ShareChat
click to see wallet page
search
`دجال` *`دجّال` کے ظہور اور اس کی قتل گاہ کا بیان (3)* `حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:` *”میں ”بنوتمیم“ سے ان تین باتوں کی وجہ سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے متعلق سنیں:* *(١)* `رسول کریم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:` *”یہ لوگ دجال کے مقابلے میں میری امت میں سب سے زیادہ سخت ثابت ہوں گے۔“* *(٢) اور فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) بنوتمیم کے ہاں سے زکوٰۃ (وصول ہوکر) آئی تو* `رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:` *”یہ ”ہماری قوم“ کی زکوٰۃ ہے۔“* *(٣) بنوتمیم کی ایک عورت قید ہوکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تھی،* `آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا:` *”اسے آزاد کردو، کیونکہ یہ حضرت اسماعیل (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی اولاد میں سے ہے۔“* *[صحيح البخاري، رقم الحديث: ٢٥٤٣، وصحيح مسلم، رقم الحديث: ٢٥٢٥]* *`فائدہ:`* *”بنوتمیم“ عرب کا مشہور قبیلہ ہے، یہ لوگ انتہائی بہادر اور سخت جنگجو تھے۔ ان کا سلسلۂ نسب ”الیاس بن مضر“ کے پاس جاکر حضور ﷺ کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے انہیں اپنی قوم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے بتایا ہے۔* *دجال کے خلاف جہاد کرنے میں یہ قبیلہ سب سے آگے ہوگا۔“* #अल्लाहु अकबर #🤲क़ुरान शरीफ़📗 #💖💖islamic post💖💖 #Islamic baate حدیث شریف