگ اس موقعہ پر برتنوں کا بدلنا، گھروں کو رنگ و روغن کرنا کار ثواب سمجھتے ہیں۔ (بعض جگہ پر خاص عبادت کا انتظام کیا جاتا ہے، کھانے پکائے جاتے ہیں، دعوت اڑائی جاتی ہیں، مسجدوں میں بھی رات بھر کھانے پکانے کا دور چلتا ہے، شور شرابا کیا جاتا ہے اور جو لوگ عبادت کرنے آتے ہیں ان کو اس سے پریشانی ہوتی ہے اور نہ ہی مسجد کے آداب کا لحاظ کیا جاتا ہے, یہ بھی ایک عام رواج بنتا جا رہا ہے، اس رات میں ان اعمال کا کوئی ذکر ہی نہیں بلکہ عبادت تو بغیر کسی التزام کے بھی کی جاسکتی ہے)* *_ 📝_ شب براءت کی حقیقت :- حضرت مولانا فضل الرحمٰن اعظمی _,"* ╨─────────────────────❥
*🎍﷽ 🎍* ┯━══◑━═━┉─○─┉━◐══┯ *●•۔ شب براءت کی حقیقت •●* *◐ پارٹ - 10 ◐* ╥────────────────────❥ *❂_ منکرات اور بدعات _, ❂* ▦══────────────══▦ *❂"_اس موقع پر امت میں بہت سے بے بنیاد اعتقادات #💚__الحمدللہ.. #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #Deen ki Baten اور افعال رائج ہیں جو ناجائز اور بدعت ہیں ۔ان میں سے چند یہ ہیں: -* *❂_ (۱) زیادہ روشنی کرنا اور آتشبازی کرنا:- شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ (ماثبت بالسنت میں) لکھتے ہیں۔ ایک بری بدعت جو ہندوستان کے اکثر شہروں میں رائج ہے یہ ہے کہ لوگ چراغ روشن کرتے ہیں ، اور گھروں کی دیواروں پر رکھتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ نیز جمع ہوکر آگ کے ساتھ لہو ولعب کرتے ہیں، پٹاخے پھوڑتے ہیں،* *❂_ یہ ایسی بات ہے جس کا ذکر کسی بھی معتبر کتاب میں نہیں ہے۔ اس کے متعلق کوئی حدیث ضعیف اور موضوع بھی نہیں ہے۔ اور ہندوستان کے سوا کہیں اس کا رواج نہیں۔ غالباً یہ بدعت ہندوؤں کے تہوار دیوالی سے مسلمانوں نے لی ہے۔ اس لئے کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں ہندوؤں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے بہت سی بدعتیں آ گئی ہیں ۔ (ماثبت بالسنتہ صفحہ ۲۱۵)* *❂_ حدیث میں آیا ہے کہ جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے_"۔(ابوداؤ دصفحہ ۵۵۹)* *"_اس لئے مسلمانوں کو اس سے بالکل احتراز کرنا چاہئے اس میں ایک پیسہ بھی خرچ کرنا بالکل حرام ہے۔ بچوں کے ہاتھ میں اس کے لئے جو پیسہ دیا جاۓ گا اس کا سخت گناہ ہوگا۔* *❂_بعض علماء نے کہا کہ خاص راتوں میں ( شب برأت و شب قدر) زیادہ روشنی کرنا ( مسجد ہو یا گھر ) بہت بڑی بدعت ہے، شریعت میں اس کے مستحب ہونے کی کوئی دلیل نہیں ۔* *"_غور کرنے کی بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں تو شب براءت میں بھی چراغ نہیں تھا جیسا کہ گذشتہ روایات سے ظاہر ہے۔ اور آپ کے امتی اور آپ کی محبت کا دم بھرنے والے چراغ زیادہ کرنے میں ( روشنی زیادہ کرنے میں) ثواب سمجھتے ہیں ۔ کس قدر افسوس کی بات ہے ۔* *_ 📝_ شب براءت کی حقیقت :- حضرت مولانا فضل الرحمٰن اعظمی _,"* ╨─────────────────────❥
#Deen ki Baten #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #💚__الحمدللہ.. *🎍﷽ 🎍* ┯━══◑━═━┉─○─┉━◐══┯ *●•۔ شب براءت کی حقیقت •●* *◐ پارٹ - 09 ◐* ╥────────────────────❥ *❂_شب براءت میں کوئی خاص نماز ثابت نہیں_❂* ▦══────────────══▦ *❂"_حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ذکر کی جاتی ہے جس میں سو رکعات کی ایک نماز بتائی گئی ہے ۔ ابن الجوزی وغیرہ نے اس کے موضوع ہونے کی تصریح کی ہے _,"* *( معارف السنن جلد ۵ صفحہ ۴۱۹)* *"_امام ذہبی ابن عراق اور امام سیوطی ، ملا علی قاری وغیر ہ محدثین نے اپنی کتابوں میں ایسی نمازوں کی سخت تردید کی ہے ،* *❂"_ ۔ غنیۃ الطالبین اگر چہ شیخ عبدالقادر جیلانی کی تصنیف ہے لیکن اس میں بہت سی باتیں بعد میں داخل کر دی گئی ہیں ۔ یہ بات امام ذہبی نے کہی ہے ( تقریر مولانا شبیر احمد ثانی شائع کردہ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل صفحہ ۲۷۷) اس لئے یہ کتاب بھی معتبر نہیں رہی۔* *❂"_ احادیث کے باب میں محدثین کا قول معتبر ہوتا ہے ، صوفیاء کرام اور واعظین کا نہیں، اس کی تصریح علماء حدیث نے کی ہے ۔* *❂"_ملاعلی قاری نے شب براءت کی نمازوں کے بارے میں ایک خاص فصل قائم کی ہے اور ان کو ذکر کرکے ان کا بے اصل ہونا بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ نمازیں چوتھی صدی کے بعد ایجاد ہوئی ہیں ، اور بیت المقدس سے ان کی ابتداء ہوئی ہے ۔ پھر ان کے لئے حدیثیں وضع گھڑ لی گئیں۔ ( موضوعات کبیر صفحه ۳۳۰، تذکرۃ الموضوعات للنتنی صفحه ۴۵)* *_ 📝_ شب براءت کی حقیقت :- حضرت مولانا فضل الرحمٰن اعظمی _,"* ╨─────────────────────❥
#Deen ki Baten #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #💚__الحمدللہ.. *🎍﷽ 🎍* ┯━══◑━═━┉─○─┉━◐══┯ *●•۔ شب براءت کی حقیقت •●* *◐ پارٹ - 09 ◐* ╥────────────────────❥ *❂_شب براءت میں کوئی خاص نماز ثابت نہیں_❂* ▦══────────────══▦ *❂"_حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ذکر کی جاتی ہے جس میں سو رکعات کی ایک نماز بتائی گئی ہے ۔ ابن الجوزی وغیرہ نے اس کے موضوع ہونے کی تصریح کی ہے _,"* *( معارف السنن جلد ۵ صفحہ ۴۱۹)* *"_امام ذہبی ابن عراق اور امام سیوطی ، ملا علی قاری وغیر ہ محدثین نے اپنی کتابوں میں ایسی نمازوں کی سخت تردید کی ہے ،* *❂"_ ۔ غنیۃ الطالبین اگر چہ شیخ عبدالقادر جیلانی کی تصنیف ہے لیکن اس میں بہت سی باتیں بعد میں داخل کر دی گئی ہیں ۔ یہ بات امام ذہبی نے کہی ہے ( تقریر مولانا شبیر احمد ثانی شائع کردہ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل صفحہ ۲۷۷) اس لئے یہ کتاب بھی معتبر نہیں رہی۔* *❂"_ احادیث کے باب میں محدثین کا قول معتبر ہوتا ہے ، صوفیاء کرام اور واعظین کا نہیں، اس کی تصریح علماء حدیث نے کی ہے ۔* *❂"_ملاعلی قاری نے شب براءت کی نمازوں کے بارے میں ایک خاص فصل قائم کی ہے اور ان کو ذکر کرکے ان کا بے اصل ہونا بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ نمازیں چوتھی صدی کے بعد ایجاد ہوئی ہیں ، اور بیت المقدس سے ان کی ابتداء ہوئی ہے ۔ پھر ان کے لئے حدیثیں وضع گھڑ لی گئیں۔ ( موضوعات کبیر صفحه ۳۳۰، تذکرۃ الموضوعات للنتنی صفحه ۴۵)* *_ 📝_ شب براءت کی حقیقت :- حضرت مولانا فضل الرحمٰن اعظمی _,"* ╨─────────────────────❥
#💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #Deen ki Baten #🥀پردہ بہت ضروری ہے یاد رکھو⁦❣️⁩☝️⁩ #پردہ عورت کی زینت ہے *🎍﷽ 🎍* ┯━══◑━═━┉─○─┉━◐══┯ *●•۔ شب براءت کی حقیقت •●* *◐ پارٹ - 09 ◐* ╥────────────────────❥ *❂_شب براءت میں کوئی خاص نماز ثابت نہیں_❂* ▦══────────────══▦ *❂"_حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ذکر کی جاتی ہے جس میں سو رکعات کی ایک نماز بتائی گئی ہے ۔ ابن الجوزی وغیرہ نے اس کے موضوع ہونے کی تصریح کی ہے _,"* *( معارف السنن جلد ۵ صفحہ ۴۱۹)* *"_امام ذہبی ابن عراق اور امام سیوطی ، ملا علی قاری وغیر ہ محدثین نے اپنی کتابوں میں ایسی نمازوں کی سخت تردید کی ہے ،* *❂"_ ۔ غنیۃ الطالبین اگر چہ شیخ عبدالقادر جیلانی کی تصنیف ہے لیکن اس میں بہت سی باتیں بعد میں داخل کر دی گئی ہیں ۔ یہ بات امام ذہبی نے کہی ہے ( تقریر مولانا شبیر احمد ثانی شائع کردہ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل صفحہ ۲۷۷) اس لئے یہ کتاب بھی معتبر نہیں رہی۔* *❂"_ احادیث کے باب میں محدثین کا قول معتبر ہوتا ہے ، صوفیاء کرام اور واعظین کا نہیں، اس کی تصریح علماء حدیث نے کی ہے ۔* *❂"_ملاعلی قاری نے شب براءت کی نمازوں کے بارے میں ایک خاص فصل قائم کی ہے اور ان کو ذکر کرکے ان کا بے اصل ہونا بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ نمازیں چوتھی صدی کے بعد ایجاد ہوئی ہیں ، اور بیت المقدس سے ان کی ابتداء ہوئی ہے ۔ پھر ان کے لئے حدیثیں وضع گھڑ لی گئیں۔ ( موضوعات کبیر صفحه ۳۳۰، تذکرۃ الموضوعات للنتنی صفحه ۴۵)* *_ 📝_ شب براءت کی حقیقت :- حضرت مولانا فضل الرحمٰن اعظمی _,"* ╨─────────────────────❥
*🎍﷽ 🎍* ┯━══◑━═━┉─○─┉━◐══┯ *●•۔ شب براءت کی حقیقت •●* *◐ پارٹ - 08 ◐* ╥────────────────────❥ *❂_شب براءت میں قبرستان جانا_ ❂* ▦══────────────══▦ *❂__مذکورہ روایات میں سے ایک دو روایت میں رات کو اٹھ کر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قبرستان جانا بھی مذکور ہے، یہ بات بھی شب براءت کی خصوصیات میں سے نہیں بلکہ دوسری صحیح روایات سے بھی آپ کا رات کے آخری حصہ میں قبرستان جانا ثابت ہے ۔* *❂_"_حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب بھی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے یہاں رات کو رہنے کی باری ہوتی آخر رات میں بقیع ( مدینہ کے قبرستان) جاتے اور یہ فرماتے ۔* *"_ اے مؤمنین کے قبرستان والو تم پر سلامتی ہو۔ تمہاری موت آ گئی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا تھا۔ کل ( قیامت ) کی طرف تم جا رہے ہو، ہم بھی تمہارے ساتھ انشاءاللہ مل جائیں گے ۔ یا اللہ بقیع والوں کی مغفرت فرما_,"* *(صحیح مسلم جلد ا صفحہ ۳۱۳)* *❂_"_اس روایت یا اس جیسی صحیح روایات میں شب براءت یا کسی خاص رات کو قبرستان جانے کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ جب بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رہنے کی باری ہوتی تو آپ قبرستان تشریف لے جاتے _,"* *❂_"_ حضرت برید و اسلمی فرماتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں تم کو زیارت قبور سے منع کیا کرتا تھا (لیکن اب کہتا ہوں کہ) قبروں کی زیارت کیا کرو۔ ایک حدیث میں ہے کہ اس سے موت کی یاد آتی ہے_,"* *( صحیح مسلم جلد ا صفحه ۳۱۴)* *❂_"_ اس حدیث میں دن اور رات کی بھی کوئی قید نہیں ، جب کسی کو موقع ہو قبرستان جانا چاہیے اور اپنی موت کو یاد کرنا چاہیے اور مرحومین کے لئے دعائے مغفرت و رحمت وغیر ہ کرنی چاہیے۔ لیکن صرف شب براءت میں اس عمل کو کر کے سال بھر کی فرصت نہیں سمجھ لینی چاہیے اور زیارت قبور کے لئے کسی خاص دن کی تخصیص ، (مثلاً جمعہ یا جمعرات) کی کسی حدیث سے ثابت نہیں ۔ اس لئے ایسی تخصیص کا اعتقاد نہیں رکھنا چاہیے_,"* *_ 📝_ شب براءت کی حقیقت :- حضرت مولانا فضل الرحمٰن اعظمی _,"* ╨─────────────────────❥ #🥀پردہ بہت ضروری ہے یاد رکھو⁦❣️⁩☝️⁩ #Deen ki Baten #अल्लाहु अकबर #💚__الحمدللہ.. #💖💖islamic post💖💖