`📜 اپریل فول کی تاریخ و شرعی حیثیت`
*قسط 4.*
`✴️ جھوٹ بولنا:`
*اس رسم ”اپریل فول“ میں سب سے بڑا گناہ جھوٹ ہے؛ جبکہ جھوٹ بولنا دنیا و آخرت میں سخت نقصان اور محرومی کا سبب ہے، نیز اللہ رب العالمین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہے۔*
*قرآن کریم میں جھوٹ بولنے والوں پر لعنت کی گئی ہے۔*
`ارشاد مبارک ہے:`
*فنجعل لعنة اللہ علی الکاذبین (آل عمران آیت ۶۱) ترجمہ: پس لعنت کریں اللہ تعالیٰ کی ان لوگوں پر جو کہ جھوٹے ہیں۔*
*نیز احادیث شریفہ میں بھی مختلف انداز سے اس بدترین وذلیل ترین گناہ کی قباحت وشناعت بیان کی گئی ہے۔*
`حدیث ۱:` *حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اذا کَذَبَ العبدُ تَبَاعَدَ عنہ المَلَکُ مِیلاً من نَتَنٍ ما جاء بہ (ترمذی شریف۲/۱۹)* *ترجمہ: جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو اس کلمہ کی بدبو کی وجہ سے جو اس نے بولا ہے رحمت کا فرشتہ اس سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔*
`حدیث ۲:` *ایک حدیث شریف میں آپ نے جھوٹ کو ایمان کے منافی عمل قرار دیا، حضرت صفوان بن سُلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ:*
*أیکون الموٴمن جَبانا؟ قال: نعم، فقیل لہ أیکون الموٴمن بخیلا؟ قال: نعم، فقیل لہ أیکون الموٴمن کذّابا؟ قال: لا․ (موطا امام مالک ص۳۸۸)*
*ترجمہ: کیا موٴمن بزدل ہو سکتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں، (مسلمان میں یہ کمزوری ہو سکتی ہے) پھر عرض کیا گیا کہ کیا مسلمان بخیل ہو سکتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں (مسلمان میں یہ کمزوری بھی ہو سکتی ہے) پھر عرض کیا گیا کیا مسلمان جھوٹا ہو سکتا ہے؟ آپ نے جواب عنایت فرمایا کہ نہیں، (یعنی ایمان کے ساتھ بے باکانہ جھوٹ کی عادت جمع نہیں ہو سکتی اور ایمان جھوٹ کو برداشت نہیں کر سکتا)۔*
`حدیث ۳:` *حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے فجر کی نماز کے بعد اپنا خواب لوگوں سے بیان فرمایا کہ آج رات میں نے یہ خواب دیکھا کہ دو آدمی (فرشتے) میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر ارضِ مقدس کی طرف لے گئے تو وہاں دو آدمیوں کو دیکھا، ایک بیٹھا ہے اور دوسرا کھڑا ہوا ہے، کھڑا ہوا شخص بیٹھے ہوئے آدمی کے کلّے کو لوہے کی زنبور سے گدّی تک چیرتا ہے، پھر دوسرے کلّے کو اسی طرح کاٹتا ہے۔ اتنے میں پہلا کلاّ ٹھیک ہو جاتا ہے اور برابر اس کے ساتھ یہ عمل جاری ہے۔ میرے پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ: اَمَّا الَّذِیْ رَأَیْتَہ یُشَقُّ شِدْقُہ فَکَذَّابٌ یُحَدِّثُ بِالْکَذِبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْہُ حَتّٰی تَبْلُغَ الْاٰفَاقَ فَیُصْنَعُ بِہ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ․ (بخاری شریف ۱/۱۸۵-۲/۹۰۰-۲/۱۰۴۳)*
*ترجمہ: بہرحال وہ شخص جس کو آپ نے دیکھا کہ اس کے کلّے چیرے جا رہے ہیں، وہ ایسا بڑا جھوٹا ہے جس نے ایسا جھوٹ بولا کہ وہ اس سے نقل ہو کر دنیا جہاں میں پہنچ گیا؛ لہٰذا اس کے ساتھ قیامت تک یہی معاملہ کیا جاتا رہے گا۔ اللّٰھم احفظنا منہ۔*
