INSTALL
@sadibakhan
Beiman
@sadibakhan
13,570
फॉलोअर्स
2
फॉलोइंग
8,735
पोस्ट
मुझे ShareChat पर फॉलो करें!
Follow
Beiman
406 ने देखा
•
4 घंटे पहले
`دجّال` *دجّال کے ظہور اور اس کی قتل گاہ کا بیان (4)* `حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:` *”کوئی نبی ایسے نہیں تھے جنہوں نے اپنی امت کو ”بڑے جھوٹے اور کانے“ (یعنی دجال) سے نہ ڈرایا ہو۔ خوب جان لو! کہ وہ کانا ہے، اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اور اس کی آنکھوں کے درمیان والے حصے پر ”کافر“ لکھا ہوا ہوگا۔“* *[صحيح البخاري، رقم الحديث: ٧١٣١]* *`فائدہ:`* *دجال کے فتنے کی شدت کا اندازہ اسی سے لگایا جائے کہ سارے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نے اپنی قوموں کو اس سے خبردار کیا* *احادیث مبارکہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دجال سے حفاظت کے لیے `جذبۂ جہاد اور شوق شہادت` بہت کام آئے گا* *وہ مسلمان جو ایمان کی خاطر جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں, وہی دجال کی آگ اور جہنم میں بے خطر کود جائیں گے اور حقیقت میں جنت پا لیں گے۔* *لیکن جن کو جان عزیز ہوگی اور وہ شہادت سے ڈرتے ہوں گے تو وہ اس عظیم فتنے کا مقابلہ کیسے کریں گے؟* *اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو ایمان کی قدر، جذبۂ جہاد اور شوق شہادت نصیب فرمائیں۔ آمین*
#💖💖islamic post💖💖
#Islamic baate حدیث شریف
#अल्लाहु अकबर
#🤲क़ुरान शरीफ़📗
10
14
कमेंट
Beiman
511 ने देखा
•
1 दिन पहले
`دجال` *`دجّال` کے ظہور اور اس کی قتل گاہ کا بیان (3)* `حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:` *”میں ”بنوتمیم“ سے ان تین باتوں کی وجہ سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے متعلق سنیں:* *(١)* `رسول کریم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:` *”یہ لوگ دجال کے مقابلے میں میری امت میں سب سے زیادہ سخت ثابت ہوں گے۔“* *(٢) اور فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) بنوتمیم کے ہاں سے زکوٰۃ (وصول ہوکر) آئی تو* `رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:` *”یہ ”ہماری قوم“ کی زکوٰۃ ہے۔“* *(٣) بنوتمیم کی ایک عورت قید ہوکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تھی،* `آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا:` *”اسے آزاد کردو، کیونکہ یہ حضرت اسماعیل (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی اولاد میں سے ہے۔“* *[صحيح البخاري، رقم الحديث: ٢٥٤٣، وصحيح مسلم، رقم الحديث: ٢٥٢٥]* *`فائدہ:`* *”بنوتمیم“ عرب کا مشہور قبیلہ ہے، یہ لوگ انتہائی بہادر اور سخت جنگجو تھے۔ ان کا سلسلۂ نسب ”الیاس بن مضر“ کے پاس جاکر حضور ﷺ کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے انہیں اپنی قوم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے بتایا ہے۔* *دجال کے خلاف جہاد کرنے میں یہ قبیلہ سب سے آگے ہوگا۔“*
#अल्लाहु अकबर
#🤲क़ुरान शरीफ़📗
#💖💖islamic post💖💖
#Islamic baate حدیث شریف
10
12
कमेंट
Beiman
506 ने देखा
•
1 दिन पहले
