Beiman
ShareChat
click to see wallet page
@sadibakhan
sadibakhan
Beiman
@sadibakhan
मुझे ShareChat पर फॉलो करें!
💫*ماہِ شعبان کے احکام و فضائل💫 شبِ برات میں کرنے والے کام، اور شبِ برات کے نام پر کی جانے والی بدعات✨* ✴️*شعبان کی وجہ تسمیہ اور لفظِ شعبان کی حقیقت:* *شعبان المعظم ہجری سال کا آٹھواں مہینہ ہے، شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ نے اپنی کتاب ـ ’’ماثبت بالسنۃ‘‘ میں حضرت انس بن مالکؓ کے حوالہ سے یہ بیان فرمایا ہے کہ روزہ دار کی نیکیوں (کے ثواب) میں درخت کی شاخوں کی طرح اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ شعبان کے مہینے میں بہت سی نیکیاں تقسیم کی جاتی ہیں، جیسے رمضان کے مہینے میں گناہ جلا دیئے جاتے ہیں، اس وجہ سے اس کو شعبان کہتے ہیں.* *شعبان کا لفظ عربی گرائمر کے اعتبار سے ’’شعب‘‘ سے بنا ہے، جس کے لفظی معنی شاخ در شاخ کے ہیں، اس مہینے میں چونکہ خیرو برکت کی شاخیں پھوٹتی ہیں، اور روزہ دار کی نیکیوں میں درخت کی شاخوں کی طرح اضافہ ہوتا ہے، اس وجہ سے اس کو شعبان کہا جاتا ہے۔* ✴️*ماہِ شعبان کی فضیلت واہمیت:* *اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کو بڑا قیمتی بنایا ہے، اس کو اپنی رحمتِ خاصہ اور برکتِ تامہ سے نوازنے کی لیے مختلف مواقع عطا فرمائے ہیں، پہلی اُمتوں کی عمریں لمبی اور جسمانی قوتیں مضبوط ہوتی تھیں، اس کے مقابلے میں اُمتِ محمدیہ کی عمریں بھی کم ہیں، اور صحت کے اعتبار سے بھی کمزور ہیں، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے طفیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو خاص انعامات اور اعزازات سے نوازا ہے کہ محنت تھوڑی اور بدلہ لا محدود، بے انتہا اجروثواب کی سعادت اس امت کو حاصل ہے۔ چونکہ شعبان کا مہینہ رمضان کا مقدمہ ہے، جیسا کہ شوال کا مہینہ رمضان کا تتمہ ہے، اسی وجہ سے اس مہینے کو خاص فضیلت حاصل ہے۔* *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:* *’’شعبان کے چاند کا شمار رکھو، رمضان کے لیے۔‘‘ (سننِ ترمذی) یعنی جب ماہِ شعبان کی تاریخ صحیح ہوگی تو رمضان میں غلطی نہیں ہوگی، چنانچہ:* *’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ کسی ماہ (کے چاند) کا اتنا خیال نہ فرماتے تھے۔‘‘ (سننِ ابوداؤد)* *ان روایتوں سے قولاً وفعلاً اس ماہ کے چاند کا اہتمام ثابت ہے۔۔* *حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ:’’ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تو پھر ناگہاں وہ بقیع میں پائے گئے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اے عائشہ! کیا تمہیں اس بات کا ڈر تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کریں گے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خیال کیا کہ شاید آپ ازواجِ مطہرات میں سے کسی کے پاس تشریف لے گئے ہوں گے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب کو آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ گنہگاروں کی بخشش فرماتے ہیں۔‘‘* *مؤرخین نے لکھا ہے کہ قبیلہ کلب کے پاس تقریباً بیس ہزار بکریاں تھیں۔* *حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (تقریباً) پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے اور فرماتے: نیک عمل اتنا ہی کیا کرو، جتنی تمہاری طاقت ہے، کیونکہ اللہ ثواب دینے سے تھکے گا نہیں، تم ہی تھک جاؤگے۔‘‘ (بخاری، ج:۲)* *حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نوّر اللہ مرقدہٗ بعض بزرگوں سے منقول خاص نوافل کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:* *’’اوراد کی بعض کتابوں میں جو پندرہویں شعبان میں خاص نوافل کی تحریر ہے، یہ کوئی قید نہیں ہے، اور جو چیز شرعاً بے قید ہو، اس کو بے قید ہی رکھو، چونکہ حدیث میں نوافل کی کوئی قید نہیں آئی، بلکہ جو عبادت آسان ہو وہ کر لو، اس میں نوافل بھی آگئے، اور وہ بھی کسی ہیئت کے بغیر۔‘‘ (حقیقتِ عبادت: ۴۶۶)* *شبِ براءت اسلام میں ایک مبارک رات ہے، جس کی فضیلت بہت سی احادیث سے ثابت ہے، بعض لوگ سرے سے اس مبارک رات کے کسی قسم کی فضیلت کے ہی قائل نہیں، جبکہ بعض لوگ اس کو شبِ قدر کے ہم پلہ سمجھتے ہیں، یہ دونوں موقف درست نہیں، بموجبِ حدیث اس رات میں بے شمار گناہ گاروں کی مغفرت اور مجرموں کی بخشش کی جاتی ہے، اور جہنم کے عذاب سے چھٹکارا ملتا ہے، اس لیے عرف میں اس کا نام شبِ براءت مشہور ہو گیا، احادیث میں اس رات کا کوئی مخصوص نام نہیں، بلکہ ’’لیلۃ النصف من شعبان‘‘ کہہ کراس کی فضیلت بیان کی گئی، (ایک سال کی) زندگی، موت، رزق کے فیصلے اسی رات میں ہو تے ہیں۔* *حضرت عائشہ صدّیقہ ؓروایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات (پندرہویں شعبان) میں کیا ہے؟ عائشہ صدّیقہ ؓنے عرض کی کہ : اے اللہ کے رسول! اس رات میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جس بچے نے اس سال میں پیدا ہونا ہوتا ہے، وہ اس رات میں لکھا جاتا ہے، اور اس سال میں جو بنی آدم ہلاک ہونے والا ہوتا ہے، اس کا نام لکھا جاتا ہے، اور اس رات میں ان کے اعمال اُٹھالیے جاتے ہیں، اور اسی رات میں ان کے رزق نازل ہوتے ہیں، پھر عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا کہ: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی بھی ایسا نہیں کہ جو اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: کوئی بھی ایسا نہیں کہ جو اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں جا سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمہ تین دفعہ ارشاد فرمایا، تو میں نے کہا کہ آپ بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جاسکیں گے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک سر پر رکھ کر فرمایا: اور میں بھی نہیں جا سکوں گا، مگر اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمہ تین دفعہ ارشاد فرمایا۔ (رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر)* ✴️*شبِ براءت میں کرنے کے کام:* *۱:- عبادت ودعا کرنا* *اکثر علماء، فقہاء اور محدثین کی رائے یہ ہے کہ شعبان کی پندرہویں رات فضیلت والی رات ہے، اس میں تنہا عبادت (نوافل، دعا وغیرہ) باعثِ خیرو برکت اور مستحب عمل ہے، اگر اس کو واجب سمجھا جائے، تو یہ بدعت بن جائے گا۔