`حدیث ۴:` *رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں جھوٹ بولنے کو بڑی خیانت قرار دیا ہے۔*
*حضرت سفیان ابن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کَبُرَتْ خِیَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ اَخَاکَ حَدِیْثًا ھُوَ لَکَ بِہ مُصَدِّقٌ وَاَنْتَ بِہ کَاذِبٌ․ (مشکوٰة شریف ۲/۴۱۳)*
*ترجمہ: یہ بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے ایسی گفتگو کرے جس میں وہ تجھے سچا سمجھتا ہو حالانکہ تو اس سے جھوٹ بول رہا ہو۔*
`حدیث ۵:` *اسی طرح ایک حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ بولنے سے بچنے پر (اگرچہ مذاق سے ہی ہو) جنت کی ضمانت لی ہے۔*
*حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ وَسَطِ الجَنَّةِ لِمَنْ تَرَکَ الکِذْبَ وَاِنْ کَانَ مَازِحًا․ (الترغیب والترہیب ۳/۵۸۹)*
*ترجمہ: میں اس شخص کے لیے جنت کے بیچ میں گھر کی کفالت لیتا ہوں جو جھوٹ کو چھوڑ دے، اگرچہ مذاق ہی میں کیوں نہ ہو۔*
`حدیث ۶:` *حضرت بہز بن حکیم اپنے والد معاویہ کے واسطہ سے اپنے دادا حیدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وَیْلٌ لِّلَّذِیْ یُحَدِّث بِالْحَدِیْثِ لِیُضْحِکَ بِہ الْقَومَ فَیَکْذِبُ ویل لہ ویل لہ․ (ترمذی شریف ۲/۵۵، ابوداؤد ۲/۶۸۱)*
*ترجمہ: جو شخص لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے اس کے لیے بربادی ہو، بربادی ہو، بربادی ہو۔*
*مطلب یہ ہے کہ صرف لطف صحبت اور ہنسنے ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا بھی ممنوع ہے۔*
*آج کل لوگ نت نئے چٹکلے تیار کرتے ہیں اور محض اس لیے جھوٹ بولتے ہیں تاکہ لوگ ہنسیں، انھیں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد رکھنا چاہیے اور اس برے فعل سے باز آنا چاہیے۔*
`✴️ دھوکہ دینا:`
*اپریل فول کی رسم بد میں چوتھا گناہ، مکر وفریب ہے؛ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گناہ پر سخت الفاظ سے وعید بیان فرمائی ہے۔*
*حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا․(مسلم شریف ۱/۷۰)*
*ترجمہ: جو شخص ہم کو (مسلمانوں کو) دھوکا دے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔*
*حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الموٴمنون بَعضُھم لِبَعْضٍ نَصَحَةٌ وَادُّون، وَانْ بَعُدَتْ منازلھم وَاَبْدَانُھُمْ وَالفَجَرَةُ بعضھم لبعضٍ غَشَشَةٌ مُتَخَاوِنُوْنَ وَاِنْ اقْتَرَبَتْ مَنَازِلُھُمْ وَاَبْدَالُھُمْ․ (الترغیب والترہیب ۲/۵۷۵)*
*ترجمہ: موٴمنین آپس میں ایک دوسرے کے خیرخواہ اور محبت کرنے والے ہوتے ہیں اگرچہ ان کے مکانات اور جسم ایک دوسرے سے دور ہوں اور نافرمان لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ دھوکے باز اور خائن ہوتے ہیں، اگر ان کے گھر اور جسم قریب قریب ہوں۔*
*مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ دھوکہ بازی اللہ تعالیٰ سے بغاوت کرنے والوں اور نافرمانوں کا عمل ہے، موٴمنین کا عمل تو ایک دوسرے کے ساتھ خیرخواہی کرنا ہے۔*
*لہٰذا کسی بھی ایمان والے کو دوسروں کے ساتھ دھوکے کا معاملہ نہیں کرنا چاہیے۔* #अल्लाहु अकबर #Islamic baate حدیث شریف #💖💖islamic post💖💖 #🤲क़ुरान शरीफ़📗

