the Muslim tv
521 views 10 hours ago
ایک فلسطینی بہن کی چیخ نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے ہلا کر رکھ دیا، کیا انسانیت واقعی مر چکی ہے یا صرف فلسطینی خواتین کے لیے اندھی ہو گئی ہے؟ یہ کہانی ہے ایک فلسطینی قیدی کی، جس نے اپنے وکیل کے ذریعے وہ سچ باہر بھیجا جسے دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ کمیشن آف ڈیٹینیز اینڈ ایکس ڈیٹینیز افیئرز کے پاس درج اس گواہی میں اس خاتون نے بتایا کہ گرفتاری کے لمحے سے ہی اس کا سفر تش۔دد کی ایک لمبی داستان بن گیا۔ اسرائیلی فوج نے تڑکے اس کے گھر پر چھاپہ مارا، اسے مختلف تفتیشی مراکز میں گھسیٹا گیا جہاں گھنٹوں طویل، دنوں پر محیط پوچھ گچھ میں اس کے خاندان کو دھمکیاں دی گئیں اور مسلسل توہین کا نشانہ بنایا گیا۔ سب سے دردناک بات یہ کہ ایک تفتیش کار نے، اس کے واضح اعتراض اور انکار کے باوجود، بار بار اسے ہراساں کیا — ایک ایسا عمل جو نہ صرف انسانی وقار کی پامالی ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی بھی۔ اس کے بعد اسے متعدد بار برہنہ تلاشی سے گزارا گیا، اور آخرکار دامون جیل منتقل کیا گیا جہاں حالات انسانی عزت کی کم از کم سطح سے بھی نیچے تھے — بھیڑ، ناقص خوراک، شدید سردی، حشرات کی بھرمار اور صفائی کے سامان کی قلت۔ یہ کوئی تنہا واقعہ نہیں۔ حقوقِ انسانی کی متعدد تنظیموں سمیت ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فلسطینی قیدیوں کی کمیٹیوں نے بارہا دستاویز کیا ہے کہ دامون اور دیگر اسرائیلی جیلوں میں خواتین قیدیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنا، دھمکیاں دینا اور تذلیل آمیز سلوک ایک منظم پیٹرن کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کا ضمیر اس وقت جاگے گا جب ایک اور عورت کی چیخ ریکارڈ کی جائے گی، یا انصاف صرف کاغذوں میں دفن رہے گا؟ ایک عورت کی عزت، اس کا جسم، اس کا وقار — یہ کسی جنگ کی قیمت نہیں ہو سکتے۔ جب تک عالمی برادری محض بیانات جاری کرتی رہے گی اور احتساب سے گریز کرے گی، ایسی درجنوں کہانیاں سلاخوں کے پیچھے دبی رہیں گی، اور انسانیت کا سر شرم سے جھکا رہے گا۔ #🕌بیت المقدس☪️
14 shares

More like this