the Muslim tv
3K views 2 days ago
1917ء میں عثمانی فوج القدس سے نکل گئی… مگر ایک سپاہی نے مسجدِ اقصیٰ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ 🥺🕌👇 دسمبر 1917ء میں پہلی جنگِ عظیم کے دوران عثمانی فوج کو یروشلم سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ حالات ایسے تھے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے پاس القدس کو اپنے قبضے میں رکھنے کی فوجی طاقت باقی نہیں رہی تھی۔ لیکن انخلا کے دوران کچھ عثمانی سپاہی شہر میں پیچھے رہ گئے تاکہ لوٹ مار اور بدامنی کو روکا جاسکے۔ انہی میں ایک سپاہی عریف حسن، المعروف اونباشی حسن بھی تھا، جو ترکی کے علاقے اَغدر سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کا تعلق عثمانی فوج کے 20ویں کور، 36ویں بٹالین اور مشین گن یونٹ سے بتایا جاتا ہے۔ لیکن باقی سپاہی وقت کے ساتھ اپنی زندگیوں میں واپس چلے گئے یا دنیا سے رخصت ہوگئے، جبکہ حسن کے بارے میں روایت ہے کہ وہ القدس میں ہی رہ گیا۔ اُس نے مسجدِ اقصیٰ سے اپنا تعلق ختم نہیں کیا۔ فلسطینی عالم اور مسجدِ اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے Anadolu کو بتایا کہ حسن صبح مسجد میں سب سے پہلے آنے والوں میں ہوتا اور رات کو سب سے آخر میں نکلتا، اور دن کے بیشتر حصے میں حرم شریف کے ایک مخصوص مقام پر ایسے کھڑا رہتا جیسے آج بھی اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا ہو۔ پھر 21 مئی 1972ء کو ایک ایسا لمحہ آیا جس نے اس خاموش سپاہی کی داستان کو دنیا کے سامنے پہنچا دیا۔ ترک صحافی اور مورخ İlhan Bardakçı مسجدِ اقصیٰ کے دورے پر تھے کہ اُن کی نظر ایک عمر رسیدہ شخص پر پڑی۔ اُس کے جسم پر پرانی عثمانی فوجی وردی تھی اور وہ مسجد کے صحن میں کھڑا تھا۔ جب Bardakçı نے اُس سے ترکی زبان میں بات کی تو معلوم ہوا کہ وہ کوئی عام بوڑھا شخص نہیں بلکہ عثمانی فوج کا وہ سپاہی حسن تھا جو برسوں پہلے القدس میں تعینات ہوا تھا۔ حسن نے اسے بتایا کہ اُس کے ساتھی ایک ایک کرکے دنیا سے چلے گئے اور اب وہ اکیلا رہ گیا ہے۔ روایت کے مطابق حسن نے اُس ملاقات میں اپنے سابق کمانڈر کا بھی ذکر کیا اور Bardakçı سے ایک امانت پہنچانے کی درخواست کی۔ اُس کا پیغام یہ تھا کہ اُس کے کمانڈر کو بتایا جائے کہ اَغدر کا عریف حسن ابھی تک اُسی جگہ موجود ہے جہاں اسے ڈیوٹی پر چھوڑا گیا تھا۔ یہ جملہ محض ایک بوڑھے سپاہی کی یاد نہیں تھا؛ یہ اُس وفاداری کی تصویر بن گیا جس کے ساتھ اُس نے اپنی زندگی کے آخری حصے کو جوڑ دیا تھا۔ Bardakçı نے بعد میں اس ملاقات کو تحریر کیا اور یوں حسن کی داستان ترک عوام تک پہنچی۔ اور پھر ایک عجیب تاریخی دائرہ مکمل ہوا۔ 1917ء میں عثمانی فوج القدس سے نکلی تھی، لیکن حسن کی داستان 1982ء تک جاری رہی۔ 1982ء میں Bardakçı کو یروشلم سے ایک مختصر پیغام ملا کہ مسجدِ اقصیٰ سے وابستہ آخری عثمانی سپاہی وفات پا گیا ہے۔ Anadolu کی رپورٹ بھی حسن کی وفات 1982ء میں بتاتی ہے، جبکہ شیخ عکرمہ صبری کی گواہی کے مطابق وہ اپنی وفات تک مسجدِ اقصیٰ سے جڑا رہا۔ اسی وجہ سے اسے عام طور پر “مسجدِ اقصیٰ کا آخری عثمانی سپاہی” کہا جاتا ہے۔ اس داستان کا سب سے زیادہ اثر کرنے والا پہلو یہ نہیں کہ ایک سپاہی نے 65 سال تک وردی پہن رکھی تھی؛ اصل بات یہ ہے کہ ایک ایسی سلطنت جس کا اقتدار ختم ہوچکا تھا، اُس کا ایک سپاہی اپنی یاد میں اُس جگہ سے جڑا رہا جسے وہ اپنے فرض کا حصہ سمجھتا تھا۔ سلطنت ختم ہوگئی، عثمانی حکومت ختم ہوگئی، اُس کے ساتھی ایک ایک کرکے دنیا سے چلے گئے، مگر حسن کی نسبت سے بیان کی جانے والی یہ روایت بتاتی ہے کہ اُس کے لیے القدس محض ایک تعیناتی کا مقام نہیں رہا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ آج بھی انسان کو اپنے فرض، وفاداری اور مسجدِ اقصیٰ سے تعلق کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ آج ہمارے پاس بڑی بڑی باتیں کرنے کے ذرائع ہیں، لیکن تاریخ ہمیں کبھی کبھی ایک ایسے خاموش انسان کی طرف متوجہ کرتی ہے جو نہ اقتدار میں تھا، نہ اُس کے پاس سلطنت تھی، نہ دنیا کی توجہ؛ اُس کے پاس صرف اُس کی ذمہ داری اور اُس کی وابستگی تھی۔ وہ تاریخ کے بڑے حکمرانوں میں شامل نہیں تھا، مگر اُس کی خاموش وفاداری نے اُس کا نام تاریخ کے ایک خاص باب میں محفوظ کردیا۔ اور شاید حسن کی داستان کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انسان کی عظمت ہمیشہ اُس اختیار سے نہیں ہوتی جو اُس کے ہاتھ میں ہو؛ کبھی اُس عہد سے ہوتی ہے جسے وہ اختیار ختم ہوجانے کے بعد بھی نہیں بھولتا۔ سلطان چلے گئے، سلطنت چلی گئی، فوجیں واپس چلی گئیں، لیکن ایک بوڑھے سپاہی کی نسبت سے بیان کی جانے والی یہ داستان آج بھی القدس کے ساتھ عثمانی دور کی ایک عجیب اور دردناک یاد کے طور پر زندہ ہے۔ 🥺🕌 Post By: Umair Insights #مسجد_اقصیٰ #عریف_حسن #عثمانی_تاریخ #القدس #فلسطین #خلافت_عثمانیہ #اسلامی_تاریخ #🕌بیت المقدس☪️
22 shares

More like this