`دجّال` *دجّال کے ظہور اور اس کی قتل گاہ کا بیان (2)* `حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:` *”مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جسے دجال نہ روندے، مکہ اور مدینہ کے ہر راستے پر فرشتے صف بستہ کھڑے ہو کر پہرہ دے رہے ہوں گے، چنانچہ دجال `”سَبْغَةُ الْجُرُف“` پر ٹھہرے گا، اور مدینہ منورہ تین مرتبہ زلزلے کے لپٹ میں آئے گا، تب ہر کافر اور منافق مدینہ سے نکل کر دجال کی طرف لپکے گا۔“* *[صحيح البخاري، رقم الحديث: ١٨٨١، وصحيح مسلم، رقم الحديث: ٢٩٤٣]* *`فائدہ:` اس حدیث مبارک سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ دجالی ایام میں مدینہ منورہ ہر کافر و منافق سے پاک ہو جائے گا، وہیں یہ بھی ثابت ہوا کہ دجال کی آمد سے پہلے مدینہ منورہ میں بہت سے کافر اور کئی منافقین اپنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہوں گے۔* *اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو محفوظ فرمائیں۔* *`سَبْغَةُ الْجُرُف:`* *سبغة: اس زمین کو کہا جاتا ہے جس میں نمکیات زیادہ ہوں، جس کی وجہ سے درخت اور سبزہ زیادہ نہیں اُگتا۔* *`اَلْجُرُف:`* *یہ مدینہ منورہ کے شمال مغربی جانب ایک جگہ کا نام ہے، جو اب مدینہ منورہ کا ایک محلہ ہے۔* *عہدِ رسالت اور عہدِ خلفاء میں شام کی طرف جب جہادی قافلے روانہ ہوتے، تو انہیں یہیں سے روانہ کیا جاتا تھا۔* *مسجد نبوی سے سات کلومیٹر کی دوری پر ہے اور احد پہاڑ کے پیچھے واقع ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ منورہ کے باہر یہی وہ مقام ہے جہاں دجال ٹھہرے گا۔ اور اس سے آگے ایک قدم نہیں بڑھ سکے گا۔ چونکہ یہ جگہ حرمِ مدینہ کی حدود میں نہیں آتی، اس لیے دجال کا یہاں آنا ممنوع نہیں ہوگا۔* *مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں دجال کے دخول کی ممانت ان کے حدودِ حرم کے اعتبار سے ہے، نہ کہ شہری آبادی اور اس کی وسعت کے لحاظ سے۔ اسی طرح روایات میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے جن دروازوں پر فرشتوں کے کھڑے ہونے کا تذکرہ ہے، ان سے مراد بھی حدودِ حرم کے دروازے ہیں۔*
#Islamic baate حدیث شریف
#🤲क़ुरान शरीफ़📗
#💖💖islamic post💖💖
#अल्लाहु अकबर
11
8
कमेंट
Beiman
964 ने देखा
•
2 दिन पहले
#🤲क़ुरान शरीफ़📗
#💖💖islamic post💖💖
#Islamic baate حدیث شریف
#अल्लाहु अकबर
8
13
कमेंट
Beiman
1K ने देखा
•
2 दिन पहले
#अल्लाहु अकबर
#💖💖islamic post💖💖
#Islamic baate حدیث شریف
#🤲क़ुरान शरीफ़📗
عنوانی کی آڑ میں قبیح ترین عمل❗*
8
11
कमेंट
Beiman
523 ने देखा
•
3 दिन पहले
#🤲क़ुरान शरीफ़📗
#Islamic baate حدیث شریف
#💖💖islamic post💖💖
#अल्लाहु अकबर
`📜اپریل فول کی تاریخ و شرعی حیثیت` *آخری قسط 5.* `✴️ ایک عبرت ناک واقعہ:` *عبدالحمید بن محمود معولی کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مجلس میں حاضر تھا، کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم حج کے ارادہ سے نکلے ہیں جب ہم ذات الصفاح (ایک مقام کا نام) پہنچے تو ہمارے ایک ساتھی کا انتقال ہوگیا، ہم نے اس کی تجہیز وتکفین کی، پھر قبر کھودنے کا ارادہ کیا، جب ہم قبر کھود چکے تو ہم نے دیکھا کہ ایک بڑے کالے ناگ نے پوری قبر کو گھیر رکھا ہے، اس کے بعد ہم نے دوسری جگہ قبر کھودی تو وہاں بھی وہی سانپ موجود تھا۔ اب ہم میّت کو ویسے ہی چھوڑ کر آپ کی خدمت میں آئے ہیں کہ ہم ایسی صورتِ حال میں کیا کریں؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ سانپ اس کا وہ بد عمل ہے جس کا وہ عادی تھا، جاؤ اس کو اسی قبر میں دفن کردو، اللہ کی قسم اگر تم اس کے لیے پوری زمین کھود ڈالو گے پھر بھی وہ سانپ اس کی قبر میں پاؤگے۔ بہرحال اسے اسی طرح دفن کر دیا گیا۔ سفر سے واپسی پر لوگوں نے اس کی بیوی سے اس کا عمل پوچھا، تو اس نے بتایا کہ اس کا یہ معمول تھا کہ وہ غلہ کا تاجر تھا اور روزانہ بوری میں سے گھر کا خرچ نکال کر اس میں اسی مقدار کا بھس ملا دیتا تھا۔ (گویا کہ دھوکہ سے بھس کو اصل غلہ کی قیمت پر فروخت کرتا تھا)۔ (شرح الصدور للسیوطی، ص۱۷۴)* `✴️ دوسرے کو تکلیف دینا:` *ایک حدیث شریف میں صحیح اور کامل مسلمان اس کو قرار دیا گیا ہے جو کسی مسلمان بھائی کو تکلیف نہ دے؛ بلکہ ہمارا مذہب اسلام تو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک موٴمن کے ہاتھ وغیرہ سے پوری دنیا کے انسان (مسلم ہو یا غیرمسلم) محفوظ ہونے چاہئیں؛ بلکہ جانوروں کو تکلیف دینا بھی انتہائی مذموم، بدترین اور شدید ترین گناہ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے اور صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہ وَیَدِہ․ (بخاری شریف۱/۶، مسلم شریف۱/۴۸)* *ترجمہ: کامل مسلمان وہ شخص ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔* *اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:* *اَلْمُوٴْمِنُ مَنْ أَمِنَہُ النَّاسُ عَلٰی دِمَائِھِمْ وَأَمْوَالِھِمْ․ (ترمذی شریف۲/۹۰)* *ترجمہ: کامل موٴمن وہ شخص ہے جس سے تمام لوگ اپنے خونوں اور مالوں پر مامون و بے خوف وخطر رہیں۔* *حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَلْعُوْنٌ مَنْ ضَارَّ مُوٴْمِنًا أوْ مَکَرَ بِہ (ترمذی شریف ۲/۱۵)* *ترجمہ: وہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہے جو کسی موٴمن کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ چال بازی کا معاملہ کرے۔* *مندرجہ بالا تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ `”اپریل فول“` بہت سارے بدترین گناہوں کا مجموعہ ہے؛ لہٰذا اب ہم مسلمانوں کو خود فیصلہ کر لینا چاہیے کہ آیا یہ رسمِ بد اس لائق ہے کہ مسلمان معاشرہ میں اپنا کر اس کو فروغ دیا جائے۔۔* *اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس طرح کی تمام برائیوں سے محفوظ فرمائے اور دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین!* ---------------------------------------
12
13
कमेंट
Beiman
507 ने देखा
•
3 दिन पहले
`📜 اپریل فول کی تاریخ و شرعی حیثیت` *قسط 4.* `✴️ جھوٹ بولنا:` *اس رسم ”اپریل فول“ میں سب سے بڑا گناہ جھوٹ ہے؛ جبکہ جھوٹ بولنا دنیا و آخرت میں سخت نقصان اور محرومی کا سبب ہے، نیز اللہ رب العالمین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہے۔* *قرآن کریم میں جھوٹ بولنے والوں پر لعنت کی گئی ہے۔* `ارشاد مبارک ہے:` *فنجعل لعنة اللہ علی الکاذبین (آل عمران آیت ۶۱) ترجمہ: پس لعنت کریں اللہ تعالیٰ کی ان لوگوں پر جو کہ جھوٹے ہیں۔* *نیز احادیث شریفہ میں بھی مختلف انداز سے اس بدترین وذلیل ترین گناہ کی قباحت وشناعت بیان کی گئی ہے۔* `حدیث ۱:` *حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اذا کَذَبَ العبدُ تَبَاعَدَ عنہ المَلَکُ مِیلاً من نَتَنٍ ما جاء بہ (ترمذی شریف۲/۱۹)* *ترجمہ: جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو اس کلمہ کی بدبو کی وجہ سے جو اس نے بولا ہے رحمت کا فرشتہ اس سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔* `حدیث ۲:` *ایک حدیث شریف میں آپ نے جھوٹ کو ایمان کے منافی عمل قرار دیا، حضرت صفوان بن سُلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ:* *أیکون الموٴمن جَبانا؟ قال: نعم، فقیل لہ أیکون الموٴمن بخیلا؟ قال: نعم، فقیل لہ أیکون الموٴمن کذّابا؟ قال: لا․ (موطا امام مالک ص۳۸۸)* *ترجمہ: کیا موٴمن بزدل ہو سکتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں، (مسلمان میں یہ کمزوری ہو سکتی ہے) پھر عرض کیا گیا کہ کیا مسلمان بخیل ہو سکتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں (مسلمان میں یہ کمزوری بھی ہو سکتی ہے) پھر عرض کیا گیا کیا مسلمان جھوٹا ہو سکتا ہے؟ آپ نے جواب عنایت فرمایا کہ نہیں، (یعنی ایمان کے ساتھ بے باکانہ جھوٹ کی عادت جمع نہیں ہو سکتی اور ایمان جھوٹ کو برداشت نہیں کر سکتا)۔* `حدیث ۳:` *حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے فجر کی نماز کے بعد اپنا خواب لوگوں سے بیان فرمایا کہ آج رات میں نے یہ خواب دیکھا کہ دو آدمی (فرشتے) میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر ارضِ مقدس کی طرف لے گئے تو وہاں دو آدمیوں کو دیکھا، ایک بیٹھا ہے اور دوسرا کھڑا ہوا ہے، کھڑا ہوا شخص بیٹھے ہوئے آدمی کے کلّے کو لوہے کی زنبور سے گدّی تک چیرتا ہے، پھر دوسرے کلّے کو اسی طرح کاٹتا ہے۔ اتنے میں پہلا کلاّ ٹھیک ہو جاتا ہے اور برابر اس کے ساتھ یہ عمل جاری ہے۔ میرے پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ: اَمَّا الَّذِیْ رَأَیْتَہ یُشَقُّ شِدْقُہ فَکَذَّابٌ یُحَدِّثُ بِالْکَذِبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْہُ حَتّٰی تَبْلُغَ الْاٰفَاقَ فَیُصْنَعُ بِہ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ․ (بخاری شریف ۱/۱۸۵-۲/۹۰۰-۲/۱۰۴۳)* *ترجمہ: بہرحال وہ شخص جس کو آپ نے دیکھا کہ اس کے کلّے چیرے جا رہے ہیں، وہ ایسا بڑا جھوٹا ہے جس نے ایسا جھوٹ بولا کہ وہ اس سے نقل ہو کر دنیا جہاں میں پہنچ گیا؛ لہٰذا اس کے ساتھ قیامت تک یہی معاملہ کیا جاتا رہے گا۔ اللّٰھم احفظنا منہ۔* `حدیث ۴:` *رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں جھوٹ بولنے کو بڑی خیانت قرار دیا ہے۔* *حضرت سفیان ابن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کَبُرَتْ خِیَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ اَخَاکَ حَدِیْثًا ھُوَ لَکَ بِہ مُصَدِّقٌ وَاَنْتَ بِہ کَاذِبٌ․ (مشکوٰة شریف ۲/۴۱۳)* *ترجمہ: یہ بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے ایسی گفتگو کرے جس میں وہ تجھے سچا سمجھتا ہو حالانکہ تو اس سے جھوٹ بول رہا ہو۔* `حدیث ۵:` *اسی طرح ایک حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ بولنے سے بچنے پر (اگرچہ مذاق سے ہی ہو) جنت کی ضمانت لی ہے۔* *حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ وَسَطِ الجَنَّةِ لِمَنْ تَرَکَ الکِذْبَ وَاِنْ کَانَ مَازِحًا․ (الترغیب والترہیب ۳/۵۸۹)* *ترجمہ: میں اس شخص کے لیے جنت کے بیچ میں گھر کی کفالت لیتا ہوں جو جھوٹ کو چھوڑ دے، اگرچہ مذاق ہی میں کیوں نہ ہو۔* `حدیث ۶:` *حضرت بہز بن حکیم اپنے والد معاویہ کے واسطہ سے اپنے دادا حیدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وَیْلٌ لِّلَّذِیْ یُحَدِّث بِالْحَدِیْثِ لِیُضْحِکَ بِہ الْقَومَ فَیَکْذِبُ ویل لہ ویل لہ․ (ترمذی شریف ۲/۵۵، ابوداؤد ۲/۶۸۱)* *ترجمہ: جو شخص لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے اس کے لیے بربادی ہو، بربادی ہو، بربادی ہو۔* *مطلب یہ ہے کہ صرف لطف صحبت اور ہنسنے ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا بھی ممنوع ہے۔* *آج کل لوگ نت نئے چٹکلے تیار کرتے ہیں اور محض اس لیے جھوٹ بولتے ہیں تاکہ لوگ ہنسیں، انھیں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد رکھنا چاہیے اور اس برے فعل سے باز آنا چاہیے۔