* *۲:- قبرستان جاکر دعائے مغفرت کرنا:* *آپ صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ شعبان کی رات کو خلافِ معمول زندگی میں صرف ایک بار قبرستان تشریف لے گئے، ہر سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول نہ تھا، اس وجہ سے اس کو ہر سال لازم سمجھ کر کرنا‘ دین میں اضافہ کرنا ہے* *۳:-پندرہویں شعبان کے روزے کا حکم:* *پندرہ شعبان کے دن روزہ رکھنے کا ذکر ایک ضعیف حدیث میں ملتا ہے، محدثین حضرات نے صرف ایک راوی کے قوتِ حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے اس کو ضعیف کہا ہے، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب شعبان کی 15ویں رات ہو، تو اس رات کو قیام( عبادت) میں گزارو، اور اس کے دن میں روزہ رکھو، اس لیے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی تجلی آفتاب کے غروب ہونے کے وقت سے ہی آسمانِ دنیا پر ظاہر ہوتی ہے، پس فرماتا ہے: خبردار! کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اس کو بخش دوں؟ خبردار! کوئی رزق لینے والا ہے کہ اس کو رزق دوں؟ خبردار! کوئی مصیبت زدہ ہے کہ(وہ عافیت کی دعا مانگے، اور میں) اس کو چھڑا دوں؟ خبردار! کوئی فلاں فلاں حاجت والا ہے؟ طلوعِ صبح صادق تک اللہ تعالیٰ یہی آواز دیتا رہتا ہے (رات بھر یہی رحمت کا دریا بہتا رہتا ہے)* (رواہ ابن ماجہ، وروح المعانی ) فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’المرغوبات من الصّیام أنواع: أوّلھا صوم المحرّم، والثاني صوم رجب، والثالث صوم شعبان الخ۔‘‘ (ج: ۱، ص:۱۰۳، ط: عالمگیری) *اس سے معلوم ہوا کہ پندرہ شعبان کا روزہ فقہاء کے ہاں شرعاً مطلوب اور مرغوب ہے، نیز اکابرِ امت کا اسی پر تعامل ہے، گویا کہ اسے تلقی بالقبول حاصل ہے اور حضرات محدّثین کے اصول کے مطابق ضعیف حدیث کو اگر تلقی بالقبول حاصل ہو جائے، تو وہ حدیث صحیح کے حکم میں ہو جاتی ہے، (ویسے بھی فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث کا معتبر ہونا بھی مسلّم ہے)، جیسا کہ اعلاء السنن کے مقدمہ۔۔ (ص:۳۹) پر ہے: ’’قد یحکم للحدیث بالصحۃ إذا تلقاہ الناس بالقبول وإن لم یکن لہٗ إسناد صحیح۔‘‘* *حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ، حضرت مفتی محمد شفیع ؒ، حضرت مفتی محمود گنگوہی ؒودیگر علماء کی تصریحات کے مطابق اس دن روزہ رکھنا مستحب ہے، رکھ لیا جائے تو ثواب ہے، اور نہ رکھیں تو گناہ نہیں۔* *شبِ براءت کی برکات سے محروم افراد :* *حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:* *’’شعبان کی پندرہویں رات اللہ عزوجل اپنی مخلوق کی طرف رحمت کی نظر فرماتے ہیں، سوائے دو شخصوں کے باقی سب کی مغفرت فرماتے ہیں: ۱-کینہ پرور ، ۲-دوسرے کسی کو نا حق قتل کرنے والا۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل، ج: ۲، ص:۱۷۶)* *✴️ شبِ براءت کی بدعات:* *۱:- آتش بازی:* *آتش بازی مجوسیوں کی نقل ہے، اور آگ قہرِ الٰہی کا نشان ہے، اسی وجہ سے فقہاء نے لکھا ہے کہ قبرستان میں آگ لے جانامنع ہے اور آگ کے ساتھ کھیلنا یہ اہلِ اسلام کا کام نہیں، بہر حال حدیث پاک میں آتا ہے:’’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ۔‘‘* *ترجمہ: ’’جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، وہ انہی میں سے ہوگا۔‘‘* *نیزیہ آتش بازی ہندوؤں کی مشہور تہوار دیوالی کی نقل ہے، اور اس کے علاوہ یہ آتش بازی، بم، پھلجھڑی اورپٹاخے پھوڑنا کئی گناہوں کا مجموعہ ہے:* *۱:عبادت میں مشغول لوگوں کی عبادت میں بلا وجہ دخل اندازی کا گناہ ہے۔* *۲: اہلِ محلہ اور مریضوں کو بلا وجہ ایذا پہنچانے کا گناہ ہے۔ ۳: اپنی جان کو بلاوجہ خطرے میں ڈالنے کا گناہ ہے۔* *۴: بلاوجہ اسراف کا گناہ ہے، یہ رسم نہ صرف یہ کہ ایک بے لذّت گناہ ہے، بلکہ اس کی دینی ودنیوی تباہ کاریاں بھی ہمیشہ آنکھوں کے سامنے آتی ہیں۔* *۲:-چراغاں کرنا:* *مسجدوں، بازاروں، گھروں اور خاص خاص مقامات کو سجایا جاتا ہے، قمقمے روشن کیے جاتے ہیں، لائٹ کا اضافہ کیا جاتا ہے، ضرورت سے زائدگھروں سے باہر دروازوں پر کئی کئی چراغ روشن کیے جاتے ہیں، اور بعض جگہ تو مکانوں کی چھتوں پر موم بتیاں جلائی جاتی ہیں، اور دیواروںپرقطار در قطارچراغ رکھ دئیے جاتے ہیں، یہ چراغاں اسلامی شعار نہیں، یہ سب بے جا اسراف اور فضول خرچی ہے، اس کو قرآن پاک یوں بیان کرتا ہے:* *’’اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیَاطِیْنِ‘‘ (بنی اسرائیل: ۲۷) ترجمہ: ’’بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔‘‘* *ایک اور مقام پر قرآن پاک نے اس کو یوں بیان کیا ہے:* *’’وَلَاتُسْرِفُوْا اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ‘‘ (الاعراف:۳۱)* *ترجمہ: ’’اور اسراف نہ کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘* *علی بن ابراہیمؒ نے کہا ہے کہ روشنی کی بدعت اوّل برامکہ سے شروع ہوئی جو ایک آتش پرست قوم گزری ہے، وہ قوم مسلمان توہو گئی، لیکن آتش پرستی کے اثرات پھر بھی ان کی زندگی میں نمایاں تھے، یہ لوگ اس موقع پر خاص طورسے روشنی کا اہتمام کرتے تھے، عباسی خلیفہ ہارون الرشید اور مامون الرشید کے دورِخلافت میں قومِ برامکہ کو عروج حاصل تھا، جس کی وجہ سے یہ منکرات اہلِ اسلام میں رواج پا گئیں۔* *۳:-حلوہ:* *بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دندان مبارک جب شہید ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلوہ نوش فرمایا تھا، اس کی کوئی اصل نہیں، نیزاس کا اعتقاد شرعاًجائز نہیں اور عقلاً بھی ممکن نہیں، کیونکہ دندان مبارک کی شہادت کا واقعہ شوّال کا ہے، شعبان کا نہیں۔* *۴:- مسجدوں میں اجتماع کا اہتمام:* *مبارک راتوں میں عبادت کا اہتمام اپنے گھروں میں کرنا چاہیے، بالخصوص شبِ براءت کے موقع پر، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرۂ مبارکہ میں ہی اس رات کی عبادت کی تھی، مسجد میں آپ تشریف نہیں لے گئے تھے، اب اگر اجتماع کا التزام ہو تو وہ بدعت شما رہوگا۔* *۵:-نوافل کی جماعت:* *مبارک راتیں ہوں یا عام دن، عورتوں کا گھروں میں صلوٰۃالتسبیح کی جماعت کرانااور مردوں کا مسجد میں صلوٰۃالتسبیح کی جماعت میں شریک ہونا یہ درست نہیں ہے، کیونکہ علماء عورتوںکے جماعت سے نماز پڑھنے کومنع فرماتے ہیںـ، جبکہ عندالاحناف نوافل کی جماعت نہیں۔