the Muslim tv
605 views • 2 days ago
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مومن کو جو بھی تھکاوٹ، بیماری، غم، رنج، تکلیف، حتیٰ کہ کوئی فکر و پریشانی بھی پہنچتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"
حوالہ: کتاب: السلسلہ الصحیحہ | حدیث نمبر: 2341 | درجۂ حدیث: صحیح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے مومن کے لیے بہت بڑی خوشخبری بیان فرمائی ہے کہ دنیا میں آنے والی ہر جائز تکلیف، خواہ وہ جسمانی بیماری ہو، ذہنی پریشانی ہو، غم ہو، تھکاوٹ ہو یا کوئی اور آزمائش، اگر مومن صبر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے کے ساتھ برداشت کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مصیبتوں کے وقت مایوس ہونے یا اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرنے کے بجائے صبر، دعا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے، کیونکہ ہر تکلیف کے ساتھ اللہ تعالیٰ بندے کے گناہوں کو معاف فرما رہا ہوتا ہے اور اس کے درجات بلند کر رہا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص بیماری، مالی تنگی، بے روزگاری یا کسی عزیز کی جدائی کے غم میں مبتلا ہو اور وہ صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھے تو یہی آزمائش اس کے لیے گناہوں کی معافی اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر نہایت مہربان ہے، وہ ان کی آزمائشوں کو بھی ان کے لیے رحمت، گناہوں کی بخشش اور درجات کی بلندی کا سبب بنا دیتا ہے۔ #💞دعا میں یاد رکھنا 🤲🏻
• 23 shares