* `✴️ دھوکہ دینا:` *اپریل فول کی رسم بد میں چوتھا گناہ، مکر وفریب ہے؛ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گناہ پر سخت الفاظ سے وعید بیان فرمائی ہے۔* *حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا․(مسلم شریف ۱/۷۰)* *ترجمہ: جو شخص ہم کو (مسلمانوں کو) دھوکا دے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔* *حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الموٴمنون بَعضُھم لِبَعْضٍ نَصَحَةٌ وَادُّون، وَانْ بَعُدَتْ منازلھم وَاَبْدَانُھُمْ وَالفَجَرَةُ بعضھم لبعضٍ غَشَشَةٌ مُتَخَاوِنُوْنَ وَاِنْ اقْتَرَبَتْ مَنَازِلُھُمْ وَاَبْدَالُھُمْ․ (الترغیب والترہیب ۲/۵۷۵)* *ترجمہ: موٴمنین آپس میں ایک دوسرے کے خیرخواہ اور محبت کرنے والے ہوتے ہیں اگرچہ ان کے مکانات اور جسم ایک دوسرے سے دور ہوں اور نافرمان لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ دھوکے باز اور خائن ہوتے ہیں، اگر ان کے گھر اور جسم قریب قریب ہوں۔* *مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ دھوکہ بازی اللہ تعالیٰ سے بغاوت کرنے والوں اور نافرمانوں کا عمل ہے، موٴمنین کا عمل تو ایک دوسرے کے ساتھ خیرخواہی کرنا ہے۔* *لہٰذا کسی بھی ایمان والے کو دوسروں کے ساتھ دھوکے کا معاملہ نہیں کرنا چاہیے۔*
#अल्लाहु अकबर
#Islamic baate حدیث شریف
#💖💖islamic post💖💖
#🤲क़ुरान शरीफ़📗
14
12
कमेंट
Beiman
514 ने देखा
•
3 दिन पहले
`📜 اپریل پھول کی تاریخ و شرعی حیثیت` *قسط 3.* `✴️ اپریل پُھول کی شرعی حیثیت:` *مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ تاریخی اعتبار سے یہ رسم بد قطعاً اس قابل نہیں کہ اس کو اپنایا جائے؛ کیونکہ اس کا رشتہ یا تو کسی توہم پرستی سے جڑا ہوا ہے، جیسا کہ پہلی صورت میں، یا کسی گستاخانہ نظریے اور واقعے سے جڑا ہوا ہے؛ جیساکہ دوسری اور تیسری صورت میں ہے۔* *اس کے علاوہ یہ رسم اس لیے بھی قابلِ ترک ہے کہ یہ مندرجہ ذیل کئی گناہوں کا مجموعہ ہے:* *(۱) مشابہت کفار ویہود ونصاریٰ.* *(۲) جھوٹا اور ناحق مذاق.* *(۳) جھوٹ بولنا.* *(۴) دھوکہ دینا.* *(۵) دوسرے کواذیت پہنچانا.* *ان میں سے ہر ایک پر الگ الگ عنوانات کے تحت مختصر کلام کیا جاتا ہے؛ تاکہ یہ بات معلوم ہو جائے کہ احادیثِ شریفہ میں ان گناہوں پر کتنی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔* `✴️ کفار اور یہود ونصاریٰ کی مشابہت:` *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود ونصاریٰ اور کفار ومشرکین کی مشابہت اور بودوباش اختیار کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، `مثلاً:` آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی رکھنے کا اور مشرکین ومجوس کی مخالفت کرنے کا حکم دیا ہے۔* *اسی طرح یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے دسویں محرم کے ساتھ نویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا بھی حکم فرمایا۔* *غرض کہ ہر موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر قوموں کے طریقہٴ زندگی کو اپنانے سے منع فرمایا ہے۔ اور ان الفاظ میں وعید فرمائی ہے کہ: ”من تشبّہ بقوم فھو منھم“ (مشکوٰة شریف ۲/۳۷۵) یعنی جو شخص کسی قوم سے مشابہت اور ان کے طور طریقے کو اختیار کرے گا اس کا شمار انہی میں ہوگا؛ `اللّٰھم احفظنا منہ` مگر افسوس کہ غیر قوموں کا طریقہ ہی آج ہمیں پسند ہے۔* *حالانکہ ہمیشہ ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دی ہے، آپ کی حیات میں بھی اور وفات ظاہری کے بعد بھی۔ نیز ہمیشہ ان کی کوششیں دین اسلام اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے پر صرف ہوتی ہیں؛ مگر ہم مسلمان ذرا اس بات پر غور نہیں کرتے اور انھیں کے طور طریقوں میں مگن رہتے ہیں اور اپنے عمل سے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتے ہیں۔* `✴️ ایک عبرت ناک واقعہ:` *حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرّہ کے مواعظ میں کسی جگہ ایک واقعہ منقول ہے کہ ایک پیر صاحب غیر مسلموں کے تہوار ”ہولی“ کے دن پان کھاتے ہوئے اپنے مریدین کے ساتھ جارہے تھے، پورا راستہ ہولی کے رنگ سے رنگا ہوا تھا۔ رنگی ہوئی سڑک پر ایک گدھا کھڑا ہوا عجیب سا معلوم ہو رہا تھا، پیر صاحب نے از راہِ مذاق پان کی پیک یہ کہتے ہوئے گدھے پر تھوک دی کہ ”تجھ کو کسی نے نہیں رنگا، میں ہی رنگ دیتا ہوں“۔ القصہ پیر صاحب کی وفات کے بعد کسی مرید نے ان کو خواب میں دیکھا کہ عذاب میں مبتلا ہیں، پوچھنے پر فرمایا کہ ہولی کے دن کے واقعہ کی پکڑ ہو گئی۔ خدا کی پناہ!* `✴️ جھوٹا اور ناحق مذاق:` *اسلام نے خوش طبعی، مذاق اور بذلہ سنجی کی اجازت دی ہے۔ بارہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب (رضی اللہ تعالی عنہ) کے ساتھ مذاق فرمایا ہے؛ لیکن آپ کا مذاق جھوٹا اور تکلیف دہ نہیں ہوتا تھا۔* *حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہٴ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ انّک تداعبنا، قال: انّی لا اقول الاّ حقًّا (ترمذی شریف:۲/۲۰) `ترجمہ:` اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ تو ہمارے ساتھ دل لگی فرماتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ (میں دل لگی ضرور کرتا ہوں مگر) سچی اور حق بات کے علاوہ کچھ نہیں بولتا۔* *حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مذاق میں دوسرے شخص کا جوتا غائب کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا، تو آپ نے ارشاد فرمایا:* *لا تُرَوِّعُوْا الْمُسْلِمَ فَاِنَّ رَوْعَةَ المسلم ظلم عظیم (الترغیب والترہیب۳/۴۸۴) `ترجمہ:` کسی مسلمیان کو مت ڈراؤ (نہ حقیقت میں نہ مذاق میں) کیونکہ کسی مسلمان کو ڈرانا بہت بڑا ظلم ہے۔* *امام غزالی تحریر فرماتے ہیں کہ مزاح ومذاق پانچ شرطوں کے ساتھ جائز؛ بلکہ حسنِ اخلاق میں داخل ہے اور ان میں سے کوئی ایک شرط مفقود ہوجائے تو پھر مذاق ممنوع اور ناجائز ہے۔* *(۱) مذاق تھوڑا یعنی بقدرِ ضرورت ہو.* *(۲) اس کا عادی نہ بن جائے.* *(۳) حق اور سچی بات کہے* *(۴) اس سے وقار اور ہیبت کے ختم ہونے کا اندیشہ نہ ہو.* *(۵) مذاق کسی کی اذیّت کا باعث نہ ہو. (احیاء العلوم اردو ۳/۳۲۴-۳۲۶)* *سفیان بن عیینہ سے کسی نے کہا کہ مذاق بھی ایک آفت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نہیں؛ بلکہ سنت ہے؛ مگر اس شخص کے حق میں جو اس کے مواقع جانتا ہو اور اچھا مذاق کر سکتا ہو۔ (خصائل نبوی، ص۱۵۳)* *بہرحال حاصل یہ ہے کہ جھوٹے اور تکلیف دہ مذاق کی شریعت اسلامیہ میں کوئی گنجائش نہیں؛ بلکہ اس طرح کا مذاق مذموم ہے۔*
#🤲क़ुरान शरीफ़📗
#Islamic baate حدیث شریف
#💖💖islamic post💖💖
#Islamic baate حدیث شریف
#अल्लाहु अकबर
13
11
कमेंट
Beiman
500 ने देखा
•
3 दिन पहले
`📜 اپریل پھول کی تاریخ و شرعی حیثیت` *قسط 2.* ✴️*اس رسم بد کی دو حیثیتیں ہیں:* *(۱) تاریخی۔ (۲) شرعی۔* `✴️ اپریل فول کی تاریخی حقیقت:` *اس رسم کی ابتداء کیسے ہوئی؟ اس بارے میں موٴرخین کے بیانات مختلف ہیں۔ ہم یہاں ان میں سے تین اقوال پیش کرتے ہیں؛ تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ عقل وخرد کے دعوے داروں نے اس رسم کو اپنانے میں کیسی بے عقلی اور حماقت کا ثبوت دیا ہے۔* *(۱) بعض مصنّفین کا کہنا ہے کہ فرانس میں سترہویں صدی سے پہلے سال کا آغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا، اس مہینے کو رومی لوگ اپنی دیوی ”وینس“ (Venus) کی طرف منسوب کرکے مقدس سمجھا کرتے تھے، تو چوں کہ سال کا یہ پہلا دن ہوتا تھا؛ اس لیے خوشی میں اس دن کو جشن کے طور پر منایا کرتے تھے اور اظہارِ خوشی کے لیے آپس میں ہنسی مذاق بھی کیا کرتے تھے، تو یہی چیز رفتہ رفتہ ترقی کرکے اپریل فول کی شکل اختیار کر گئی۔* *(۲) انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا میں اس رسم کی ایک اور وجہ بیان کی گئی ہے کہ اکیس مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں، ان تبدیلیوں کو بعض لوگوں نے اس طرح تعبیر کیا کہ (معاذ اللہ) قدرت ہمارے ساتھ اس طرح مذاق کرکے ہمیں بے وقوف بنا رہی ہے؛ لہٰذا لوگوں نے بھی اس زمانے میں ایک دوسرے کو بے وقوف بنانا شروع کر دیا۔ (انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا ۱/۴۹۶ بحوالہ ”ذکروفکر“ ص۶۷، مفتی تقی عثمانی مدظلہ)* *(۳) ایک تیسری وجہ انیسویں صدی عیسوی کی معروف انسائیکلوپیڈیا ”لاروس“ نے بیان کی ہے اور اسی کو صحیح قرار دیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کر لیا اور رومیوں کی عدالت میں پیش کیا تو رومیوں اور یہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ الصلاة والسلام کو تمسخر اور استہزاء کا نشانہ بنایا گیا، ان کو پہلے یہودی سرداروں اور فقیہوں کی عدالت میں پیش کیا گیا، پھر وہ انھیں پیلاطُس کی عدالت میں فیصلہ کے لیے لے گئے، پھر پیلاطس نے ان کو ہیرودیس کی عدالت میں بھیج دیا اور بالآخر ہیرودیس نے دوبارہ فیصلہ کے لیے ان کو پیلاطس ہی کی عدالت میں بھیج دیا۔* `لُوقا کی انجیل میں اس واقعہ کو اس طرح نقل کیاگیا ہے:` *”اور جو آدمی یسوع کو پکڑے ہوئے تھے اس کو ٹھٹھوں میں اُڑاتے اور مارتے تھے اور اس کی آنکھیں بند کرکے اس سے پوچھتے تھے کہ نبوت سے بتا تجھے کس نے مارا؟ اور انھوں نے طعنہ سے اور بھی بہت سی باتیں اس کے خلاف کہیں۔“ (انجیل لوقا، ب۲۲، آیت ۶۳-۶۵، ص۲۲۷)* `اور انجیل لوقاہی میں ہیرودیس کا پیلاطُس کے پاس واپس بھیجنا ان الفاظ سے منقول ہے:` *”پھر ہیرودیس نے اپنے سپاہیوں سمیت اُسے ذلیل کیا اور ٹھٹھوں میں اڑایا اور چمک دار پوشاک پہنا کر اس کو پیلاطس کے پاس واپس بھیجا۔“ (انجیل لوقا، ب۲۳، آیت۱۱، ص۲۲۸)* *لاروس کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ایک عدالت سے دوسری عدالت میں بھیجنے کا مقصد بھی ان کے ساتھ مذاق کرنا اور انھیں تکلیف پہنچانا تھا؛ چونکہ یہ واقعہ یکم اپریل کو پیش آیا تھا، اس لیے اپریل فول کی رسم درحقیقت اسی شرمناک واقعے کی یادگار ہے۔ (ذکروفکر ص۶۷-۶۸)* *اگر یہ بات درست ہے تو غالب گمان یہی ہے کہ یہ رسم یہودیوں نے جاری کی ہوگی اور اس کا منشاء حضرت عیسیٰ علیٰ نبیّنا وعلیہ الصلاة والسلام کی تضحیک ہوگی؛ لیکن یہ بات حیرت ناک ہے کہ جو رسم یہودیوں نے (معاذ اللہ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہنسی اڑانے کے لیے جاری کی اس کو عیسائیوں نے کس طرح قبول کرلیا؛ بلکہ خود اس کے رواج دینے میں شریک ہوگئے؛ جبکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف رسول؛ بلکہ ابن اللہ کا درجہ دیتے ہیں۔