* *۶:-قبروں پر پھول ڈالنا:* *حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒنے قبروں پر پھول اور چادریں چڑھانے کو سنت کی ضد قرار دیا ہے۔* *۷:-حضرت حمزہ ؓکی فاتحہ:* *بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت امیر حمزہؓ کی شہادت ان دنوں میں ہوئی ہے، یہ ان کی فاتحہ ہے، اس کی کوئی اصل نہیں، اوّل تو تعیُّنِ تاریخ کی ضرورت نہیں، اور دوسرا خود یہ واقعہ بھی غلط ہے، کیونکہ آپ ؓکی شہادت کا واقعہ شوال کا ہے، شعبان کا نہیں۔* *۸:-مُردوں کی روح:* *بعض لوگ اعتقادر رکھتے ہیں کہ شبِ براءت وغیرہ میں مُردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں اور دیکھتی ہیںکہ کسی نے ہمارے لیے کچھ پکایا ہے کہ نہیں؟ اس کی بھی کوئی اصل نہیں ہے۔* *۹:-شبِ براءت کی فاتحہ:* *بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جب شبِ براءت سے پہلے کوئی مر جائے تو جب تک اس کے لیے فاتحہ شبِ براءت نہ کیا جائے، وہ مُردوں میں شامل نہیں ہوتا، اور صرف اسی پر بس نہیں، بلکہ بعض جگہ پر تو رواج ہے کہ اگر تہوار سے پہلے کوئی مر جائے تو کنبہ بھر میں پہلا تہوار نہیں منایا جاتا ہے، جب کہ حدیث پاک میں مذکور ہے کہ جب مردہ مرتا ہے تو مرتے ہی اپنے جیسے لوگوں میں جاپہنچتا ہے، یہ نہیں کہ شبِ براءت تک اَٹکا رہتا ہے۔* *۱۰:-ریا وتفاخر:* *اکثر اہلِ ثروت وبرادری کے لوگ ایک دوسرے کو بطور معاوضہ لیتے اور دیتے ہیں اور نیت اس میں یہی ہوتی ہے کہ فلاں شخص نے ہمارے یہاں بھیجا ہے، اگر ہم نہ بھیجیں گے تو وہ کیا کہے گا، الغرض اس میں بھی ریا اور تفاخر ہو جاتا ہے، کیونکہ نیت میں ہی خرابی ہے۔* *۱۱:- مسور کی دال:* *بعض لوگ اس تاریخ میں مسور کی دال ضرورپکاتے ہیں، اس کی بھی کوئی اصل نہیں ہے۔* *۱۲:-برتنوںکا بدلنا:* *یہ صرف کفّار کی نقل ہے۔* *۱۳:-گھر لیپنا:* *یہ صرف کفّار کی نقل ہے۔* *۱۴:-بی بی عائشہؓ کی روٹیاں بنانا:* *اس کی بھی کوئی اصل نہیں ہے، یہ سب باتیں بے بنیاد اور غلط ہیں۔* *۱۵:-قبرستان میں رات گزارنا:* *بعض لوگ شبِ برأت میں قبرستان جانے کا بڑا اہتمام کرتے ہیں، جماعتیں اور گروہ بنا کر قبرستان جاتے ہیں، اور ساری ساری رات قبرستان کی حاضری میں صرف کر دیتے ہیں، عبادت کا موقع ہی نہیں ملتا۔* *۱۶:-محفل نعت خوانی:* *بعض لوگ شبِ براءت کو لاؤڈ اسپیکر کھول کر محفلِ نعت خوانی کا اہتمام کرتے ہیں، اور بعض لوگ لاؤڈ اسپیکر پر ساری رات قرآن مجید پڑھ کر قرآن خوانی اور شبینہ کا اہتمام کرتے ہیں، جس سے دوسروں کی عبادات، ذکر واذکار اور آرام میں خلل واقع ہوتا ہے، عبادت کے نام پر دوسروں کو اذیت اور تکلیف دینے کا سبب بنتے ہیں، جو کہ حرام ہے۔* *۱۷:-چھ رکعات کا اہتمام:* *بعض لوگ شبِ براءت کو بعد نمازِ مغرب بڑے اہتمام کے ساتھ چھ رکعتیں پڑھتے ہیں، پہلی دو رکعت درازیِ عمر کی نیت سے، دوسری دو رکعت دفعِ بلا کی نیت سے، اخیر کی دو رکعت کسی کا محتاج نہ ہونے کی نیت سے، اور ہر دو رکعت کے بعد سورۂ یاسین بھی پڑھی جاتی ہے، شریعتِ مطہرہ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں، البتہ اس رات میں جتنی چاہیں نفل نمازیں پڑھ سکتے ہیں، درازیِ عمر، وسعتِ رزق، اور آفات وبلیات سے حفاظت کی دعا وغیرہ کر سکتے ہیں، جیسا کہ عام دنوں میں کر سکتے ہیں۔ (فتاویٰ رحیمیہ)* *۱۹:ـ بیری کے پتوں سے غسل کا حکم:* *واضح رہے کہ بیر کے پتے کے پانی کو علاج اور صفائی میں مبالغہ کے طور پر بلا تعیین کسی بھی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے ، جیسا کہ بعض کتبِ حدیث میں اس کاذکرہے اور حائضہ حیض سے پاکی کے بعد اور میت کو غسل دینے اورصفائی میں مبالغہ کے خاطرپانی میں بیری کے پتے شامل کرنے کابھی ذکر آیا ہے... لیکن خاص شب برأت کوبیری کے پتے پانی میں ڈال کرثواب کی نیت سے نہانا بدعت ہے ، احکامِ شرعیہ کی کسی بھی مستند کتاب میں اس عمل کا ذکرنہیں ہے،اس لیے شب برأت میں غسل کو بیری کےپتوں کےساتھ مخصوص کرنا بالکل بےبنیاد اور من گھڑت بات ہے ، اس کے باعثِ ثواب وبرکت ہونے کے بارے میں کوئی شرعی دلیل نہیں ہے.* *۲۰:ـ نئے کپڑے پہنے کا حکم:* *اس شب میں نئے کپڑے پہننے کی کوئی روایت نظر سے نہیں گذری۔* *ربِ پروردگارِ عالم ہم سب کو شعبان کے برکات نصیب فرمائے، اور صحت وعافیت کے ساتھ رمضان المبارک کے روزے رکھنے اور دیگر عبادات کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العٰلمین!* #as salam alaikum shabe- barat Mubarak Dua🤲🤲🤲m yaad rakhiyega aap sab hme #💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #Deen ki Baten
https://youtube.com/watch?v=pUjtFVkxxkc&si=fI9UTJjehxn2rEnl #💚__الحمدللہ.. #as salam alaikum shabe- barat Mubarak Dua🤲🤲🤲m yaad rakhiyega aap sab hme #Deen ki Baten #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर
youtube-preview
#💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 #Deen ki Baten *✴️ قرآنی تحریری کورس* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *بسم اللہ الرحمن الرحیم* *دوسرا و آخری سبق: حضرت آدم علیہ السلام —* *تخلیقِ انسان، آغازِ امتحان اور دعوتِ ایمان کی بنیاد* قرآنِ مجید حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے کو محض آغازِ انسانیت کے طور پر نہیں بلکہ ہدایت، دعوتِ توحید اور انسانی ذمہ داری کے مستقل اصول کے طور پر بیان کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ ایمان، کفر، اطاعت، لغزش، توبہ، دشمنی اور ہدایت کے تمام بنیادی نکات کو ایک ہی سلسلے میں واضح کر دیتا ہے، اس سبق کا مقصد آدم علیہ السلام کو ایک نبی اور داعی کے طور پر سمجھنا ہے تاکہ انسان اپنے رب، اپنے دشمن اور اپنے راستے کو پہچان سکے۔ *﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ* *إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾** ترجمہ: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انسان کی تخلیق اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے باقاعدہ منصوبے کے تحت ہوئی، خلافت کا مطلب یہ ہے کہ انسان زمین پر اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا ذمہ دار ہے، اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دعوتِ ایمان کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ انسان اپنے منصب کو سمجھے اور اس کے مطابق عمل کرے۔ *﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾* ترجمہ: اور اللہ نے آدم کو تمام نام سکھا دیے۔ یہ علم انسان کی اصل فضیلت ہے، یہ علم محض معلومات نہیں بلکہ پہچان، شعور اور سمجھ کا علم ہے، اسی علم کی بنیاد پر انسان حق و باطل میں فرق کر سکتا ہے اور اسی لیے وہ مکلف ہے۔ *﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ﴾* ترجمہ: اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو۔ یہ سجدہ عبادت نہیں بلکہ تکریم تھا، اس سے انسان کی عزت اور ذمہ داری دونوں واضح ہوئیں، اسی موقع پر شیطان کا تکبر سامنے آیا۔ *﴿إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ﴾* ترجمہ: مگر ابلیس نے انکار کیا اور تکبر کیا۔ یہاں حق و باطل کی پہلی لکیر کھنچ گئی، شیطان کا انکار علم کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ تکبر کی وجہ سے تھا، یہی تکبر ہر دور میں دعوتِ ایمان کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ *﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾* ترجمہ: اور ہم نے فرمایا: اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو۔ آدم علیہ السلام کو واضح ہدایت کے ساتھ اختیار دیا گیا، یہ اختیار ہی امتحان کی بنیاد ہے۔ *﴿وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ﴾* ترجمہ: اور اس درخت کے قریب نہ جانا۔ ہدایت مختصر اور واضح تھی، مگر شیطان نے دھوکے سے لغزش کروائی۔ ﴿ *فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا* ﴾ ترجمہ: پھر شیطان نے ان دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا۔ یہ لغزش تھی، دانستہ نافرمانی نہیں، اور یہی فرق ایمان اور کفر کے راستے الگ کرتا ہے۔ *﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا﴾* ترجمہ: دونوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ یہ انسانیت کی پہلی توبہ ہے، اعتراف، عاجزی اور رجوع کا کامل نمونہ۔ *﴿فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ﴾* ترجمہ: پھر آدم نے اپنے رب سے کلمات سیکھ لیے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہاں واضح ہو گیا کہ اللہ کی طرف پلٹنا نجات کا راستہ ہے۔ *﴿قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا﴾* ترجمہ: ہم نے فرمایا: تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ زمین پر نزول سزا نہیں بلکہ امتحان اور ذمہ داری کا آغاز تھا۔ *﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى﴾* ترجمہ: پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے۔ *﴿فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾* ترجمہ: تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم۔ ہدایت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا گیا، یہی دعوتِ ایمان کی اصل بنیاد ہے۔ اسی مقام پر شیطان اپنے مشن کا اعلان کرتا ہے۔ *﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ* ﴾** ترجمہ: اس نے کہا: تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو ضرور بہکاؤں گا۔ *﴿إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾* ترجمہ: سوائے تیرے ان بندوں کے جو خالص ہیں۔ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ *﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ* ﴾ ترجمہ: بے شک میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار حاصل نہ ہوگا۔ یہ اعلان بتاتا ہے کہ شیطان کا زور وہاں ختم ہو جاتا ہے جہاں رب کی پہچان اور اخلاص آ جاتا ہے، یہی دعوتِ ایمان کا مقصد ہے کہ انسان کو اس کے رب سے جوڑا جائے۔ *خلاصہ* قرآنِ مجید بتاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے ارادے، علم اور حکمت کے تحت ہوئی، فرشتوں کے سامنے انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا اور آدم علیہ السلام کو علم عطا کر کے ان کی فضیلت واضح کی گئی، اس مرحلے پر ہی واضح کر دیا گیا کہ انسان محض جسم نہیں بلکہ علم، شعور اور ذمہ داری کا حامل ہے، اور اس کی اصل پہچان اس کے رب سے تعلق میں ہے۔ پھر آدم علیہ السلام کو جنت میں بسایا گیا، واضح ہدایت دی گئی اور ساتھ ہی اختیار بھی دیا گیا، یہاں شیطان کی دشمنی کھل کر سامنے آئی جس نے تکبر کی بنیاد پر انسان سے عداوت اختیار کی، اس دشمنی کا پہلا وار آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ پر ہوا، مگر یہ کوئی سرکشی یا دانستہ نافرمانی نہیں تھی بلکہ ایک لغزش تھی، جس کے فوراً بعد آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا، توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما لیا، یوں یہ اصول قائم ہو گیا کہ انسان کی عظمت لغزش نہ کرنے میں نہیں بلکہ لغزش کے بعد رب کی طرف پلٹ آنے میں ہے۔ اس کے بعد زمین پر نزول کا مرحلہ آیا جو سزا نہیں بلکہ آزمائش اور ذمہ داری کا آغاز تھا، اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ انسان کو ہدایت دی جاتی رہے گی اور جو اس ہدایت کو تھام لے گا وہ خوف اور غم سے محفوظ رہے گا، جبکہ جو حق واضح ہونے کے بعد جھٹلائے گا وہ خود اپنے انجام کا ذمہ دار ہوگا، اسی مقام پر شیطان نے کھلے لفظوں میں اعلان کیا کہ وہ انسان کو حق سے بھٹکانے کی پوری کوشش کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ سنا دیا کہ شیطان کا کوئی زور خالص بندوں پر نہیں چلے گا۔ یوں حضرت آدم علیہ السلام کا پورا واقعہ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اصل معرکہ علم و جہالت کا نہیں بلکہ اخلاص و تکبر کا ہے، ہدایت اور گمراہی زبردستی نہیں بلکہ انتخاب کا نتیجہ ہیں، اور نجات کا راستہ رب کی پہچان، توحید کے شعور اور اس کی بندگی میں ہے، یہی پیغام ہر نبی لے کر آیا اور یہی دعوتِ ایمان آج اس امت کی ذمہ داری ہے کہ انسان کو اس کے رب سے جوڑا جائے تاکہ وہ حق کو پہچان کر باطل سے خود محفوظ ہو سکے۔ *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں* #अल्लाहु अकबर #💖💖islamic post💖💖 #💚__الحمدللہ..
💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 - ShareChat
محبین دارالعلوم دیوبند✅ MUHIBBEEN DARUL ULOOM DEOBAND: https://whatsapp.com/channel/0029VakMzHlHgZWW00L8hY3j/8728 *گزشتہ سبق کے لیے👆🏻 کلک کریں* *جائزہ و غور و فکر کے سوالات* — *سبق اول* *(حضرت آدم علیہ السلام)* *1۔ لغزش اور انسان کی ذمہ داری* حضرت آدم علیہ السلام کی بھول ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہر انسان کو فطرتاً خطا کا سامنا ہوتا ہے، لیکن خطا کے بعد کیا میں اپنی ذمہ داری سمجھ کر فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں؟ *2۔ وسوسوں اور فریب سے بچاؤ* شیطان نے وسوسے کے ذریعے آدم علیہ السلام کو بھول کی طرف مائل کیا۔ کیا میں اپنے دل میں آنے والے وسوسوں اور نفسانی خواہشات کو پہچان کر اللہ کے حکم کے مطابق رہنے کی عملی کوشش کرتا ہوں؟ *3۔ عاجزی اور اعتراف کی قوت* آدم علیہ السلام نے اپنی بھول تسلیم کی اور اللہ سے مدد طلب کی۔ کیا میں بھی اپنی غلطیوں کو چھپانے یا دوسروں پر ڈالنے کی بجائے عاجزی اور سچائی کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہوتا ہوں؟ *4۔ اللہ کی رحمت اور امید پر پختہ یقین* اللہ نے آدم علیہ السلام کی بھول کے باوجود توبہ قبول کی۔ کیا میں ہر حال میں اللہ کی رحمت اور بخشش پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور مایوسی کی طرف نہیں جھکتا؟ *5۔ زندگی کو امتحان سمجھنا اور سنجیدہ رویہ* زمین پر بھیجنا سزا نہیں بلکہ امتحان تھا۔ کیا میں اپنی زندگی کے حالات کو اللہ کی آزمائش اور رہنمائی کے موقع کے طور پر دیکھ کر ہر عمل میں سنجیدہ رہتا ہوں؟ *6۔ ہدایت کی پیروی اور نجات* اللہ نے فرمایا جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس پر نہ خوف ہوگا نہ غم۔ کیا میں واقعی اپنی زندگی کے ہر فیصلہ میں اللہ کی ہدایت کو اپنا معیار بناتا ہوں؟ *7۔ توحید اور بندگی کا شعور* لغزش کے بعد بھی آدم علیہ السلام نے اللہ کی ذات اور اس کی فرمانبرداری کو برقرار رکھا۔ کیا میں اپنی زندگی میں توحید اور بندگی کو مکمل اور عملی طور پر اپنانے کے لیے تیار ہوں؟ *8۔ دل کی اصلاح اور عملی استقامت* لغزش کے بعد رجوع اور توبہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ دل کی اصلاح انسان کی اصل طاقت ہے۔ کیا میں اپنی زندگی میں دل کی اصلاح اور عملی استقامت کے لیے مستقل کوشش کر رہا ہوں؟ *9۔ شعوری انتخاب اور عمل کا معیار* زمین پر زندگی کے ہر عمل کے لیے انسان جوابدہ ہے۔ کیا میں اپنے ہر عمل میں شعوری طور پر اللہ کی رضا اور اس کے معیار کے مطابق عمل کرتا ہوں؟ *10۔ توبہ اور رجوع کا مستقل طریقہ* آدم علیہ السلام کی بھول کے بعد رجوع ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ توبہ مستقل عمل ہے، نہ کہ ایک وقتی احساس۔ کیا میں بھی اپنی زندگی میں ہر لغزش کے بعد اسی طرح اللہ کی طرف پلٹنے کا طریقہ اپناتا ہوں؟ *11۔ ایمان اور عمل میں استقامت* لغزش کے بعد عمل اور رجوع ایمان کو مضبوط کرتے ہیں۔ کیا میں اپنے دل اور عمل میں استقامت پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتا ہوں؟ *12۔ غور و فکر اور قلبی مضبوطی* یہ سبق ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ غلطی انسان کی فطرت ہے، لیکن رجوع، توبہ اور اللہ کی ہدایت پر عمل ایمان کو مضبوط اور قلبی طور پر پختہ کرتا ہے۔ کیا میں اپنے دل میں یہ عہد کرتا ہوں کہ لغزش کے بعد بھی اللہ کی طرف پلٹنا اور اس کی ہدایت پر عمل کرنا میرا مستقل معیار ہوگا؟
Channel • 24K followers
*شب برات میں شیعہ کی خباثت* *سوال* :-شب برات میں حلوہ پکانے اور آتش بازی کا شریعت میں کوئی ثبوت ہے؟بیّنو اتوجروا۔ *الجواب باسم ملھم الصواب* اس رات کا نام *شب برات* کسی حدیث سے ثابت نہیں، اس شب میں استغفار و توبہ اور مغفرت اور عذاب جہنم سے نجات کے بارے میں ضعیف روایات ہیں؛ شاید اسی وجہ سے اس کا نام *شب برات* مشہور ہو گیا ہو، *براءت بمعنی نجات*۔ بعض کا خیال ہے کہ نام شیعہ نے رکھا ہے، وہ اس میں حضرات صحابہ کرامؓ پر تبراء کرتے ہیں، اس لیے اسے شب برات کہتے ہیں یعنی *تبرّاءکی رات* مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے تبراء کی جگہ اس کا ہم معنی لفظ *براءت* لگا کر مسلمانوں میں پھیلا دیا۔ یہ خیال کچھ بعید نہیں بلکہ قرینِ قیاس ہے، اس لیے کی حقیقت کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ شیعہ نے بذریعہ تقیہ اور مکروفریب اپنے مذہب کے بہت سے عقائد مسلمانوں کی قلوب کی گہرائیوں میں اس طرح اتار دیے ہیں اور راسخ کر دیے ہیں کہ مسلمان ان کو بلاشبہ عقائد اسلام سمجھ رہے ہیں اور بے شمار باتیں نہایت مکاری و عیاری سے مسلمانوں میں اس طرح عام پھیلا دی ہے کہ ان کو اس کا کوئی شعور نہیں،ان میں سے صرف چند مثالیں رسالہ *منکرات محرم* میں ہیں۔ شیعہ کا خیال ہے کہ نصف شعبان کی شب میں ان کے امام مہدی کی ولادت ہوئی ہے اور اس لیے وہ اس رات اور دن کو بہت مبارک سمجھتے ہیں، *ولادت امام* کی خوشی میں *حلوہ خوری اور آتش بازی* کرتے ہیں،پٹاخے چھوڑتے ہیں اور امام مہدی کے خلیفہ سوم *حسین بن رَوح* کے نام پرچوں میں اپنی حاجات لکھ کر کنویں میں یا دریا میں ڈالتے ہیں تاکہ وہ ان کی درخواستیں امام مہدی کے ہاں پیش کرے۔ نصف شعبان کے بارے میں ان کا یہ عقیدہ و عمل بہت مشہور اور شیعہ کی کتابوں میں مذکور ہے، جن میں سے ایک کتاب *تحفۃ العوام* اس زمانے میں بہت مشہور و مقبول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ *ولادت مہدی* کا خیال ہی سرے سے باطل اور ان کا *من گھڑت* فسانہ ہے،چہ جائیکہ اس کی نصف شعبان کی طرف نسبت،مذہب شیعہ میں تیسرے امام *حسین* کے سوا ہر امام کا امامِ سابق کی اولاد میں ہونا ضروری ہے،اور *اصول کافی* وغیرہ کی تصریح کے مطابق *گیارھواں امام حسن عسکری لاولد تھا*،حکومت نے پوری تقسیم اور مکمل تحقیق کے بعد اس کو لاوارث قرار دے کر اس کے بھائی کو میراث دلائی۔ شیعہ کو اپنے اس عقیدہ کے مطابق *حسن عسکری* کی اولاد سے بارہواں امام ثابت کرنے کی مشکل پیش آئی تو اس کو حل کرنے کے لیے یہ افسانہ گھڑا کہ حسن عسکری کے انتقال سے چار یا پانچ سال پہلے اس کے گھر امام مہدی پیدا ہوا جو عوام کو نظر نہیں آتا تھا اور حسن عسکری کے انتقال سے *دس روز پہلے صرف چار پانچ سال کا یہ بچہ چالیس سال ہاتھ لمبا اور اونٹ کی ران جتنا موٹا قرآن اور تمام انبیاء سابقین علیہم السلام پر نازل شدہ کتابیں اوروہ سارا سامان جوہر امام کے پاس رہتا تھاسب اٹھا کر *غار سر من رایٰ میں غائب ہو گیا* یہ پوری تفصیل اصول کافی میں کئی مختلف ابواب میں ہے۔ بزعمِ شیعہ مہدی کی غیبتِ صغریٰ کی ابتداء غیبت کبریٰ تک اس کے چار نائب علی الترتیب گزرے ہیں جن کو مہدی کے مقام رہائش کا علم تھا: 🔸1:- *ابو عمر عثمان بن سعید* 🔸2:- *محمد بن عثمان بن سعید* 🔸3:- *حسین بن روح* 🔸4:- *علی بن محمد* *حاجت براری کے لیے پہلے دو کو غالباً اس لیے پسند نہیں کیا کہ اول کا نام عثمان ہے اور اس نے اپنے ایک بیٹے کا نام عمر رکھا۔* دوسرے غائب کو اس لیے چھوڑا کے نائب اول *عثمان* کا بیٹا ہے۔ شیعہ ولادتِ مہدی کی خوشی میں اس رات حلوہ خوری کرتے ہیں ۔ *مسلمانوں کو یوں دھوکا دیا:-* " *اس تاریخ میں حضور اکرمﷺ کا دانت مبارک شہید ہوا تھا اس لئے حلوا کھاؤ "* حالانکہ وہ غزوہ احد کا واقعہ ہے جو شوال میں ہوا ہے، *پھر یہ بھی عجیب عشق ہے :* *محبوب ﷺکا دانت شہید ہوا تم حلوا کھاؤ* ؂ہم فراق یار میں گُھل گُھل کے ہاتھی ہو گئے اتنے گھُلے اتنے گھُلے رُستم کے ساتھی ہو گئے *واللہ العاصم من جمیع الفتن* 12 شعبان 1411ھجری ‏ **احسن الفتاویٰ جلد: 8* *باب ردالبدعات* *مفتی اعظم مفتی رشیدؒ* #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #Deen ki Baten #💚__الحمدللہ..
خدیجہ العمودی نے شرح المنہاج کی 10 ضخیم جلدیں لکھیں، اور بڑی عاجزی سے کہتی ہیں: ”جو کوئی میرے نقل کردہ نسخے میں کچھ کمی یا کجی پائے، تو مجھے معاف رکھے، میں نے اسے اس حالت میں لکھا کہ میں اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی“ (تاج الأعراس 2/563) اور مریم عبدالقادر نے جُوہری کی الصحاح 6 جلدوں میں نقل کیں، اور اپنے بارے میں یوں بیان کرتی ہیں: ”جسے میرے نسخے میں کوئی غلطی ملے، وہ میری اس کوتاہی سے درگزر کرے، کیونکہ جب میرا دایاں ہاتھ لکھنے میں مصروف ہوتا تھا، اس وقت میں بائیں ہاتھ سے اپنے لختِ جگر کا جھولا، جھولا رہی ہوتی تھی۔ اور شاعر نے انہی جیسی خواتین کی عظمت یوں بیان کی ہے: اگر عورتیں ویسی ہی ہوتیں جیسی ہم نے اپنے وقت میں دیکھی ہیں، تو عورتیں یقیناً مردوں سے بڑھ کر ہوتیں، سورج کا مؤنث ہونا اس کی شان کو کم نہیں کرتا، اور نہ ہی ہلال کا مذکر ہونا کوئی فخر کا باعث ہے، ولو أنّ الِّنساء كمن عرفنا لفُضِّلت النِّساءُ على الرِّجال فما التأنيث لاسم الشَّمس عيبٌ ولا التَّذكير فخر للهلال #💚__الحمدللہ.. #Deen ki Baten #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर
💚__الحمدللہ.. - ShareChat
https://whatsapp.com/channel/0029VakMzHlHgZWW00L8hY3j/8728 *گزشتہ سبق کے لیے👆🏻 کلک کریں* *جائزہ و غور و فکر کے سوالات* — *سبق اول* *(حضرت آدم علیہ السلام)* *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں* #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #Deen ki Baten *1۔ لغزش اور انسان کی ذمہ داری* حضرت آدم علیہ السلام کی بھول ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہر انسان کو فطرتاً خطا کا سامنا ہوتا ہے، لیکن خطا کے بعد کیا میں اپنی ذمہ داری سمجھ کر فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں؟ *2۔ وسوسوں اور فریب سے بچاؤ* شیطان نے وسوسے کے ذریعے آدم علیہ السلام کو بھول کی طرف مائل کیا۔ کیا میں اپنے دل میں آنے والے وسوسوں اور نفسانی خواہشات کو پہچان کر اللہ کے حکم کے مطابق رہنے کی عملی کوشش کرتا ہوں؟ *3۔ عاجزی اور اعتراف کی قوت* آدم علیہ السلام نے اپنی بھول تسلیم کی اور اللہ سے مدد طلب کی۔ کیا میں بھی اپنی غلطیوں کو چھپانے یا دوسروں پر ڈالنے کی بجائے عاجزی اور سچائی کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہوتا ہوں؟ *4۔ اللہ کی رحمت اور امید پر پختہ یقین* اللہ نے آدم علیہ السلام کی بھول کے باوجود توبہ قبول کی۔ کیا میں ہر حال میں اللہ کی رحمت اور بخشش پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور مایوسی کی طرف نہیں جھکتا؟ *5۔ زندگی کو امتحان سمجھنا اور سنجیدہ رویہ* زمین پر بھیجنا سزا نہیں بلکہ امتحان تھا۔ کیا میں اپنی زندگی کے حالات کو اللہ کی آزمائش اور رہنمائی کے موقع کے طور پر دیکھ کر ہر عمل میں سنجیدہ رہتا ہوں؟ *6۔ ہدایت کی پیروی اور نجات* اللہ نے فرمایا جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس پر نہ خوف ہوگا نہ غم۔ کیا میں واقعی اپنی زندگی کے ہر فیصلہ میں اللہ کی ہدایت کو اپنا معیار بناتا ہوں؟ *7۔ توحید اور بندگی کا شعور* لغزش کے بعد بھی آدم علیہ السلام نے اللہ کی ذات اور اس کی فرمانبرداری کو برقرار رکھا۔ کیا میں اپنی زندگی میں توحید اور بندگی کو مکمل اور عملی طور پر اپنانے کے لیے تیار ہوں؟ *8۔ دل کی اصلاح اور عملی استقامت* لغزش کے بعد رجوع اور توبہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ دل کی اصلاح انسان کی اصل طاقت ہے۔ کیا میں اپنی زندگی میں دل کی اصلاح اور عملی استقامت کے لیے مستقل کوشش کر رہا ہوں؟ *9۔ شعوری انتخاب اور عمل کا معیار* زمین پر زندگی کے ہر عمل کے لیے انسان جوابدہ ہے۔ کیا میں اپنے ہر عمل میں شعوری طور پر اللہ کی رضا اور اس کے معیار کے مطابق عمل کرتا ہوں؟ *10۔ توبہ اور رجوع کا مستقل طریقہ* آدم علیہ السلام کی بھول کے بعد رجوع ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ توبہ مستقل عمل ہے، نہ کہ ایک وقتی احساس۔ کیا میں بھی اپنی زندگی میں ہر لغزش کے بعد اسی طرح اللہ کی طرف پلٹنے کا طریقہ اپناتا ہوں؟ *11۔ ایمان اور عمل میں استقامت* لغزش کے بعد عمل اور رجوع ایمان کو مضبوط کرتے ہیں۔ کیا میں اپنے دل اور عمل میں استقامت پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتا ہوں؟ *12۔ غور و فکر اور قلبی مضبوطی* یہ سبق ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ غلطی انسان کی فطرت ہے، لیکن رجوع، توبہ اور اللہ کی ہدایت پر عمل ایمان کو مضبوط اور قلبی طور پر پختہ کرتا ہے۔ کیا میں اپنے دل میں یہ عہد کرتا ہوں کہ لغزش کے بعد بھی اللہ کی طرف پلٹنا اور اس کی ہدایت پر عمل کرنا میرا مستقل معیار ہوگا؟ #💚__الحمدللہ..
