ShareChat
click to see wallet page
search
*استاذ سے بغاوت کرنے کے دس نقصانات* 👇🏻👇🏻 1️⃣ علم سے برکت اٹھا لی جاتی ہے: 👇 بغاوت کرنے والا پڑھ تو لیتا ہے، مگر علم نفع نہیں دیتا۔ 2️⃣ فہمِ صحیح سے محرومی: 👇 کتاب سامنے ہوتی ہے مگر مفہوم دل میں نہیں اترتا۔ 3️⃣ ادب کے ختم ہونے سے علم ختم ہو جاتا ہے: 👇 ادب گیا تو علم بھی رخصت ہو گیا۔ 4️⃣ گمراہی کا راستہ کھل جاتا ہے: 👇 استاد کے بغیر طالبِ علم اپنی رائے کو دین سمجھ بیٹھتا ہے۔ 5️⃣ غرور اور خود پسندی پیدا ہو جاتی ہے:👇 وہ خود کو سب سے زیادہ سمجھدار تصور کرنے لگتا ہے۔ 6️⃣ اصلاح سے محرومی: 👇 استاد کی تنبیہ اور اصلاح نہ ملنے سے غلطیاں پختہ ہو جاتی ہیں۔ 7️⃣ علم بے عمل ہو جاتا ہے: 👇 زبان پر باتیں آتی ہیں مگر زندگی میں اثر نہیں ہوتا۔ 8️⃣ علمی بے وزنی اور عدمِ وقار: 👇 ایسے شخص کی بات کو اہلِ علم سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ 9️⃣ فیضِ استاد سے محرومی: 👇 استاد کی دعا، توجہ اور نسبت کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ 🔟 دنیا و آخرت میں نقصان: 👇 نہ دنیا میں علمی مقام ملتا ہے، نہ آخرت میں سرخروئی۔ 💚خلاصہ یہ کہ: جو طالبِ علم استاد کے آگے جھکتا ہے، وہی علم میں بلند ہوتا ہے، اور جو استاد کے سامنے تواضُع و انکساری اختیار نہیں کرتا یا اس سے بغاوت کرتا ہے، وہ علم کی اصل روح کھو بیٹھتا ہے *با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب* #📗حدیث کی باتیں📜 #🕌 نعت شریف🎧
📗حدیث کی باتیں📜 - ShareChat
00:30