the Muslim tv
590 views 1 days ago
رات کی خاموش اور پُرسکون گھڑیوں میں رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ اپنے رب کے حضور تہجد کی نماز میں ایسی عبادت، عاجزی اور خشوع کا مظاہرہ فرماتے تھے جو پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کے مطابق آپ ﷺ راتوں کو طویل قیام فرماتے، قرآنِ کریم کی لمبی تلاوت کرتے اور دیر تک سجدوں میں مشغول رہتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عبادت میں اتنی مشقت فرماتے کہ آپ ﷺ کے مبارک قدموں پر اثرات ظاہر ہو جاتے تھے۔ جب عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ ﷺ کی اگلی پچھلی لغزشیں معاف فرما دی ہیں، پھر آپ ﷺ اتنی زیادہ عبادت کیوں فرماتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے نہایت محبت اور عاجزی کے ساتھ ارشاد فرمایا: **«أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا»** **"کیا پھر میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟"** 📖 **(صحیح بخاری: 4837، صحیح مسلم: 2819)** رسول اللہ ﷺ کا یہ مختصر مگر عظیم فرمان عبادت کی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے امت کو سکھایا کہ عبادت صرف خوف یا اجر کی طلب تک محدود نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے، اس کی محبت حاصل کرنے اور اس کی عظمت کا اعتراف کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ جب انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے احسانات کے احساس اور شکر گزاری سے بھر جاتا ہے تو عبادت اس پر بوجھ نہیں رہتی بلکہ دل کا سکون، روح کی غذا اور رب سے قرب حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سب سے بلند مقام وہ ہے جہاں بندہ اپنے رب کی نعمتوں کو پہچان کر محبت اور شکر کے ساتھ اس کے سامنے جھک جائے۔ #📝حضرت ابوبکرؓ کے اقوال✴️
13 likes
9 shares

More like this