💖💖islamic post💖💖 - ShareChat
محبین دارالعلوم دیوبند✅ MUHIBBEEN DARUL ULOOM DEOBAND: https://whatsapp.com/channel/0029VakMzHlHgZWW00L8hY3j/8715 *بسم اللہ الرحمن الرحیم* *✴️ قرآنی تحریری کورس* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *دن اوّل* *سبق: حضرت آدم علیہ السلام*— *تخلیقِ انسان، خلافتِ ارضی اور توحید کی بنیاد* اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا اعلان خود فرمایا تاکہ انسان ابتدا ہی میں جان لے کہ وہ بے مقصد نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے ساتھ زمین پر بھیجا گیا ہے، یہ اعلان ہر انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ *﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾* ترجمہ: اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ یہ آیت انسان سے پہلا بنیادی سوال کرتی ہے کہ اگر میں اللہ کا خلیفہ ہوں تو کیا میری زندگی بھی اللہ کے حکم کے تابع ہے یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف وجود نہیں دیا بلکہ علم عطا کر کے اس کی اصل فضیلت واضح فرما دی۔ *﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾* ترجمہ: اور اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیے۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ علم کو غرور نہیں بلکہ اللہ کی پہچان اور اطاعت کا ذریعہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے انسان کے علم کو ظاہر فرمایا تاکہ واضح ہو جائے کہ انسان کی عزت اللہ کی عطا سے ہے۔ *﴿قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ﴾* ترجمہ: اللہ نے فرمایا اے آدم! انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ یہ آیت انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ جو کچھ اسے ملا ہے وہ اللہ کی طرف سے امانت ہے۔ فرشتوں نے اپنی کم علمی کا اعتراف کیا، یہ اطاعت اور عاجزی کی اعلیٰ مثال ہے۔ *﴿قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا﴾* ترجمہ: انہوں نے کہا تو پاک ہے، ہمیں کوئی علم نہیں مگر وہ جو تو نے ہمیں سکھایا۔ یہ آیت انسان کو سکھاتی ہے کہ اصل علم وہی ہے جو انسان کو اللہ کے سامنے جھکا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدے کا حکم دیا تاکہ اطاعت اور انکار کا فرق نمایاں ہو جائے۔ *﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ﴾* ترجمہ: اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ فرشتوں نے فوراً حکم مان لیا مگر ابلیس نے تکبر کیا۔ *﴿فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ﴾* ترجمہ: پس سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا اور تکبر کیا۔ یہ آیت انسان کو خبردار کرتی ہے کہ تکبر انسان کو بندگی سے نکال دیتا ہے۔ ابلیس نے اپنے انکار کی وجہ خود بیان کی تاکہ انسان ہمیشہ اس فریب کو پہچانتا رہے۔ *﴿قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ﴾* ترجمہ: اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ نسل، قوم، عقل یا برتری کی بنیاد پر حق کو رد نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ تکبر ایمان کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ *﴿فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ﴾* ترجمہ: فرمایا نکل جا، تو ذلیل لوگوں میں سے ہے۔ یہ آیت انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ کے ہاں عزت اطاعت میں ہے، انا میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جنت میں رہائش عطا فرمائی، یہ اللہ کی نعمت اور رحمت کا اظہار ہے۔ *﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾* ترجمہ: اور ہم نے کہا اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانے اور شکر کے ساتھ اطاعت اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ نے آزادی کے ساتھ حد بھی مقرر فرما دی تاکہ انسان امتحان کو سمجھے۔ *﴿وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ﴾* ترجمہ: اور اس درخت کے قریب نہ جانا۔ یہ آیت انسان کو سکھاتی ہے کہ حقیقی آزادی اللہ کی حدود کے اندر ہے۔ *غور و فکر (دن اوّل)* میں کس کا خلیفہ ہوں میرا علم مجھے اللہ کے قریب کر رہا ہے یا دور کیا میری انا مجھے حق قبول کرنے سے روکتی ہے کیا میں اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار بندہ ہوں *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*
Channel • 24K followers
#juma mubarak #juma mubarak #Deen ki Baten #अल्लाहु अकबर #💖💖islamic post💖💖 المبارک اور درود شریف کی یاد دہانی 💫* 🌹🌹🌹🌹🌹 ❤️❤️❤️❤️❤️ *حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک س مرتبہ درود شریف پڑھے گا وہ قیامت کے دن اس حال میں ائے گا کہ اس کے چہرے پر ایک خاص نور ہوگا لوگ اس نور کو دیکھ کر پوچھیں گے کہ یہ شخص کیا عمل کرتا تھا"* *سبحان اللہ العظیم*💓 *صلی اللہ علی محمد* *صلی اللہ علیہ والہ وسلم* *صلی اللہ علی النبی امی* 👆🏻💐*مقابلہ حسن شروع ہو چکا ہے جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن کثرت سے درود شریف اور سورۃ الکہف کی تلاوت کرنا ہرگز نہ پھولیں* *شکریہ🫀جزاک اللہ خیرا*🌹
juma mubarak - 25 ~e அ ذنج ل علقبهألا రపౌురకు نیهارنالاىلبعف فربا یَّت ಉಝಂರ) அப்ட்மு அடய UbCt మగ ೩ಃಶತಹತಂೂ] మనము 25 ~e அ ذنج ل علقبهألا రపౌురకు نیهارنالاىلبعف فربا یَّت ಉಝಂರ) அப்ட்மு அடய UbCt మగ ೩ಃಶತಹತಂೂ] మనము - ShareChat
