the Muslim tv
559 views 7 hours ago
#🕌بیت المقدس☪️ مکہ مکرمہ کے شمال مشرق میں واقع مسجدِ جعرانہ اسلامی تاریخ کے ایک اہم مقام کی یادگار ہے۔ جعرانہ کو خاص اہمیت اس نسبت سے حاصل ہے کہ غزوۂ حنین کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اسی مقام سے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ 8 ہجری میں غزوۂ حنین کے بعد مسلمانوں کے پاس بڑی مقدار میں مالِ غنیمت آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے جعرانہ کے مقام پر جمع کروایا اور بعد ازاں مسلمانوں میں تقسیم فرمایا۔ مالِ غنیمت کی تقسیم کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھا اور مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، جہاں آپ ﷺ نے عمرہ ادا فرمایا۔ اسی تاریخی نسبت کی وجہ سے جعرانہ آج بھی مکہ مکرمہ کے قریب ان معروف مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں سے حرم کی حدود سے باہر جا کر عمرے کا احرام باندھا جاتا ہے۔ ایک اہم تاریخی وضاحت: موجودہ مسجدِ جعرانہ کو رسول اللہ ﷺ کی تعمیر کردہ عمارت قرار دینا درست نہیں۔ موجودہ مسجد بعد کے ادوار میں تعمیر اور توسیع کے مراحل سے گزری ہے۔ اس مقام کی اصل اہمیت اس تاریخی نسبت میں ہے کہ یہاں رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا، مالِ غنیمت تقسیم کیا اور پھر عمرے کے لیے احرام باندھا۔ جعرانہ کا یہ تاریخی مقام ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ کے اس دور کی یاد دلاتا ہے جب غزوۂ حنین کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حکمت و بصیرت کے ساتھ معاملات انجام دیے اور پھر اللہ کے گھر کی طرف عمرے کے لیے روانہ ہوئے۔ مقام: جعرانہ، مکہ مکرمہ، سعودی عرب تاریخی نسبت: غزوۂ حنین کے بعد قیام، مالِ غنیمت کی تقسیم اور رسول اللہ ﷺ کا جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھنا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول اللہ ﷺ کو سمجھنے، اس سے سبق حاصل کرنے اور آپ ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
17 likes
13 shares

More like this