`دجّال`
*دجّال کے ظہور اور اس کی قتل گاہ کا بیان (2)*
`حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:`
*”مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جسے دجال نہ روندے، مکہ اور مدینہ کے ہر راستے پر فرشتے صف بستہ کھڑے ہو کر پہرہ دے رہے ہوں گے، چنانچہ دجال `”سَبْغَةُ الْجُرُف“` پر ٹھہرے گا، اور مدینہ منورہ تین مرتبہ زلزلے کے لپٹ میں آئے گا، تب ہر کافر اور منافق مدینہ سے نکل کر دجال کی طرف لپکے گا۔“*
*[صحيح البخاري، رقم الحديث: ١٨٨١، وصحيح مسلم، رقم الحديث: ٢٩٤٣]*
*`فائدہ:` اس حدیث مبارک سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ دجالی ایام میں مدینہ منورہ ہر کافر و منافق سے پاک ہو جائے گا، وہیں یہ بھی ثابت ہوا کہ دجال کی آمد سے پہلے مدینہ منورہ میں بہت سے کافر اور کئی منافقین اپنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہوں گے۔*
*اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو محفوظ فرمائیں۔*
*`سَبْغَةُ الْجُرُف:`*
*سبغة: اس زمین کو کہا جاتا ہے جس میں نمکیات زیادہ ہوں، جس کی وجہ سے درخت اور سبزہ زیادہ نہیں اُگتا۔*
*`اَلْجُرُف:`*
*یہ مدینہ منورہ کے شمال مغربی جانب ایک جگہ کا نام ہے، جو اب مدینہ منورہ کا ایک محلہ ہے۔*
*عہدِ رسالت اور عہدِ خلفاء میں شام کی طرف جب جہادی قافلے روانہ ہوتے، تو انہیں یہیں سے روانہ کیا جاتا تھا۔*
*مسجد نبوی سے سات کلومیٹر کی دوری پر ہے اور احد پہاڑ کے پیچھے واقع ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ منورہ کے باہر یہی وہ مقام ہے جہاں دجال ٹھہرے گا۔ اور اس سے آگے ایک قدم نہیں بڑھ سکے گا۔ چونکہ یہ جگہ حرمِ مدینہ کی حدود میں نہیں آتی، اس لیے دجال کا یہاں آنا ممنوع نہیں ہوگا۔*
*مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں دجال کے دخول کی ممانت ان کے حدودِ حرم کے اعتبار سے ہے، نہ کہ شہری آبادی اور اس کی وسعت کے لحاظ سے۔ اسی طرح روایات میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے جن دروازوں پر فرشتوں کے کھڑے ہونے کا تذکرہ ہے، ان سے مراد بھی حدودِ حرم کے دروازے ہیں۔*
#Islamic baate حدیث شریف #🤲क़ुरान शरीफ़📗 #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर

