〬🌸⃪⃮⃔⃝꯭〬 ڪنيزقـ۔ـادريه🤍
550 views
21 hours ago
*شب عاشورا اور عاشورا کے دن کے (27) اعمال* ✍🏻سید فضل احمد مدنی شب عاشورا بڑی بابرکت رات ہے اس میں خوب عبادتوں کا اہتمام فرمائیے چند عبادات کتابوں میں اس رات کے حوالے سے مذکور ہیں۔ *{1}* شبِ عاشورا غسل کیجیے کیوں کہ اِس رات آبِ زَم زَم تمام پانیوں میں شامل کر دیا جاتا ہے اور اس رات غسل کرنے سے پورے سال بیماریوں سے حفاظت رہتی ہے۔ (النور فی فضائل الایام والشھور ص 123) *{2}* عاشورا کی رات میں *چار نفل* اس طرح ادا کیجیے کہ ہر رَکْعت میں *سُورۂ فاتحہ کے بعد* *آیتُ الکرسی* *ایک بار* اور *سورۂ اِخلاَص تین تین بار پڑھیـے* پھر *نماز سے فارغ ہوکر سو(100) مرتبہ سورۂ اخلاص*(قُل ھو ﷲُ اَحَدْ مکمل سورت) *پڑھیـے* اس کی برکت سے گناہوں سے پاک ہوگا اور جنّت میں بـے اِنتہا نعمتیں ملیں گی۔ (جنّتی زیور، ص 157 ماخوذاً) *{3}* شب عاشورا کو عاشورا کا وسیلہ دیکر اس طرح دعائیں مانگیں:* ’’یااللہ عَزَّوَجلَّ! تجھے اس رات کی حرمت کا واسطہ اوران لوگوں کا واسطہ جنہوں نے ساری رات تیرا ذکر کرتے ہوئے جاگ کر گزاری ہے! مجھے عافیت عطا فرما دے، میری تکلیف دور کر دے اور میرے دل کی شکستگی دور فرما دے۔ *{4}* صلوۃ التسبیح کا اہتمام فرمائیے۔ ابوداؤد شریف کی حدیثِ پاک میں ہے ، سرکارِ عالی وقار ، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے چچا جان حضرت عبّاس رَضِیَ اللہ عنہ کو صلٰوۃُ التَّسْبِیح سکھائی اور فرمایا : چچا جان ! اگر آپ روزانہ یہ نماز ادا کر سکیں تو ضرور کریں ، اگر ہر روز نہ ہو سکے تو ہر جمعہ کو ، ایسا بھی نہ کر پائیں تو ہر مہینے ، یہ بھی نہ ہو سکے تو سال میں ایک مرتبہ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو زِندگی میں ایک مرتبہ ضرور صلٰوۃُ التَّسْبِیح ادا کریں (ابوداؤدحدیث : 1297) *{5}* تہجد بھی ادا فرمائیے کہ یہ نمازدلوں کو روشن کرتی ہے نوافل میں سب سے افضل اور اللہ پاک کے نزدیک سب سے محبوب نماز”نمازِ تہجد“ہے۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا خاص شعار تھا۔آپ اس کی اتنی پابندی فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ *{6}* سحری کا اہتمام کیجئے کیونکہ یہ سنت ہے اور نبی پاک صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اسکی ترغیب بھی ارشاد فرمائی ہے۔ *{7}* کوشش کیجئے کہ کسی رشتہ دار یا پڑوسی میں جو روزہ رکھنے والے ہیں ان تک بھی سحری پہنچاکر برکتیں حاصل فرمائیے۔ 🌹*عاشورا کے دن کے اعمال*🌹 حضرت علامہ جوزی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دس مَحرّم بہت عظمت والا دن ہے لہٰذا مناسب ہے کہ جس قدر ممکن ہو اچھے کام کیے جائیں۔ *اس عظمت والے دن کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ نیک کام کیجیے:* *(8)* یومِ عاشوراء کا روزہ رکھئے اور اس کے ساتھ نویں یا گیارویں مُحرّم کا روزہ بھی ملا لیجیے تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو سکے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: *"عاشوراء کے دن کا روزہ رکھو اور اس دن میں یہودیوں کی مخالفت کرو، عاشوراء کے دن سے پہلے یا بعد میں ایک دن کا روزہ رکھو۔"* (مسند احمد، مسند عبداللہ بن عباس، 518/1، حدیث: 2154) *(9)* حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: عاشورہ کے دن جو *ہزار مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے* تو اس کی طرف رحمٰن (ﷲ پاک) نظر فرمائے گا ۔ اور جس کی طرف رحمٰن نظر فرمائے اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔ اس فرمان کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور رحمت خداوندی کے امیدوار بن کر ہزار مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھیے۔ *(10)* یومِ عاشوراء ہی کو حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی لہٰذا اس دن توبہ و استغفار کیجیے اور بارگاہ الٰہی میں توبہ پر قائم رہنے کی بھیک طلب کیجئے۔ *(11)* والدین کا خصوصی اِکرام کیجیے۔ *(12)* راستے سے تکلیف دِہ چیز دور کیجیے اور غصے پر قابو رکھیے۔ *(13)* نوافل کی کثرت کیجیے۔ (خصوصاً اشراق و چاشت و اوابین کا اہتام فرمائیے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:”قال: ابن آدم !اركع لي أربع ركعات من أول النهار أكفك آخره “ترجمہ:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :اے ابن آدم! تو میرے لیے دن کے شروع میں چار رکعتیں پڑھ ، میں دن کے آخر میں تجھے کافی ہوں گا ۔ (سنن الترمذی،ج 02،ص 340) *(14)* سُرمہ لگائیے۔ `عاشوراء کے دن اِثــمَـدْ سُرمـــہ لگانے کی فضیلت` سرورِ کائنات، شاہِ موجودات ﷺ نے ارشاد فرمایا: *"جو شخص یومِ عاشورا اِثــمَـدْ سُرمــہ آنکھوں میں لگائے تو اُس کی آنکھیں کبھی بھی نہ دُکھیں گی"* (شعب الایمان حدیث: 3797) *(15)* رشتہ داروں سے ملاقات کیجئے اور فضولیات سے بچیـے۔ *(16)* مرد حضرات قبروں کی زیارت کیجیے۔ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ `كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِفَزُوُرُوْهَافَإِنَّهَاتُزَهِّدُفِي الدُّنْيَا وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ` میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا ،اب ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس سے دنیا میں بے رغبتی اور آخرت کی یاد پیدا ہوتی ہے۔ (ابن ماجہ حدیث:1571) اس حدیثِ پاک کے تحت حضرت علامہ عبد الرؤف مَناوِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:جس شخص کا دل سخت ہوگیا ہو زیارتِ قبور اس کے لئے ایک عمدہ دوا ہے۔ (فیض القدیر،ج5، ص71) *(17)* خوشبو لگائیے۔ *(18)* روزہ داروں کو افطار کروائیے۔ *(19)* قران پاک کی تلاوت کیجئے۔ *(20)* ستّر(70) بار *سبحان اللہ* کا ورد کیجئے۔ *(21)* یتیم کے سَر پر شفقت سے ہاتھ پھیرئیے۔ *(22)* ناراض مسلمانوں میں صلح کروائیے۔ *(23)* علمائے دین کی زیارت کیجئے۔ *(24)* ہو سکے تو خوف خدا سے آنسو بہائیے۔ *(25)* جو کوئی عاشوراء کے دن یہ دعا پڑھے تو لمبی عمر پائے گا: *`سبحان اللّٰهِ مِلْءَ الْمِیْزَانِ وَمُنْتَھَی الْعِلمِ وَمَبْلَغَ الرِّضَا وَزِنَـۃَ الْعَرشِ لَا مَلْجَاءَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللّٰهِ اِلَّا اِلَیْہِ، سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَدَدَ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَعَدَدَ کَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّآمَّاتِ وَاسْاَلُـہُ السَّلَامَتَ بِرَحْمَتِہِ وَلَا حَولَ وَلَا قوَّۃَ اِلاَّ بِاللَّهِ الْعَلِِّی الْعَظِیمِ وَصَلَّی اللّٰهُ علٰ عَظِیم وَصَلّ اللّٰهُ علیٰ خَیْرِ خَلْقِہِ مُحَمَّدٍ وَّاٰلہٖ اَجْمَعِیْن`۔* (لطائف اشرفی، 227/2) *(26)* اس دن غسل کا اہتمام کیجئے۔ جو کوئی 10مُحرم الحرام کو غسل کرے تو تمام سال اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ بیماریوں سے امن میں رہے گا کیونکہ اس دن آبِ زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔ ( تفسیر روح البیان،ج۴،ص: 142) *نوٹ* یاد رہے غسل سے متعلق شب عاشورہ اور عاشورہ دونوں میں تذکرہ کیا گیا ہے جو فضیلت ہے وہ دس محرم کی ہے اور وہ مغرب کے بعد سے شروع ہوجاتی ہے اگر کوئی شب عاشورہ میں غسل کرے گا تو وہ بھی اسکی برکات کو پالے گا ان شاءاللہ عزوجل *(27)* *شہدا ئے کربلا کو ایصالِ ثواب کیجئے* :عاشورا کے دن نواسۂ رسول،جگر گوشۂ بتول،امامِ عالی مقام،حضرت سیِّدُنا امام حسین رضی اللہ عنہ نےاپنے ساتھیوں کے ہمراہ گلشنِ اسلام کی آبیاری کی خاطراپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، لہٰذا ہمیں اس دن شہدائے کربلا کے ایصالِ ثواب کے لئے قراٰن خوانی، ذِکْر و دُرُوْد اور نذر ونیاز کا بھی اہتمام کرنا چاہئے۔ الله پاک شب عاشورا اور یوم عاشورا کے صدقے ہماری حتمی مغفرت فرمائے اور الله پاک ہم سب کو ڈھیروں خوشیاں عطا فرمائے آمین #📗حدیث کی باتیں📜 #شہادت امام حسین ع🕌