* *قرینِ قیاس یہ ہے کہ یہ ان کی دینی بدذوقی یا بے ذوقی کی تصویر ہے۔ جس طرح صلیب، کہ ان کے عقیدہ کے مطابق اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دی گئی ہے، تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کی شکل سے بھی ان کو نفرت ہوتی؛ لیکن ان پر خدا کی مار یہ ہے کہ اس پر انھوں نے اس طرح تقدس کا غازہ چڑھایا کہ وہ ان کے نزدیک مقدس شے بن کر ان کے مقدس مقامات کی زینت بن گئی۔* *بس اسی طرح اپریل فول کے سلسلہ میں بھی انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمنوں کی نقّالی شروع کردی۔ `اللّٰھم احفظنا منہ․` اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عیسائی اس رسم کی اصلیت سے ہی واقف نہ ہوں اور انھوں نے بے سوچے سمجھے اس پر عمل شروع کر دیا ہو۔*
#💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢
#Islamic baate حدیث شریف
#💖💖islamic post💖💖
#🤲क़ुरान शरीफ़📗
7
18
कमेंट
Beiman
355 ने देखा
•
3 दिन पहले
`📜 اپریل پُھول کی تاریخی و شرعی حیثیت` *قسط 1.* *اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ اس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کے لیے اپنے ماننے والوں کو بہترین اور عمدہ اصول وقوانین پیش کیے ہیں۔ اخلاقی زندگی ہو یا سیاسی، معاشرتی ہو یا اجتماعی اور سماجی ہر قسم کی زندگی کے ہر گوشہ کے لیے اسلام کی جامع ہدایات موجود ہیں اور اسی مذہب میں ہماری نجات مضمر ہے۔* *مگر آج ہمیں یورپ اور یہود ونصاریٰ کی تقلید کا شوق ہے اور مغربی تہذیب کے ہم دلدادہ ہیں۔ یورپی تہذیب وتمدن اور طرزِ معاشرت نے مسلمانوں کی زندگی کے مختلف شعبوں کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ مسلمانوں کی زندگی میں انگریزی تہذیب کے بعض ایسے اثرات بھی داخل ہوگئے ہیں، جن کی اصلیت وماہیت پر مطلع ہونے کے بعد ان کو اختیار کرنا انسانیت کے قطعاً خلاف ہے؛ مگر افسوس کہ آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان اثرات پر مضبوطی سے کاربند ہے؛ حالاںکہ قوموں کا اپنی تہذیب وتمدن کو کھو دینا اور دوسروں کے طریقہٴ رہائش کو اختیار کر لینا ان کے زوال اور خاتمہ کا سبب ہوا کرتا ہے۔* *مذہبِ اسلام کا تو اپنے متبعین سے یہ مطالبہ ہے : ”یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِیْ السِّلْمِ کَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ“ (البقرہ آیت۲۰۸) ترجمہ: اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدم پر مت چلو، یقینا وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (بیان القرآن)* *یہود ونصاریٰ کی جو رسومات ہمارے معاشرہ میں رائج ہوتی جا رہی ہیں، انھیں میں سے ایک رسم `”اپریل فول“` منانے کی رسم بھی ہے۔ اس رسم کے تحت یکم اپریل کی تاریخ میں جھوٹ بول کر کسی کو دھوکا دینا، مذاق کے نام پر بے وقوف بنانا اور اذیت دینا نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے؛ بلکہ اسے ایک کمال قرار دیا جاتا ہے۔ جو شخص جتنی صفائی اور چابک دستی سے دوسروں کو جتنا بڑا دھوکا دے دے، اُتنا ہی اُس کو ذہین، قابلِ تعریف اور یکم اپریل کی تاریخ سے صحیح فائدہ اٹھانے والا سمجھا جاتا ہے۔ یہ رسم اخلاقی، شرعی اور تاریخی ہر اعتبار سے خلافِ مروت، خلافِ تہذیب اور انتہائی شرمناک ہے۔ نیز عقل ونقل کے بھی خلاف ہے۔*
#🤲क़ुरान शरीफ़📗
#💖💖islamic post💖💖
#💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢
#Islamic baate حدیث شریف
15
10
कमेंट
Your browser does not support JavaScript!