#🕋🌹☪️آؤ علم دین حاصل کرے☪️🌹🕋 #💖💖islamic post💖💖 #Deen ki Baten #अल्लाहु अकबर *🎍﷽ 🎍* ┯━══◑━═━┉─○─┉━◐══┯ *●•۔ شب براءت کی حقیقت •●* *◐ پارٹ - 14 ◐* ╥────────────────────❥ *❂_خلاصہ _ ❂* ▦══────────────══▦ *❂_حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا- اے ابوذر ! جب تم مہینے کے تین روزے رکھوں تو تیرہویں چودھویں پندرہویں کے روزے رکھا کرو _," ( جامع ترمذی )* *❂__ پندرھویں شعبان کے روزے کی حدیث بہت ضعیف ہے لیکن علماء صلحاء کا قدیم ایام سے اور ہندوستان ہی نہیں بلکہ باہر بھی یہی مامول ہے کہ پندرھویں شعبان کی شب میں عبادت کرتے ہیں اور دن کو روزہ رکھتے ہیں، اس رات کی عبادت کے متعلق تو متعدد روایات ہیں لیکن روزہ کے متعلق صرف ایک حدیث ہے، اس لئے پندرھویں کے ساتھ اگر تیرہویں اور چودہویں کا روزہ بھی رکھ لیا جائے تو یہ ایام بیض کے روزے ہوجائیں گے _", ( فقہل عبادات -349)* *❂__ سند کے اعتبار سے پندرھویں شعبان کا روزہ کی روایت ضعیف ہے فضائل اعمال میں ضعیف حدیث سے استدلال درست ہے، پس اس روزہ کو بدعت کہنا درست نہیں جب کہ اس کے متعلق حدیث شریف موجود ہیں _" ( فتاوی محمودیہ - 10/204)* *❂__ پندرھویں شعبان کا روزہ مستحب ہے اگر کوئی رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کچھ حرج نہیں _", (فتاوی دارالعلوم دیوبند - 6/309)* *❂__خلاصہ یہ ہے کہ محدثین کا مشہور قاعدہ ہے کہ ضعیف حدیث سے سنت نہیں تو استحباب ثابت ہونے کے لیے کافی ہے, لہذا جو لوگ شعبان میں کثرت سے روزے نہ رکھ سکتے ہوں وہ مستحب سمجھ کر صرف پندرھویں شعبان کا روزہ بھی رکھ سکتے ہیں _,"* *"_ واللہ اعلم _,"* ╨─────────────────────❥
#قرآن کریم #, اردو ترجمہ #Deen ki Baten #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #🕋🌹☪️آؤ علم دین حاصل کرے☪️🌹🕋 *✴️ قرآنی تحریری کورس* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *دن اوّل* *سبق: حضرت آدم علیہ السلام*— *تخلیقِ انسان، خلافتِ ارضی اور توحید کی بنیاد* اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا اعلان خود فرمایا تاکہ انسان ابتدا ہی میں جان لے کہ وہ بے مقصد نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے ساتھ زمین پر بھیجا گیا ہے، یہ اعلان ہر انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ *﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾* ترجمہ: اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ یہ آیت انسان سے پہلا بنیادی سوال کرتی ہے کہ اگر میں اللہ کا خلیفہ ہوں تو کیا میری زندگی بھی اللہ کے حکم کے تابع ہے یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف وجود نہیں دیا بلکہ علم عطا کر کے اس کی اصل فضیلت واضح فرما دی۔ *﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾* ترجمہ: اور اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیے۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ علم کو غرور نہیں بلکہ اللہ کی پہچان اور اطاعت کا ذریعہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے انسان کے علم کو ظاہر فرمایا تاکہ واضح ہو جائے کہ انسان کی عزت اللہ کی عطا سے ہے۔ *﴿قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ﴾* ترجمہ: اللہ نے فرمایا اے آدم! انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ یہ آیت انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ جو کچھ اسے ملا ہے وہ اللہ کی طرف سے امانت ہے۔ فرشتوں نے اپنی کم علمی کا اعتراف کیا، یہ اطاعت اور عاجزی کی اعلیٰ مثال ہے۔ *﴿قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا﴾* ترجمہ: انہوں نے کہا تو پاک ہے، ہمیں کوئی علم نہیں مگر وہ جو تو نے ہمیں سکھایا۔ یہ آیت انسان کو سکھاتی ہے کہ اصل علم وہی ہے جو انسان کو اللہ کے سامنے جھکا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدے کا حکم دیا تاکہ اطاعت اور انکار کا فرق نمایاں ہو جائے۔ *﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ﴾* ترجمہ: اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ فرشتوں نے فوراً حکم مان لیا مگر ابلیس نے تکبر کیا۔ *﴿فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ﴾* ترجمہ: پس سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا اور تکبر کیا۔ یہ آیت انسان کو خبردار کرتی ہے کہ تکبر انسان کو بندگی سے نکال دیتا ہے۔ ابلیس نے اپنے انکار کی وجہ خود بیان کی تاکہ انسان ہمیشہ اس فریب کو پہچانتا رہے۔ *﴿قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ﴾* ترجمہ: اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ نسل، قوم، عقل یا برتری کی بنیاد پر حق کو رد نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ تکبر ایمان کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ *﴿فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ﴾* ترجمہ: فرمایا نکل جا، تو ذلیل لوگوں میں سے ہے۔ یہ آیت انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ کے ہاں عزت اطاعت میں ہے، انا میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جنت میں رہائش عطا فرمائی، یہ اللہ کی نعمت اور رحمت کا اظہار ہے۔ *﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾* ترجمہ: اور ہم نے کہا اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانے اور شکر کے ساتھ اطاعت اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ نے آزادی کے ساتھ حد بھی مقرر فرما دی تاکہ انسان امتحان کو سمجھے۔ *﴿وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ﴾* ترجمہ: اور اس درخت کے قریب نہ جانا۔ یہ آیت انسان کو سکھاتی ہے کہ حقیقی آزادی اللہ کی حدود کے اندر ہے۔ *غور و فکر (دن اوّل)* میں کس کا خلیفہ ہوں میرا علم مجھے اللہ کے قریب کر رہا ہے یا دور کیا میری انا مجھے حق قبول کرنے سے روکتی ہے کیا میں اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار بندہ ہوں *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*
*غزہ* 💔🥺🇵🇸 *پنجرے کے پیچھے مار پیٹ تشدد ہر گزرتا دن ایک سال کے برابر ہے ان کی اس تکلیف پر ہمارا خاموش رہنا ظالموں کے ساتھ* *شراکت داری کے مترادف ہے* *کون پسند کرتا ہے روز حشر وہ* *یہـودیوں کے ساتھ اٹھایا جائے۔؟* *اے قوم مسلم تو کتنی بے حس ہو گئی، اپنے عیش وعشرت میں ڈوب کر غزہ کو بھول گیا.. اے ایمان والوں! تمہیں غزہ کو یاد رکھنا ہوگا، اپنی گردنوں کو جہنّم سے چھڑانے کے لیے* *اے ہمارے پروردگار! ہمارے دلوں میں صبر ڈال دیجئے، ہمارے قدم جمائے رکھ اور ظالم کافروں کے مقابل ہماری مدد فرما، يا اللہ! ہمیں اہلِ شام میں شامل فرما 🇵🇸🤲🏻😔* #فلسطین کے مسلمانوں کی مدد فرما #Palestine support karo #freepalestine🇵🇸 #palestine #masjide_aqsa#qiblaeawwal# #Pray For Palestine🇵🇸
فلسطین کے مسلمانوں کی مدد فرما - ShareChat